بھارتی سازش....ہوشیارباش
  6  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بھارت میں ان دنوں تین درجن سے زائدعلیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اوربعض ریاستوںمیں توعملی طورپرعلیحدگی پسندوں کااس قدرغلبہ ہے کہ وہاں کے باسیوں کے انتظام انصرام کیلئے باقاعدہ ٹیکس کانظام بھی انہوں نے جاری کررکھاہے اوربھارتی پولیس اورفوج وہاں جانے سے نہ صرف گریزاں ہے بلکہ بعض اوقات وہاں سے گزرنے کیلئے انہیں بھاری رقوم کی ادائیگی بھی کرتی ہیں لیکن ان تمام کمزوریوں کے باوجودمسئلہ کشمیرنے برہمن سامراج اوراس کی ظالمانہ فورسزکی رات کی نیندیں بھی حرام کررکھی ہیں ۔کشمیرمیں ہونے والی جدوجہدآزادیٔ کی گونج اب مغربی دنیااورخوداس کے نئے رفیق کارامریکاکوبھی پریشان کررہی ہے اوروہاں کے سیاسی بزرجمہراس مسئلے کوآئندہ کی عالمی ایٹمی جنگ کاپیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی دباؤ کودیکھتے ہوئے اب بھارت کشمیرکی مسلمان آبادی کواقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے نت نئی سازشوں کاجال بچھاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے فرارہونے والے ہندوؤں کوکشمیرمیں بسانے کیلئے کشمیرکی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے آبادکرنے کے عملی اقدامات شروع کرچکاہے۔ اس حوالے سے شہریت کاطریقہ کارکوآسان بنایاجارہاہے۔گزشتہ دنوں بھارتی وزارتِ داخلہ کے ایک افسرنے نئی دہلی میں بتایاکہ پاکستان میں موجوداقلیتیں بھارت میں طویل عرصہ قیام کرنے ،جائیدادیں خریدنے،بینک اکاؤنٹ کھلوانے اورمستقل اکاؤنٹ نمبررکھنے کی اہل ہوں گی جبکہ انہیں ادھارکارڈ بھی جاری کئے جائیں گے،وہ بھارت میں نوکریاں اورکاروباربھی کرسکیں گی۔ بھارتی افسرکے بقول دوسال تک آٹھ اضلاع کے کلکٹراورضلعی مجسٹریٹوں کے پاس کم فیس جمع پرشہریت دینے کااختیارہوگا۔ان میں راجپور، احمد آباد،گاندھی نگر،راجکوٹ ،کچھ ،پتن (گجرات) بھوپال، اندور (مدھیہ پردیش)ناگپور، ممبئی،پونے، تھانے (مہاراشٹر) مغربی اورجنوبی دہلی،جودھ پور، جیسکرجے پوراورلکھنو شامل ہیں۔بھارتی افسرکے بقول ابھی یہ ایک منصوبہ ہے ،جس پرمشاورت ہوناباقی ہے جبکہ عوام سے اس حوالے سے تجاویزپیش کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے ۔اس وقت بھارت میں دولاکھ سے زائد ایسے ہندواورسکھ باشندے قیام پذیرہیںجوبوجوہ پاکستان ،افغانستان اوربنگلہ دیش سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں جبکہ بھارتی پروپیگنڈے سے ہر سال پانچ ہزار ہندواپنے علاقے چھوڑکربیوی بچوں اوراہل خانہ سمیت بھارت منتقل ہورہے ہیں جہاں انہیں نفرت انگیزاورتیسرے درجے کے فردکے سلوک کاسامناہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں ایسے ہی افرادکوسکونتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے شروع کردیئے گئے ہیں جس پرتمام کشمیری رہنماء شدیدسراپااحتجاج ہیں۔ اس وقت بھارت میں بالخصوص بی جے پی کی موجودہ مودی سرکارکے دورمیں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اوردوسری اقلیتوں کی جودرگت بن رہی ہے اورحکومتی سرپرستی میں انہیں جس طرح جبری ہندو بنایاجارہاہے ،اس کے پیش نظربھارت کے سیکولرچہرے اورآہنساکے پرچارکی مکمل قلعی کھل چکی ہے جبکہ اقوام عالم کواسی حوالے سے انتہاء پسندجنونی ہندوؤں کی نمائندہ مودی سرکارکے ہاتھوں علاقائی اورعالمی امن کوسخت خطرات لاحق نظرآتے ہیں،اس لئے عملاً ہندوریاست میں تبدیل ہوتے بھارت میں کوئی اقلیت وہاں مستقل رہائش اور شہریت حاصل کرنے کارسک لینے کی روادارنہیں ہوسکتی۔یہ صرف اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کوبدنام کرنے کی نئی چال توہوسکتی ہے مگراس منصوبے میں اقلیتوں ہندوؤں کی فلاح کی سوچ کاتصوربھی بعیدازقیاس ہے۔بھارت میں مسلم سکھ عیسائی اقلیتیں توکجا نچلی ذات کے دلت ہندوؤں کابھی جنونی برہمنوں اورکھتریوں کے ہاتھوں جینا دوبھر ہو چکا ہے ۔مغربی دنیاکوشایدبھارت میں مسلمان اقلیتوں کوجبری ہندوبنانے پرزیادہ تشویش لاحق نہیں ہوئی ہوگی مگرعیسائیوں کوجبری ہندوبنانے کے بھارتی اقدامات نے مغرب کو دہلا کررکھ دیاہے اوراسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قراردیکربھارت پرہندوانتہاء پسندی کے رحجان کوروکنے کیلئے دباؤ ڈالاجارہاہے جبکہ بھارت پاکستان کی سا لمیت کے خلاف اپنی سازشی منصوبے کے تسلسل میں پاکستان میں ہندواقلیتوں پر مبینہ مظالم کاڈرامہ رچاکرانہیں بھارتی شہریت کاچکمہ دیکرجنونی ہندومعاشرے کے خلاف بڑھنے والے عالمی دباؤکارخ تبدیل کرنے کے منصوبے کوعملی جامہ پہناناچاہتاہے۔ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں اندرونِ سندھ سے ہندوخاندانوں کی بھارت نقل مکانی کاسلسلہ بھی پاکستان کواقوامِ عالم میں بدنام کرنے کی سازشوں کی بنیادپرہی شروع ہواتھاجو ایک ہندولڑکی کے اپنی خوشی سے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان سے شادی کرنے کے بعدبھارتی زہریلے پروپیگنڈے کے باعث شروع ہواجبکہ اس کے برعکس پاکستان بالخصوص اندرونِ سندھ آبادہندواقلیتوں کوپاکستانی شہری کی حیثیت سے مساوی حقوق حاصل ہیں حتیٰ کہ انہیں مکمل مذہبی آزادی بھی حاصل ہے اوراب ہندومیاں بیوی میں علیحدگی کاقانون بھی بھارت کے فیملی لازکے قالب میں ڈھال کراسے ہندوبرادری کے مذہبی تقاضوں کے مطابق بنادیاگیاہے جس کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل نے باقاعدہ سفارشات مرتب کی تھیں ،اس کے برعکس بھارت میں آج بھی مسلمان اقلیتوں پرمسلم پرسنل لاء کااطلاق نہیں۔اس حوالے سے دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری نے بھارتی عدالتوں کی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت پرسخت تشویش کابھی اظہارکیاہے جبکہ بھارت میں آباداقلیتوں کی مذہبی آزادی کاسلب کرنااوربالخصوص مسلمان اقلیتوں کواپنے مذہب کی روشنی میں گائے ذبح کرنے اوراس کاگوشت کھانے کی پاداش میں جنونی ہندوؤں کی جانب سے قتل وغارت گری سے دوچارکرناہندومعاشرے کاوتیرہ بن چکاہے۔ (جاری ہے) غیرمنقسم برصغیرمیں بھی ہندوانتہاء پسندوں اورساہوکاروں نے مسلمانوں کااسی طرح ناطقہ تنگ کیاہواتھاجس کے ردّ ِ عمل میں مسلمانوں میں اپنے لئے الگ ملک حاصل کرنے کی سوچ پیداہوئی۔اس تناظرمیں دوقومی نظریہ اورنظریہ پاکستان کی بات کی جاتی ہے تویہ نظریہ درحقیقت جنونی ہندوؤں کااپناتخلیق کردہ ہے جنہوں نے اپنے جابرانہ رویے اوراستحصال کے باعث مسلمانوں کوالگ ملک کی تحریک چلانے پرمجبورکیاتھاجبکہ ہندوذہنیت اس کے بعدبھی تبدیل نہیں ہوئی اورآج بھارت میں مسلمان ہی نہیںدوسری اقلیتوں کا جینابھی دوبھرہوچکاہے جوبڑھتی ہوئی ہندوانتہاء پسندی سے عاجزآکریاتومجبوراًہندومذہب قبول کررہے ہیںیاملک چھوڑکردوسرے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں جبکہ بھارت میں آبادمسلمان اقلیتیں جن کی تعداداس وقت عملاً٤٢کروڑکے لگ بھگ ہے ۔ہندوانتہاء پسندی خودپرڈھائے جانے والے مظالم اوراپنی مذہبی آزادیاں سلب ہونے کے نتیجے میں بھارت کے اندرپھردوقومی نظریہ کی بنیادرکھ رہی ہے۔ بھارتی اقلیتوں میں پیداہونے والے اضطراب کے باعث جنونی ہندوؤں کی نمائندہ مودی سرکارکوپریشانی لاحق ہوئی ہے اوروہ بھارتی اقلیتوں کے اس اضطراب سے دنیاکی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کی اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کوبھارت کی شہریت دینے اورمقبوضہ کشمیرمیں آبادکرنے کے سازشی منصوبے پرعمل کررہی ہے تاکہ وہاں کی مسلم آبادی کی اکثریت کے مقابلے میں ہندوؤں کی تعدادبڑھائی جاسکے،جس پر حریت رہنماء شدیدسراپااحتجاج ہیں اورعین ممکن ہے کہ یہ معاملہ مزیدشدت اختیار کرکے ایک اوربڑی تحریک کاسبب بن جائے جوبھارت کے تمام سازشی اورظالمانہ منصوبوں کوہمالیہ کے کوہستانوں میں دفن کردیں۔ اگربھارت میں اقلیتوں کوہندوؤں جیسے حقوق اورمکمل مذہبی آزادی حاصل ہوتی تویہ اقلیتیں مختلف ایشوزپرمودی سرکارکے خلاف سراپااحتجاج بنی کیوں نظرآتیں اس وقت اگر بھارت کے اندرسے ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے آوازاٹھ رہی ہے اورارون دھتی جیسی ہندوبھارتی دانشوربھی کشمیرپربھارتی تسلط کے خلاف بھارت سرکارکوآئینہ دکھارہی ہیں جبکہ بھارتی اقلیتوں کوجبری ہندوبنانے اورہندوانتہاء پسندتنظیموں آرایس ایس اورشیوسیناکے مسلمان اقلیتوں پربڑھتے ہوئے حملوں کے ردّ ِ عمل میں بھارتی سابق فوجی افسر احتجاجاًاپنے قومی اعزازات واپس کررہے ہیں اوراسی طرح بھارتی دانشورفنکاراورکھلاڑی بھی بھارت سرکارکواپنااحتجاج ریکارڈ کرارہے ہیںتویہ ان کے ہندوانتہاء پسندی سے عاجز آنے ہی کی دلیل ہے،اس کے برعکس پاکستان میں آبادسکھوں ،عیسائیوں اورہندوؤں کوبطورشہری تمام حقوق اورانہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہے چنانچہ وہ بیساکھی ،دیوالی اورہولی کے تہوارمذہبی جوش وخروش سے پوری آزادی کے ساتھ مناتے ہیں اورہمارے حکمرانوں سمیت مختلف طبقات زندگی کے نمائندگان پاکستانی اقلیتو ں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے ان کے مذہبی تہواروں میں خودشریک ہوتے ہیںجبکہ باباگورونانک کے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت کیلئے لاہور،ننکانہ صاحب،حسن ابدال اورملک کے دوسرے شہروں میں آنے والے بھارتی سکھ حکومت پاکستان اورانتظامیہ کے خصوصی انتظامات اورپاکستانی شہریوں کے حسن سلوک کی تعریف کرتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں بھی نہ صرف پاکستان کی ہندوبرادری روایتی جوش وجذبے سے شریک ہوتی ہے بلکہ بھارت اوردوسرے ممالک سے بھی مکمل رعایت اورسہولتوں کے ساتھ ہندومرداورعورتیں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آکریہاں ہندوبرادری کی خوشیوں میں شریک ہوتی ہیںجبکہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت اورتزئین و آرائش کی ذمہ داریاں بھی متروک وقف املاک کے زیر انتظام بحسن وخوبی اداکی جارہی ہیں۔اس کے برعکس بھارت میں مسلمان،سکھ اورعیسائی اقلیتیں توکجاان کی مساجد،گرجا گھر گوردوارے بھی محفوظ نہیںجہاں جنونی ہندوآئے روزبھارتی اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلتے نظرآتے ہیں۔ اقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے بھارت کایہ بھیانک چہرہ آج پوری دنیامیں بے نقاب ہورہاہے تووہاں نقل مکانی کرکے آنے والی دوسرے ممالک بالخصوص پاکستانی اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کے نئے ڈرامے پربھلاکس کویقین آئے گاتاہم ہمارے دفترخارجہ کواس معاملہ پرخاموش نہیں بیٹھناچاہئے اوراقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیلئے تیارکی گئی اس نئی بھارتی سازش کابھی مؤثرتوڑکرناچاہئے۔ہندوبنیاتوبہرصورت اپنے شروع دن کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کوچین سے نہ بیٹھنے دینے کی پالیسی پرگامزن ہے،ہمیں اس کی سازشوں سے غافل نہیں رہناچاہئے۔ ٧٤٩١ء کی میں ہندوستان کی تقسیم کے بعدبھارت کے ہندولیڈروں نے وقتی طورپراقلیتوں کی ہمدردیاں لینے کی خاطرنعرہ لگایاتھاکہ بھارت کاکوئی سرکاری مذہب نہیں ہوگا،یہ ایک سیکولرریاست ہوگی جہاں ہندومسلمان عیسائی سکھ اوردیگرمذاہب کے ماننے والوں کویکساں حقوق حاصل ہوں گے۔اپنے اس دعوے اورنعرے کوسچ ثابت کرنے کی خاطرآئین میں بھی بھارت کوسیکولرریاست قراردے دیاگیالیکن عملی طورپرسب اس کے الٹ ہوااورمسلمانوں اوردیگراقلیتوں کومتعصب ہندوؤں کی طرف سے روزِ اوّل سے ہی امتیازی سلوک کاسامناکرناپڑرہاہے۔ معروف صحافی اورادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب''دی اینڈآف انڈیا''میں کہاتھا:بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے،پاکستان یادنیاکوکوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گابلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ روّیوں کی بدولت خودکشی کاارتکاب کرے گا۔ڈاکٹرامبیدکرجوبھارت کے آئین کے معمارہیں ،ہندوہونے کے باوجودکہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتوہوگیا ،اس لئے کہ پیدائش پرمیرابس نہیں چلتاتھامگرمیں ہندوکی حیثیت سے ہرگزمرنانہیں چاہوں گا چنانچہ وہ زندگی کے آخری دورمیں بدھ مت کے پیروکار ہو گئے تھے۔معروف بھارتی مصنفہ دانشورارون دھتی رائے نے ٣٢دسمبر٥١٠٢ء کوممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:''بھارت میں تمام اقلیتیں انتہائی خوف کے عالم میں رہ رہی ہیںاورتشددپسندی کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویوں کوعدم رواداری کے چھوٹے سے نام میں نہیں سمویاجاسکتا۔ہندومذہب میں عدم برداشت بہت ہے،اسی وجہ سے تو بھارتی آئین کے معمارامبیدکرہندومت چھوڑکربدھ مت اختیارکرلیاتھا''۔ بھارت کی ممتازصحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں:''بھارت میں جس حساب سے اقلیتوں پرظلم ہورہاہے،اس تعصبانہ رویے کے بعدملک کوٹکڑوں میں بٹ جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved