معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
  5  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) دوسری قابل توجہ مثال یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں جناب رسول اکرمۖ پر ایمان کا اظہار کرنے والوں میں منافقین کا وہ گروہ بھی شامل تھا جسے قرآن کریم نے وماھم بممنین اور انھم لکاذبون کا خطاب دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو اس گروہ کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم قرآن کریم میں ان الفاظ میں ہوا کہ جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم۔ مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے دس سال تک اس گروہ کے خلاف معروف معنوں میں کوکئی جہاد نہیں کیا، نہ عسکری کاروائی کی اور نہ ہی کوئی اجتماعی ایکشن لیا۔ البتہ حکمت عملی ایسی اختیار کی کہ وہ بتدریج سوسائٹی میں تحلیل ہوتے چلے گئے۔ حتی کہ خلافت راشدہ کے دور میں اس قسم کے کسی گروہ کا مدینہ منورہ میں سراغ نہیں ملتا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حکمت عملی اگر ظاہری نصوص میں تلاش کی جائے تو شاید استدلال و استنباط کے معروف دائروں میں نہ ملے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل طرزِ عمل کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا ایک ایک مرحلہ ترتیب کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔ یہ دو باتیں میں نے بطور مثال پیش کی ہیں ورنہ اس پہلو سے سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سے امور ایسے ملیں گے جن کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صریح ارشاد یا متعین عمل پر نہیں بلکہ مسلسل طرز عمل اور رویہ پر دکھائی دے گی۔ اس لیے میں یہ گزارش کر رہا ہوں کہ حدیث و سنت کی طرح سیرت کو بھی استنباط و استدلال کا مستقل ماخذ بنانے کی ضرورت ہے جو اصلا ًتو حدیث و سنت کے دائرہ میں ہی شامل ہے لیکن وہ امتیاز و فرق جس کی وجہ سے سیرت کو حدیث و سنت سے الگ کر کے علمی ذخیرہ میں مستقل طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ استنباط و استدلال میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔ اور فقہ القرآن، فقہ الحدیث اور فقہ السن کی طرح فقہ السیر کو بھی علمی حلقوں میں موضوع بحث بنایا جانا چاہیے۔ دوسری بات یہ عرض کروں گا کہ اس وقت انسانی سوسائٹی میں فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کی جو کشمکش جاری ہے وہ رفتہ رفتہ فیصلہ کن مراحل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اور اگرچہ دیگر تہذیبیں اور فلسفے بھی اس کشمکش میں شریک نظر آتے ہیں لیکن فائنل رانڈ اسلام اور مغربی تہذیب و فلسفہ کے درمیان ہی ہوگا۔ مغرب کا فلسفہ و تہذیب اس وقت غالب و قابض فلسفہ ہے جبکہ اسلامی فکر و فلسفہ نہ صرف مزاحمت کر رہا ہے بلکہ انسانی سوسائٹی کی قیادت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان دونوں فلسفوں اور تہذیبوں کے درمیان اس بات پر کشمکش جاری ہے کہ مستقبل میں گلوبل انسانی سوسائٹی کی قیادت کون کرے گا؟ مغرب تو موجودہ کیفیت کو اینڈ آف دی ہسٹری قرار دے کر اپنے دائمی قبضے کا اعلان کر رہا ہے لیکن اسلامی تہذیب و ثقافت نے دست برداری اور سپر اندازی قبول نہیں کی اور ابھی ان دونوں کے درمیان جنگ جاری ہے جس کا حتمی نتیجہ آخری رانڈ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ مغرب کے پاس قبضہ اور قوت ہے جس کے باعث وہ خود کو فاتح سمجھ رہا ہے جبکہ مسلمانوں کے پاس دلیل اور حسین ماضی ہے جس کے سہارے وہ یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمارا موضوع چونکہ فکری تحدیات ہیں اس لیے دلیل کی دنیا میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ مغرب کی دانش کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ وجدانیات، وحی اور آسمانی تعلیمات سے مکمل دستبرداری کے انسانی سوسائٹی پر منفی نتائج سامنے آئے ہیں اس لیے اس پر نظر ثانی کی بہرحال ضرورت ہے۔ یہ بات سابق برطانوی وزیر اعظم جان میجر بیک ٹو بیسکس کے ٹائٹل کے ساتھ کہتے رہے ہیں، شہزادہ چارلس وجدانیات کی طرف واپسی کی ضرورت کا احساس دلاتے رہتے ہیں، جبکہ امریکی یونیورسٹیوں میں وحی اور عقل کے درمیان توازن کی تلاش تحقیقی سرگرمیوں کا اہم عنوان بن چکی ہے۔ میں سیاست اور طاقت کے میدان کی بات نہیں کر رہا کہ وہاں تو مغرب کی مکمل اجارہ داری ہے مگر دلیل کی دنیا میں مغربی دانش کی ایک سطح اپنے فکر و فلسفہ کی بنیادوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ریورس گیئر لگ چکا ہے اور الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑے علمی و فکری مشاہدہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مغرب کو اس واپسی کے لیے باعزت راستہ دینے کے لیے تیار ہیں؟ ہمارا مزاج اور نفسیات کم و بیش اس طرح کی بن چکی ہیں کہ ناک کی لکیریں نکلوائے بغیر کسی کو واپسی کا راستہ دینا ہمارے لیے مشکل عمل ہوتا ہے۔ جبکہ میرے خیال میں اب اس کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ ہم دلیل و دانش کی دنیا میں مغرب کو واپسی کا باعزت راستہ دینے کی فکر کریں، اس کی راہ نمائی کرتے ہوئے اس کے سامنے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو آج کی زبان اور مغرب کی نفسیات کا لحاظ رکھتے ہوئے پیش کریں، اور عقل اور وحی کے مابین توازن کے مکالمہ میں شریک ہو کر وحی کی ضرورت و برتری کو ثابت کریں۔ میری طالب علمانہ رائے میں اس وقت ہمارے جامعات اور دینی مدارس کو سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ جس طرح مغرب نے استشراق کے نام سے اسلام اور مسلمانوں کا وسیع اور گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسے ہمارے خلاف پوری مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے، اسی طرح ہم بھی مغرب کے فلسفہ و تہذیب اور معاشرت کا مطالعہ کریں اور تحقیق و تجزیہ کے ذریعہ اس کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسلامی احکام و قوانین کی برتری کو واضح کریں۔ یہ کام بہت محنت طلب ہے اور جگر کاوی کا عمل ہے کہ اس کے لیے دماغ کی اعلی صلاحیتوں کے استعمال میں قلب و جگر کا خون بھی جلانا ہوگا۔ یہ سطحی اور جذباتی کام نہیں ہے لیکن اس کے بغیر اب بات آگے نہیں بڑھے گی، یہ کام بہرحال کرنا ہوگا اور جامعات کو دینی مدارس و مراکز کے ساتھ مل کر کرنا ہوگا۔ موجودہ عالمی ماحول میں فکری تحدیات کا تیسرا دائرہ میری طالب علمانہ رائے میں یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں حکومتوں کی نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے۔ معاہدات نے پوری دنیا کو جکڑ رکھا ہے۔ میرے نزدیک صرف وہ پانچ ملک اس وقت آزاد ملک کہلانے کے مستحق ہیں جن کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو پاور ہے، ان کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک اس طرح کا آزاد اور خودمختار ملک نہیں ہے کہ وہ اپنی پالیسی اپنی اور اپنے عوام کی مرضی سے خود طے کر سکے۔ سب کے سب بین الاقوامی معاہدات کے اسیر اور پابند ہیں جن سے انحراف کی صورت میں وہی کچھ ہوتا ہے جو افغانستان اور عراق میں ہو چکا ہے۔ ان معاہدات کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی طور پر حکومتوں کو جکڑ رکھا ہے اور ان کی خودمختاری کو قبضے میں لیا ہوا ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا پہلو علمی، فکری اور تہذیبی ہے کہ یہ معاہدات مغربی تہذیب و فلسفہ کے علاوہ باقی سب کی نفی کر رہے ہیں اور ان کی زد میں سب سے زیادہ اسلام کے احکام و قوانین ہیں۔ قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو بین الاقوامی معاہدات کی چھلنیوں سے گزار کر ان کی نفی کی جا رہی ہے، استہزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلمانوں پر ان سے دستبردار ہونے کے لیے ہر طرح کا دبا ڈالا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کا علمی و فکری تقاضہ یہ ہے کہ ان کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے، اسلامی عقیدہ و ثقافت کے ساتھ ان معاہدات کے ٹکرا اور تضادات کی نشاندہی کی جائے اور اسلام کا موقف واضح کیا جائے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب معاہدات کو یکسر مسترد کر دیا جائے اور نہ ہی یہ کہ انہیں من و عن قبول کر لیا جائے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہوں گی، اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی معاہدات اور اسلامی تعلیمات کا تقابلی جائزہ لے کر بتایا جائے کہ کون سی باتیں قابل قبول ہیں اور کون سی قابل قبول نہیں ہیں۔ کن باتوں پر کسی درجہ میں مفاہمت ہو سکتی ہے اور کون سے امور ہیں جنہیں کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالہ سے مغرب کو ایک متوازن موقف سے دوٹوک طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اور اس سلسلہ میں امت مسلمہ کی راہنمائی ضروری ہے جو ہماری یونیورسٹیوں اور دینی مراکز کے کرنے کا کام ہے اور سنجیدہ علمی شخصیات کی نگرانی میں کرنے کا کام ہے۔ آخر میں گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی اس علمی و فکری کاوش پر ایک بار پھر یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اسلام اور امت مسلمہ کی صحیح خدمت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved