اسلام آباد سے سلام عرض
  6  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اسلام آبادسے آداب عرض۔ اسلام آبادبہت جانا پہچانا شہر ہے۔ اکثر آناجانا رہتا ہے۔ بہت سے عزیز و اقارب یہاں رہتے ہیں۔ ہم لاہور کے ادیب و شاعر لوگ ایک بس میں آئے ہیں۔ دوپہر ایک بجے لاہور سے چلنے کا وقت ، ساری سڑکیں ، سارے انڈر پاس، فلائی اوور بند تھے۔ بارہ گھنٹے بعد رات ایک بجے اسلام آباد پہنچے۔ دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ بوندا باندی ہورہی تھی۔ اسلام آبادملک کی یک جہتی کا مظہر شہر ہے۔ ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے بے شمار سکیل اورگریڈ۔ کسی مکان کو دیکھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کون سا گریڈ رہتا ہے۔ ہم لوگ پاکستان اکیڈمی ادبیات بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے۔ چار روز قیام ہے۔ نیا سال اپنے ساتھ بہت کچھ لایا ہے۔ بہت سی چیزوں کی مہنگائی کااعلان اسی اسلام آبادسے ہواہے۔ گھی، چینی، سی این جی اوردوسری اشیاء کے دام بڑھ گئے ہیں۔ کالم لکھتے وقت ٹیلی ویژن پر نظر پڑی ہے حکومت اور اپوزیشن کے مہرے ایک دوسرے کے خلاف اسی بیان بازی میں مصروف ہیںجو ایک عرصے سے سنتے سنتے کان پک گئے ہیں۔ وہی باتیں جوبار بار کہی جاچکی ہیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں اسلام آبادمیں ایک معصوم سات سالہ بچی 'طیبہ' کے ساتھ اس کی مالکن ( ایک ماتحت جج کی بیوی) کے انسانیت سوز تشدد پراپنے شدید رنج و اَلَم کا اظہار کیا تھا۔ ٹیلی ویژن بتا رہے ہیں کہ فاضل چیف جسٹس صاحب نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس لئے اب اس پر مزید کچھ کہنا مناسب نہیںسمجھتا۔ یہ خبر بھی ہے کہ لاہور کے جس جناح ہسپتال میں دوسرے شہر سے آئی ہوئی ایک غریب خاتون زہرا نے جس درد ناک انداز میں تین گھنٹے کسی علاج کے بغیر ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑ پ تڑپ کر جان دے دی تھی اس پر ہسپتال کے ایم ایس کو معطل کردیاگیا ہے، صرف معطل! اسے تو ایک غریب خاتون کی موت کا ذمے دار قراردے کر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہوسکے گی کہ اسے کسی دوسرے بڑے ہسپتال کا ایم ایس بنادیاجائے گاا ور …اورایک عرصہ کے بعد لوگ زہرا اور طیبہ کی باتیں بھول بھال جائیں گے۔ ٭قارئین کرام! کالم کے بیچ میں ایک عجیب ساذاتی واقعہ بیان کرناچاہتا ہوں۔ گزشتہ روز لاہور کے شدید ٹریفک جام میں ہماری بس کئی گھنٹے پھنسی رہی تو اس کے اندر حَبس کی کیفیت سے میری طبیعت خراب ہو گئی اور سر چکرانے لگا۔ دوستوں نے بروقت سہارا دیا…اور…اورعین اس موقع پر میری بیٹی کا فون آگیا کہ ''ابو آپ کی طبیعت کیسی ہے؟'' فون پر میری باتیں سن کر میرے ساتھی بھی حیرت زدہ رہ گئے کہ کئی کلو میٹر دورایک بیٹی کو کیسے پتہ چل گیا کہ ابو کی طبیعت خراب ہے۔ بیٹی کی آواز سن کر میرا جذباتی ہونا قدرتی بات تھی۔ دوستوں نے کچھ اور واقعات بھی بتائے کہ دوسرے شہروں میں بیٹھی بیٹیاں کس طرح ماں باپ کی کیفیت کو جان جاتی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے بیٹیوں کو کون سا خاص علم عطا کیا ہوا ہے کہ کون سی حساتیت ہے جو انہیں ماںباپ کی کیفیات سے آگاہ اور بے چین کردیتی ہے! بیٹیاں کتنی نعمت ہوتی ہیں! ٭کالم لکھتے ہوئے گلگت سے عزیزم ایم زیڈ تنہا (0355-5146500) کی بھیجی ہوئی ایک مختصر مگر خیال انگیز نظم موصول ہوئی ہے۔ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں یہ نظم خود ایک جامع تبصرہ ہے۔ اسے پڑھئے:۔ نتیجہ پھر وہی ہوگا، سنا ہے سال بدلے گا! پرندے پھر وہی ہونگے، سنا ہے جال بدلے گا! بدلنا ہے تو دن بدلو، بدلتے کیوں ہو ہندسوں کو؟ مہینے پھر وہی ہونگے، سُنا ہے سال بدلے گا وہی غریب، وہی قاتل، وہی غاصب بتاؤ کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا! ٭عمران خاں نے اچھا کیا کہ منہ سے بے احتیاطی سے ادا ہونے والے ایک لفظ پر معافی مانگ لی۔ جس پر توہین رسالت کا پہلو دکھائی دے رہا تھا۔ عمران خاں نے نہایت صدق دل سے کھلے انداز میں اس لفظ پر حضور نبی کریمۖ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی ہے۔ ان کی اس بات کوقبول کرلیناچاہئے کہ ان کے منہ سے نادانستہ طورپر ایک نامناسب لفظ نکل گیا جب کہ ان کا مقصد وہ نہیں تھا۔جولیا جاسکتا ہے ۔ چلئے، اچھی بات ہے۔ یہ معاملہ تو اب ختم ہو جاناچاہئے البتہ پہلی بارعمران خاں نے تسلیم کیا ہے وہ غلط باتیں بھی کرسکتے ہیں! چلیں یہ بھی کافی ہے! محترم خاں صاحب ! آ پ ذرا اپنی پچھلی بعض دوسری باتوں پر بھی غورفرمالیں، مثلاً ایک بات کہ ''اس ہفتے کی رات کو امپائر کی انگلی اٹھ جائے گی!'' یہ ایک مثال ہی کافی ہے۔ ٭ایک خبر : تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق اس بات پر برہم ہو گئے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی ختم ہونے پر ان کی پارٹی کے ہی رہنما فواد چودھری نے ان کا انتظار کئے بغیر پریس کانفرنس کیوں کرڈالی۔ یہ ایک پارٹی رہنماؤں کا آپس کا معاملہ ہے۔ مجھے اس پر اپنے گھر کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ایک مہمان میاں بیوی دوبچوں کے ساتھ آئے۔ ایک بچے نے میز سے شیشے کا گلاس اٹھا کرفرش پر پھینکا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ وہ ہنسنے لگا۔ ماں نے شیشے کا دوسرا گلاس پرے کردیا۔ دوسرابچہ رونے لگا کہ گلاس کیوں ہٹایا ہے ، میں نے بھی توڑنا تھا! ٭کلاسیکی موسیقی کے معروف استادفتح علی خاں( پٹیالہ والے) 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ کلاسیکی موسیقی کے نامور گائیک اور پٹیالہ گھرانے کی نمایاں شناخت تھے۔ وہ استاد امانت علی خاںاور حامد علی خاں کے بڑے بھائی تھے۔ امانت علی خاں تو جوانی کے دور میں ہی رخصت ہو گئے۔ حامد علی خاں موجود ہیں۔پٹیالہ گھرانہ کی ایک خاص نمایاںبات یہ ہے کہ اس خاندان کے دو بڑے گائیکوں، استاد فتح علی خاں کے دادا اور ان کے بھائی کو انگریز حکومت نے موسیقی کے جرنیل اورکرنیل کا خطاب عطا کیا تھا۔ ٭سیاست کس طرح خون کے رشتوں کو ٹکرا دیتی ہے۔ تحریک انصاف کے اسد عمراور ن لیگ کے محمد زبیر دو سگے بھائی ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی صنعت وپیداوار کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں لڑ پڑے۔ چھوٹے بھائی اسد عمر نے بڑے بھائی محمد زبیر کو اجلاس سے باہر چلے جانے کا ہدائت نما مشورہ دے دیا۔ محمد زبیر نجکاری کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ چھوٹے بھائی کی ڈانٹ سن کرخاموش رہے۔ ٭شاہی عرب شہزادوں کے ساتھ شکار کے لئے آنے والے افراد میں بھارتی باشندے بھی شامل ہیں جو کسی روک ٹوک کے بغیر پاکستان کے حساس علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ چھ ایسے بھارتی افراد کسی اجازت نامہ کے بغیر بدین کے حساس ہوائی اڈے پر آئے اور ایک طیارے میں بیٹھ کر ٹھٹھہ چلے گئے۔اس کا وزیر داخلہ چودھری نثارعلی نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ملک کے حساس علاقوںمیں تو خود پاکستانی شہری بھی بلااجازت نہیں جاسکتے۔مجھے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات والے حساس علاقوں کی سکیورٹی کے انچارج ایئر فورس کے ایک سابق بڑے افسر نے بتایا تھا کہ وہ ان علاقوں اور مقامات کی حفاظت کا ذمہ دار ہے مگر بہت اوپر کی خصوصی اجازت کے بغیر خود بھی بعض مقامات پر نہیں جاسکتا! اور حالت یہ کہ بدین کے حساس سرحدی علاقے میں بھارتی باشندے بلا روک ٹوک گھوم رہے ہیں۔ ٭شمالی اور میدانی علاقوں میں برف باری اور بارشوں نے ملک بھر میں اطمینان اور آسودگی کی فضا پیدا کردی ہے۔ اس سے ڈیموں میںپانی آنے کے ساتھ گندم کی فصل پر بھی بہت اچھے اثرات ہوں گے۔ پتہ نہیں محکمہ موسمیات نے مسلسل خشک سالی کے بارے میں اپنی پیش گوئیوں پر حیرت کا کوئی اظہار کیا ہے یانہیں؟ ٭خبر ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف تین مرحلوں کا پروگرام طے کرلیا ہے۔ یہ تین مرحلے کب شرو ع، کب ختم ہونگے۔ اگلے چھ ماہ میں عام انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
25%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved