قانون واقعی اندھا ہوتا ہے؟
  5  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ملک اور قوم کو بارشیں مبارک! یہ جاری رہیں تو گندم کی فصل بچ جائے گی، دھند اور بہت سی بیماریوں کا خاتمہ ہوسکے گا۔ غلط سلط پیش گوئیوں پرایک بار پھر محکمہ موسمیات کاشکریہ کہ وہ اپنا روائتی کام بڑی 'خوش اسلوبی' سے انجام دے رہاہے۔ دسمبر کے آخر میں اعلان کیا کہ جنوری میں بھی بارش کاکوئی امکان نہیں اور جنوری کے آغاز میں ہی بارشیں اور برف باری شروع ہوگئی۔ اب پیش گوئیوں کا کیا ہے، شیخ رشید کی درجنوں پیش گوئیاں! کوئی بھی پوری نہ ہوسکی۔ اب خاموشی اختیار کرلی ہے۔ ٭اسلام آباد میں سات سالہ بچی پر انسانیت سوز تشدد کا مسئلہ ٹھپ ہوگیا۔ ایک نچلے درجے کے جج کی فیملی ملوث ہورہی تھی، پولیس کیسے اس بچی کامعاملہ آگے لے جاتی؟ پہلے روز سے ہی بچی سے اپنی مرضی کے بیانات لئے جانے لگے۔ بچی نے پہلے روز سادگی میں بیان دیا کہ مالکن نے اس کے منہ پر کوئی چیز ماری اور اس کے دونوں ہاتھ جلتے توے پر رکھ دیئے۔ جرم یہ تھا کہ بچی سے کہیں جھاڑو گم ہوگیا تھا۔ بچے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو بچی کا 'بیان' بدل گیا کہ میں سیڑھیوں سے گر پڑی تھی اور چولہے پر آگ جلاتے وقت میرے کپڑوں کو آگ لگ گئی۔ میں نے ہاتھوں سے بجھایا تو ہاتھ جل گئے( مالکن نے آگ نہیں بجھائی)۔ پھر تیسرا بیان آیا کہ مالکن نے منہ پر بڑا چمچہ مارا جو میری آنکھ پر لگا! پہلے صاف بیان آتا رہا کہ بچی کے والدین کا کچھ پتہ نہیں! بچی کوکچھ معلوم نہیں۔ پھر پولیس نے اچانک ماں باپ تلاش کرلئے۔ انہوں نے متعلقہ جج کی فیملی کو معاف کردیااور کیس ختم کردیاگیا مگر اس دوران تین والدین اورنمودار ہوگئے! اب ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ٭قارئین کرام! ایک بڑے ٹیلی ویژن نے اس سارے واقعہ کے بارے میں صرف تین الفاظ کی سرخی سے سب کچھ بیان کردیاکہ ''انصاف اندھا ہوگیا'' ۔ سارا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انصاف کا غریبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ابھی کل ہی فاضل سپریم کورٹ کے ریمارکس نمایاں شائع ہوئے ہیں کہ ''ڈھائی سو روپے کے جرم والا غریب شخص جیل میں چلا جاتا ہے اور ڈھائی کروڑ کے جرم والا آزاد پھرتا ہے''! اسلام آباد والی معصوم 7سالہ بچی کسی غریب ماں باپ کی بیٹی تھی، اس کا کیس تو ختم ہوناہی تھا۔ اس بے چاری نے پولیس کا اور اس نظام کاکیا بگاڑلینا تھا! مگر پولیس کسی جج کو کیسے ناراض کرسکتی تھی؟ وہ دور گیا جب 1930ء کے عشرہ میں خانیوال کے ایک مقامی سول جج نے انگریز ڈپٹی کمشنر کے خلاف کوئی فیصلہ دیا تو پوری انگریز حکومت ہِل گئی تھی بات برطانیہ پریوی کونسل تک جاپہنچی مگر لاہور ہائی کورٹ کے انگریز چیف جسٹس ڈگلس ینگ نے تاریخی فیصلہ دیا کہ سول جج مقامی ہے یا کوئی اور، وہ سلطنت برطانیہ کے نظامِ عدل کا حصہ ہے۔ اس کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہوسکتی ہے مگراسے طاقت کے زورپر ختم نہیں کیاجاسکتا ۔ چیف جسٹس نے بہت واضح طورپر بات طے کردی کہ جس کسی سلطنت میں قانون کی حکمرانی کمزور ہو جائے وہاں حکمرانی برقرارنہیں رہ سکتی۔ مجھے قانون پسندی کی اور مثالیں بھی یاد آرہی ہیں۔ دوبرس پہلے برطانیہ کے شاہی خاندان کے ولی عہدشہزادہ چارلس (آئندہ بادشاہ) کی گاڑی نے مقررہ رفتارکی خلافت ورزی کی تو ٹریفک کے کانسٹیبل نے چالان کردیا۔ معاملہ عدالت میں گیا، عدالت نے شہزادے کو عام جرمانہ کی بجائے ڈیڑھ گنا جرمانہ کردیا کہ بادشاہ تو خود قانون کا محافظ ہوتا ہے۔ اس کی قانون کی خلاف ورزی زیادہ سنگین بات ہے۔ شہزادہ چالیس نے خاموشی سے جرمانہ ادا کردیا! میری تاریخ بتاتی کہ قاضی شریع کے طلب کرنے پر خلیفہ المسلمین حضرت علی جیسی اعلیٰ برگزیدہ شخصیت عدالت میں پیش ہوگئی۔ بہت سی اور بھی مثالیں ہیں۔ میں کہاں قانون پسندی کی باتیں لے بیٹھا ہوں! کون سا قانون؟ کہاں کا قانون! اس ملک کا آئین کہتا ہے (248) کہ صدر گورنراوروزیراعظم کوئی بھی جرم کریں، کسی کو قتل بھی کردیں تو قانون کچھ نہیں کرسکتا! سو اے ساکنان خطہ آباد وآزاد!! ایک غریب بچی کے ساتھ ظلم کا کیا مسئلہ ! لاہورمیں قصور سے ادھارلے کر لاہور کے ہسپتالوں میں خوار ہونے اور بالآخر ایک ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تین گھنٹے تڑ پنے کے بعد چل بسنے والی غریب معمر عورت کی درد ناک موت کے بارے میں قانون نے کیا کارروائی کی۔ اربوں ، کھربوں لوٹنے والے لوٹ مار کا معمولی حصہ نیب کے مگرمچھوں کودے کر چھوٹ گئے، قانون کہاں گیا؟… ٹیلی ویژن پر سرخی پھریاد آرہی ہے کہ 'قانون اندھا ہوگیا'۔ ٭قارئین کرام! یہ باتیں بہت تلخ ہیں۔ ملک کو لوٹ کرباہر بے حدو حساب اثاثے بنانے والوں کا کسی نے کیا بگاڑ لیا۔ مجھے اس موقع پر حضرت بابافرید الدین گنج شکر کے دوشعر یاد آگئے ہیں۔ حضرت گنج شکر کوپنجابی زبان کا پہلا شاعر قراردیاجاتا ہے۔دیکھئے کیا فرماتے ہیں، کہتے ہیں:۔ فریدا ! کوٹھے منڈپ ماڑیاں، اسا ریندے بھی گئے کُوڑا سودا کر گئے، گوریں آپئے ترجمہ: اے فرید!وہ جنہوں نے محل ، بڑی عمارتیں اور عالی شان گھر تعمیر کئے، سب چلے گئے، انہوں نے اپنی رُوحوں کا کوڑا کرکٹ کے ساتھ سودا کیا اور پھر قبروں میں گر گئے۔ ٭بابا فرید کہتے ہیں:۔ فریدا خاک نہ نندیے، خاکو جیڈ نہ کوئ جِیوندیاں پیراں تلے، مویاں اُپر ہوئ ترجمہ: اے فرید ! خاک کو حقیر نہ جان، خاک جیسی کوئی چیز نہیں، زندگی میں یہ پاؤں تلے اورموت کے بعد اوپر آجاتی ہے۔ ٭میں کچھ کہہ نہیں سکتاکہ کسی موجودہ یا سابق حکمران نے کبھی حضرت بابا فرید یا کسی دوسرے نامور صوفیا کا کوئی کلام پڑھا ہے یا نہیں؟دولت کے سب ڈھیر باہر ہی رہ جاتے ہیں اور خاک جسموں کو چھپالیتی ہے۔ ٭نیا سال مبارک! صرف دو دنوں میں گھی کی قیمت میں 10روپے، چینی کی قیمت میں5روپے، سی این جی کی قیمت میں دو روپے20پیسے، کراچی میں بجلی کی قیمت میں 60 پیسے کااضافہ! ابھی360 دن پڑے ہیں! ٭سندھ حکومت کے سرپرست آصف زرداری ڈاکٹر عاصم حسین کو ملنے ان کے ہسپتال میں گئے۔ ہسپتال کے باہر گٹر کا گندا پانی جمع تھا۔ اس میں سے گزر کر ساری گاڑیاں ہسپتال تک پہنچیں۔ کراچی کے میئر نے صاف ہاتھ اٹھا لیا ہے کہ شہر میں ہزاروں لاکھوں من کچرا چھ ماہ میں بھی صاف نہیں کیاجاسکتا! اپنے شہر کا یہ حال اور پورا ملک فتح کرنے کے خواب! ٭سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ محکمہ ورکس کے اجلاس میں برہم ہوگئے کہ گزشتہ روز میں نے موڈ دکھایا تو ایک روز کے اندر پانچ اہم سکیموں کاکام مکمل ہوگیا۔ اس بات پر کیا تبصرہ ہوسکتا ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved