مبارک باد تو بنتی ہے۔۔۔
  5  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی جمہوری حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا، ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ۔جتنی تیزی سے انہوں نے اپنا یہ ہدف حاصل کیا ہے اتنی تیزی سے تو شہباز شریف پل بھی نہیں بناتا بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ جس سبک رفتاری کے ساتھ میاں صاحب نے اپنا یہ قول نبھایا ہے اتنی جلدی تو عمران خان یو ٹرن بھی نہیں لیتا ۔جناب وزیر اعظم اپنے حکومتی آقائوں کا ایک اور حکم بجا لائے ہیں اور ان کی خصوصی توجہ سے صدر پاکستان نے بل آخر قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو ملعون قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کردیا ہے، نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ اس پر مبارک باد تو بنتی ہی ہے۔ جناب نواز شریف جب سے تیسری بار سریر آرائے مسند نشیں ہوئے ہیںاس وقت سے ان کی اور ان کے برادرعزیز کی قادیانیوں کے لئے الفت اور محبت کے مظاہر عام ہیں۔ سرکاری عہدوں پر ترقیوں میں انہیں ترجیح دینے کی بات تو پرانی بلکہ عادت بن چکی ہے، پنجاب پولیس کا آئی جی کوئی بھی ہو ختم نبوت ۖاور قادیانیوں سے متعلق امور میںقادیانی افسروں کے لامحدود اختیارات بھی وزیر اعلیٰ ہائوس کے حکم کے بغیر ممکن نہیں یہاں تک کہ ایک قتل کیس کی تفتیش درجنوں بار تبدیل کی گئی، ہر افسر نے اس میں قادیانی جماعت کو ملوث قرار دیا ۔مگر ان قادیانی افسروں نے کھلی مداخلت کی اور ایک جعلی پولی گرافک ٹیسٹ کی بنیاد پر مقدمہ ہی خارج کروادیا گیا ۔اگر کسی نے اس حکومت کے ایوانوں میں قادیانیوں کا پروٹوکول دیکھنا ہو تو سلیم الدین کی آئی جی آفس یا سی ایم ہائوس آمدو رفت دیکھ لے ، یہاں تک کہ برطانیہ میں فراڈ کیس میں سزا یافتہ قادیانی جماعت کا ایک کارندہ اعلیٰ سرکاری دفتروں میں یوں دندناتا پھرتا رہا جیسے پھوپھی کے گھر آیا ہو۔مسلم لیگ کی حکومت کی جانب سے قادیانیوں کے حوالہ سے نرم گوشہ پوری طرح عیاں ہے، اور حیرت کا باعث بھی ہے، کیونکہ نواز شریف خاندان کا مذہبی نظریہ واضع ہے، اس میں کوئی ابہام یا شک والی بات ہی نہیں، ان کے دائیں بائیں اور اعلیٰ عہدوں پر ایسے لوگ ہیں جو قادیانیت کو اچھی طرح جانتے ہی نہیںان کی سازشوں سے بھی باخبر ہیں مگر اس کے باوجود یہ تابعداری نا قابل فہم دکھائی دیتی ہے ۔کیا سیاسی مفادات اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ انسان اپنے عقیدہ اور ایمان کا بھی خیال نہیں رکھتا ؟معلوم نہیں اگر ایسا ہی ہے اور ممکنہ طور پر ایسا ہی دکھائی دیتا ہے تو اس معاملہ میں آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں ان کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ثابت ہوئیں۔ صرف یہی نہیں کہ بھٹو نے قادیانی مسئلہ حل کیا ، بلکہ ریکارڈ پرہے کہ بے نظیر اور آصف زرداری پر جب وہ صدر تھے اس حوالہ سے دبائو آیا قادیانی مفادات کے تحفظ کا مطالبہ رکھا گیا ، زرداری کے دو اہم وزرا نے ان سے بات کی مگر انہیں سختی سے ڈانٹ دیا گیا اور انہیں دوبارہ قادیانی مفادات کی وکالت کی جرات نہیں ہوئی ، قانون توہین رسالت میں ترمیم کی نت نئی افواہوں کا راستہ بھی اسی زرداری دور میں بند کیا گیا ۔ تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ ناموس رسالتۖ اور قادیانی مسئلہ پر لبرل انتہاپسند پیپلز پارٹی مسلم لیگ سے ہمیشہ بہتر ثابت ہوئی ۔ صدر پاکستان کی جانب سے قادیانی ڈاکٹر سلام کو بعد از مرگ نوازنے کے فیصلہ پر صرف حکومت ہی نہیں کچھ اور معزین بھی مبارک کے مستحق ہیں، حکومت کو مبارک تو وہی دیں گے جن کا انہوں نے کام کیا ،شائد صرف مبارک نہیں کچھ حق محنت بھی ان کا حق بنتا ہے ، وہ کسی بھی صورت میں ہو ۔لیکن دیگر معزز و معتبر شخصیات بھی ہیں جو اس معاملہ میں مبارک کی مستحق ہیں،یعنی قبلہ تقدس مآب ،مجاوران ختم نبوت ، صاحبان جبہ و دستار، دینی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کرام ،وارثان ممبر و محراب حضرات علما کرام، داعیان دین متین ،جانثاران ختم نبوتۖ،نقیبان ناموس رسالتۖ، فدایان اسلام اور نا معلوم کیا کیا کیا ۔۔۔۔خادم حرمین کے ریالوں کی خوشبو پر وہ شہر شہر ،قریہ قریہ اور گلی گلی جلسہ وجلوس میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، ان کے نعروں کی گھن گرج سے کمزور دل انسان خزاںرسیدہ پتوںکی طرح کانپ اٹھتے ہیں،ان کے وفاداروں کے لشکر جب نکلتے ہیں تو لوگوں کے دل دہل دہل جاتے ہیں،مگر ناموس رسالتۖ کے ایک منکر ، ختم نبوت ۖکے مقدس عقیدہ پر ڈاکہ ڈالنے والے گروہ کے ایک گرہ کٹ کو حکومت ناجائز اور نا روا طور پر نوازتی ہے تو یہ اس طرح خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، جیسے انہیں کچھ خبر ہی نہیں۔ مبارک باد کی مستحق ہے وہ دفاع پاکستان کونسل بھی کہ جس کی ناک تلے ایک ملک دشمن ایجنٹ کو طلبہ کے لئے رول ماڈل بنادیا گیا اور ان کو ایک بیان تک جاری کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ،مبارک قبول کرے وہ اسلامی جمیعت طلبہ کہ جو تعلیمی اداروں میں خود کو اسلامی اقدار کا چوکیدار قرار دیتی ہے ، مبارک ہو اس جمیعت طلبا اسلام اور انجمن طلبہ اسلام کو بھی کہ جو دین کی علمبردار ہیں ۔ان سب کو مبارک کے ان کے ہوتے ہوئے ان کی موجودگی میں پاکستان کا نیشنل سینڑ برائے فزکس قادیانی غدار کے نام منسوب کردیا گیا، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم نے اس کے نام سے فیلو شپ کا بھی اجرا کر دیا ہے ۔ یہ سب جو ملک بھر میں دین کے نام پر سیاست اور عزت کے دعوے دار ہیں، کیا ممکن نہیں تھا کہ ان کا ایک وفد وزیر اعظم کو ملتا ؟، کیا یہ بعید از قیاس ہے کہ یہ لوگ حکومت سے پر امن جمہوری اندازمیں اس امر سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے اور ان کی بات نا مانی جاتی ؟ لیکن ان کے لئے اب یہ معاملہ ترجیح ہوتا یا اس کے ساتھ بھی ریالوں کا کوئی چکر ہوتا تو دیکھتے حکومت کس طرح یہ فیصلہ کرتی ۔ گلہ حکومت سے نہیں ، شکوہ وزیر اعظم سے نہیں ،وہ رجال سیاست ہیں، جو انہیں اپنے مفاد میں دکھائی دیگا کریں گے ، مگر یہ صاحبان جبہ ودستار؟ ،یہ واثان منبر ومحراب؟ ، یہ جانثاران ختم نبوت ؟ مبارک :حضور مبارک ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved