بھارتی سازش....ہوشیارباش
  6  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) غیرمنقسم برصغیرمیں بھی ہندوانتہاء پسندوں اورساہوکاروں نے مسلمانوں کااسی طرح ناطقہ تنگ کیاہواتھاجس کے ردّ ِ عمل میں مسلمانوں میں اپنے لئے الگ ملک حاصل کرنے کی سوچ پیداہوئی۔اس تناظرمیں دوقومی نظریہ اورنظریہ پاکستان کی بات کی جاتی ہے تویہ نظریہ درحقیقت جنونی ہندوؤں کااپناتخلیق کردہ ہے جنہوں نے اپنے جابرانہ رویے اوراستحصال کے باعث مسلمانوں کوالگ ملک کی تحریک چلانے پر مجبورکیا تھاجبکہ ہندوذہنیت اس کے بعدبھی تبدیل نہیں ہوئی اور آج بھارت میں مسلمان ہی نہیںد وسری اقلیتوں کا جینابھی دوبھرہوچکاہے جوبڑھتی ہوئی ہندو انتہاء پسندی سے عاجزآکریاتومجبوراً ہندو مذہب قبول کررہے ہیںیاملک چھوڑکردوسرے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں جبکہ بھارت میں آبادمسلمان اقلیتیں جن کی تعداداس وقت عملاً٤٢کروڑکے لگ بھگ ہے ۔ہندوانتہاء پسندی خودپرڈھائے جانے والے مظالم اوراپنی مذہبی آزادیاں سلب ہونے کے نتیجے میں بھارت کے اندرپھردوقومی نظریہ کی بنیادرکھ رہی ہے۔ بھارتی اقلیتوں میں پیداہونے والے اضطراب کے باعث جنونی ہندوؤں کی نمائندہ مودی سرکارکوپریشانی لاحق ہوئی ہے اوروہ بھارتی اقلیتوں کے اس اضطراب سے دنیاکی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کی اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کوبھارت کی شہریت دینے اورمقبوضہ کشمیرمیں آبادکرنے کے سازشی منصوبے پرعمل کررہی ہے تاکہ وہاں کی مسلم آبادی کی اکثریت کے مقابلے میں ہندوؤں کی تعدادبڑھائی جاسکے،جس پر حریت رہنماء شدیدسراپااحتجاج ہیں اورعین ممکن ہے کہ یہ معاملہ مزیدشدت اختیار کرکے ایک اوربڑی تحریک کاسبب بن جائے جوبھارت کے تمام سازشی اورظالمانہ منصوبوں کوہمالیہ کے کوہستانوں میں دفن کردیں۔ اگربھارت میں اقلیتوں کوہندوؤں جیسے حقوق اورمکمل مذہبی آزادی حاصل ہوتی تویہ اقلیتیں مختلف ایشوزپرمودی سرکارکے خلاف سراپااحتجاج بنی کیوں نظرآتیں اس وقت اگر بھارت کے اندرسے ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے آوازاٹھ رہی ہے اورارون دھتی جیسی ہندوبھارتی دانشوربھی کشمیرپربھارتی تسلط کے خلاف بھارت سرکارکوآئینہ دکھارہی ہیں جبکہ بھارتی اقلیتوں کوجبری ہندوبنانے اورہندوانتہاء پسند تنظیموں آرایس ایس اورشیوسیناکے مسلمان اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردّ ِ عمل میں بھارتی سابق فوجی افسر احتجاجاًاپنے قومی اعزازات واپس کررہے ہیں اور اسی طرح بھارتی دانشورفنکاراورکھلاڑی بھی بھارت سرکار کواپنااحتجاج ریکارڈ کرارہے ہیںتویہ ان کے ہندوانتہاء پسندی سے عاجز آنے ہی کی دلیل ہے،اس کے برعکس پاکستان میں آبادسکھوں ،عیسائیوں اور ہندوؤں کو بطور شہری تمام حقوق اورانہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہے چنانچہ وہ بیساکھی ،دیوالی اورہولی کے تہوارمذہبی جوش وخروش سے پوری آزادی کے ساتھ مناتے ہیں اور ہمارے حکمرانوں سمیت مختلف طبقات زندگی کے نمائندگان پاکستانی اقلیتو ں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے ان کے مذہبی تہواروں میں خودشریک ہوتے ہیں۔ (جاری ہے) جبکہ باباگورونانک کے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت کیلئے لاہور،ننکانہ صاحب،حسن ابدال اورملک کے دوسرے شہروں میں آنے والے بھارتی سکھ حکومت پاکستان اورانتظامیہ کے خصوصی انتظامات اورپاکستانی شہریوں کے حسن سلوک کی تعریف کرتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں بھی نہ صرف پاکستان کی ہندوبرادری روایتی جوش وجذبے سے شریک ہوتی ہے بلکہ بھارت اوردوسرے ممالک سے بھی مکمل رعایت اورسہولتوں کے ساتھ ہندومرد اورعورتیں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آکریہاں ہندوبرادری کی خوشیوں میں شریک ہوتی ہیںجبکہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت اورتزئین و آرائش کی ذمہ داریاں بھی متروک وقف املاک کے زیر انتظام بحسن وخوبی اداکی جارہی ہیں۔اس کے برعکس بھارت میں مسلمان،سکھ اورعیسائی اقلیتیں توکجاان کی مساجد،گرجا گھر گوردوارے بھی محفوظ نہیںجہاں جنونی ہندوآئے روزبھارتی اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلتے نظرآتے ہیں۔ اقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے بھارت کایہ بھیانک چہرہ آج پوری دنیامیں بے نقاب ہورہاہے تووہاں نقل مکانی کرکے آنے والی دوسرے ممالک بالخصوص پاکستانی اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کے نئے ڈرامے پربھلاکس کویقین آئے گاتاہم ہمارے دفترخارجہ کواس معاملہ پرخاموش نہیں بیٹھناچاہئے اوراقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیلئے تیارکی گئی اس نئی بھارتی سازش کابھی مؤثرتوڑکرناچاہئے۔ہندوبنیاتوبہرصورت اپنے شروع دن کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کوچین سے نہ بیٹھنے دینے کی پالیسی پرگامزن ہے،ہمیں اس کی سازشوں سے غافل نہیں رہناچاہئے۔ ٧٤٩١ء کی میں ہندوستان کی تقسیم کے بعدبھارت کے ہندولیڈروں نے وقتی طورپراقلیتوں کی ہمدردیاں لینے کی خاطرنعرہ لگایاتھاکہ بھارت کاکوئی سرکاری مذہب نہیں ہوگا،یہ ایک سیکولرریاست ہوگی جہاں ہندومسلمان عیسائی سکھ اوردیگرمذاہب کے ماننے والوں کویکساں حقوق حاصل ہوں گے۔اپنے اس دعوے اورنعرے کوسچ ثابت کرنے کی خاطرآئین میں بھی بھارت کوسیکولرریاست قراردے دیاگیالیکن عملی طورپرسب اس کے الٹ ہوااورمسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کومتعصب ہندوؤں کی طرف سے روزِ اوّل سے ہی امتیازی سلوک کاسامناکرناپڑرہاہے۔ معروف صحافی اورادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب''دی اینڈآف انڈیا''میں کہاتھا:بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے،پاکستان یادنیاکوکوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گابلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ روّیوں کی بدولت خودکشی کاارتکاب کرے گا۔ڈاکٹر امبید کرجوبھارت کے آئین کے معمارہیں ،ہندوہونے کے باوجودکہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتوہوگیا ، اس لئے کہ پیدائش پرمیرابس نہیں چلتاتھامگرمیں ہندوکی حیثیت سے ہرگزمرنانہیں چاہوں گا چنانچہ وہ زندگی کے آخری دورمیں بدھ مت کے پیروکار ہو گئے تھے۔ بھارت کی ممتازصحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں:''بھارت میں جس حساب سے اقلیتوں پرظلم ہورہاہے،اس تعصبانہ رویے کے بعدملک کوٹکڑوں میں بٹ جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved