موم بتی مافیا کی شدت پسندی
  6  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کوئی بھی تجزیہ پیش کرنے' کالم لکھنے یا رائے دینے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں کہ جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے... جس کا آئین اسلامی اقدار کا نہ صرف یہ کہ محافظ... بلکہ انہیں معاشرے میں فروغ دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ ٹی وی چینلز اور فیس بک پر امریکی پٹاری کے دانش فروشوں اور سیکولر شدت پسندوں نے ایک دفعہ پھر مقتول گورنر سلمان تاثیر کی شرافت اور مظلومیت کے نوحے لکھے اور پڑھے ہیں' جبکہ اس کے قاتل عاشق رسولۖ غازی ممتاز قادری پر منہ بھر کے تبرا بھیجنے کی کوششیں کی ہیں... صرف یہی نہیں بلکہ شدت پسند دیسی لبرلز اور ان کے ہمنوا ڈالر خوروں نے تو قانون توہین رسالتۖ کے حوالے سے بھی زبان درازی کرکے کروڑوں عشاق رسول کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ 4جنوری بدھ کے دن سیکولر شدت پسندوں نے سلمان تاثیر کی برسی کی تقریبات منانے کا اعلان کرکے جان بوجھ کر جلتی پر تیل چھڑکنے کی کوشش کی' پاکستان کے عوام حیران ہیں کہ امریکی پٹاری کے جو دانش چور مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین ہی نہیں رکھتے... انہیں کیا سوجھی کہ وہ مسلمانوں میں انتہائی متنازعہ حیثیت کے حامل سلمان تاثیر کی برسی کی تقریبات منانے کی اعلامیہ کوششیں کرنے لگے۔ عوام اس بات پر بھی حیران ہیں کہ سلمان تاثیر کی برسی منانے کا اعلان کرنے والے موم بتی مافیاء کے خرکار! تو تعداد کے اعتبار سے چند درجن بھی نہ تھے... جبکہ ممتاز قادری سے محبت کا اظہار کرنے والے اتنے زیادہ تھے کہ 120گرفتار ہونے کے باوجود ابھی مزید سینکڑوں لاٹھیاں کھاتے' آنسو گیس کی بدبو سہتے ہوئے بھی لبیک یا رسول اللہ(ۖ) کے نعرے لگا رہتے تھے۔ سلمان تاثیر بھارتی پنجاب میں نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا گورنر تھا... پنجاب کی جیلیں بے گناہ قیدیوں سے آج بھی بھری ہوئی ہیں... پنجاب کے تھانوں میں آج بھی انسانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے جاتے ہیں... مگر سلمان تاثیر کی نظر کرم توہین رسالت کی مجرمہ ملعونہ آیسہ مسیح پر ہی کیوں جا ٹھہری؟ انہیں پورے پنجاب کی جیلوں میں صرف آسیہ مسیح ہی مظلوم کیوں نظر آئی ؟ کہ وہ اس ملعونہ کے حق میں ایسے سینہ تان کر کھڑے ہوئے کہ قانون توہین رسالت پر بھی لگے سنگ باری کرنے... انہیں صوبہ پنجاب کا گورنر اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ وہ صلیبی یہودی ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں مصروف ہو جائیں۔ ٹی وی چینلز کے بعض اینکرز جس بے رحمانہ انداز میں غازی ممتاز قادری کے خلاف اور سلمان تاثیر کے حق میں ٹی وی چینلز کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں اس سے پاکستانی قوم میں بے چینی کی شدید لہر دوڑ چکی ہے اور نفرتوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ بڑھتی ہوئی سیکولر شدت پسندی پر قابو پانے کے لئے بھرپور آپریشن کرے' ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز جس طرح سے سیکولر لادینیت کے اڈے بنے ہوئے ہیں... یہ ملک کی اسلامی شناخت کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ یقیناً غازی ممتاز قادری کو پھانسی سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوئی ہے... لیکن اس کے باوجود امریکی پٹاری کے خرکار ممتاز قادری سے ''عاشق رسولۖ'' ہونے کا اعزاز چھین نہیں سکتے... سپریم کورٹ کے حکم پر تو ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا تھا... پھر سارے سیکولر' دیسی لبرلز اور پیپلزپارٹی والے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو غلط قرار دے کر بھٹو کو ''شہید'' کیوں مانتے ہیں؟ آصف علی زرداری اور ان کے ہمنوا تو آج بھی ''بھٹو'' کا نام سیاست کے بازار میں بیچ کر حکومت حاصل کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں' سپریم کورٹ کے حکم پر پھانسی پانے کے باوجود... اگر بھٹو شہید کہلا سکتا ہے تو اسی سپریم کورٹ کے حکم پر پھانسی پانے کے بعد ممتاز قادری سچا عاشق رسولۖ کیوں نہیں کہلا سکتا؟ کیا دیسی لبرلز سلمان تاثیر کے جنازے کی وہ کہانی بھول گئے ہیں کہ جب موصوف کا جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی معزز عالم دین ہی نہیں مل رہا تھا... اور جنازے کے شرکاء کو بھی انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا۔ مگر سپریم کورٹ کے حکم پر پھانسی پانے والے ممتاز قادری کے جنازے میں لاکھوں مسلمانوں نے والہانہ انداز میں شرکت کرکے یہ بات ثابت کر دی کہ جینوئن سول سوسائٹی ممتاز قادری کو نہ صرف سچا عاشق رسولۖ بلکہ اپنا ہیرو بھی سمجھتی ہے' یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان امریکہ کی کالونی یا بھارت کے کسی گائوں' گوٹھ کا نام نہیں... بلکہ پاکستان فرزاندان توحید کا ایک ایسا بے مثال ملک ہے کہ جس میں عشق رسالت مآبۖ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن میں پایا جاتا ہے۔ سلمان تاثیر کی برسی منانے کی کوشش ''شرارت'' کے مترادف ہے اور اس قسم کی شرارتوں کو روکنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے امریکہ...برطانیہ' فرانس اور دیگر صہیونی طاقتوں نے پاکستان کے بعض مولویوں پر بھی خوب سرمایہ کاری کی ہے اور وہ مولوی ہر مسلک میں موجود ہیں...فیس بک کے ذریعے بھی ... سیکولر شدت پسند قانون توہین رسالت کے خلاف بھرپور کمپیئن چلا رہے ہیں۔ امریکی' یہودیوں اور ان کے گماشتوں کے ذہنوں میں... یہ بات آہی نہیں سکتی... کہ اگر عشق رسولۖ جیلوں' کوڑوں اور پھانسیوں سے پابند کیا جاسکتا تو غازی علم دین کی پھانسی سے ڈر کر کبھی کوئی غازی ممتاز قادری پیدا ہی نہ ہوتا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ بعض مولویوں کی فرقہ وارانہ ذہنیت نے ''سیکولرز'' اور دیسی لبرلز کو اسلام کے خلاف کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر رکھا ہے' جب تک مذہبی جماعتیں اور علماء حضرات اپنی صفوں میں گھسے ہوئے فرقہ پرستوں کو نکال باہر نہیں کریں گے... اس وقت تک سیکولر شدت پسندی کا جن وطن عزیز میں دندناتا رہے گا۔ غازی ممتاز قادری کے جنازے میں دیوبندی ہوں' بریلوی ہوں اہلحدیث ہوں یا شیعہ... سب نے تمام مسالک سے بالاتر ہو کر ... لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی تھی... مگر فرقہ پرستوں نے سب کے ممتاز قادری پر صرف ایک مسلک کی مہر لگانے کی کوشش کی... انہیں فرقہ پرستانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ سیکولرز اور ان کے نمک خوار... فیس بک سے لے کر ٹی وی چینلز اور اخبارات تک ممتاز قادری کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ متنازعہ سلمان تاثیر کو ''مظلوم ہیرو'' کے طور پر پیش کیا جارہا ہے' خدا را... اب بھی وقت ہے سنبھل جائیے... فرقہ پرستی پر لعنت بھیج کر تمام مسالک کے علماء اور مذہبی کارکنوں کو متحد کیجئے... کیونکہ'' عشق رسولۖ'' سب کی سانجھی دولت ہے ' میری سیکولرز اور دیسی لبرلز! سے بھی اپیل ہے کہ سلمان تاثیر اور غازی ممتاز قادری اللہ کے حضور پیش ہوچکے ہیں ... اس لئے ان دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجئے... سلیمان تاثیر کی برسی کو بنیاد بنا کر اسلام پسندوں کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں مت نکالئے... اس سے ملک میں انارکی پھیلے گی ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
67%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved