بھارتی سازش....ہوشیارباش
  7  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) جبکہ باباگورونانک کے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت کیلئے لاہور،ننکانہ صاحب،حسن ابدال اورملک کے دوسرے شہروں میں آنے والے بھارتی سکھ حکومت پاکستان اورانتظامیہ کے خصوصی انتظامات اورپاکستانی شہریوں کے حسن سلوک کی تعریف کرتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں بھی نہ صرف پاکستان کی ہندوبرادری روایتی جوش وجذبے سے شریک ہوتی ہے بلکہ بھارت اوردوسرے ممالک سے بھی مکمل رعایت اورسہولتوں کے ساتھ ہندومرد اورعورتیں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آکریہاں ہندوبرادری کی خوشیوں میں شریک ہوتی ہیںجبکہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت اورتزئین و آرائش کی ذمہ داریاں بھی متروک وقف املاک کے زیر انتظام بحسن وخوبی اداکی جارہی ہیں۔اس کے برعکس بھارت میں مسلمان،سکھ اورعیسائی اقلیتیں توکجاان کی مساجد،گرجا گھر گوردوارے بھی محفوظ نہیںجہاں جنونی ہندوآئے روزبھارتی اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلتے نظرآتے ہیں۔ اقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے بھارت کایہ بھیانک چہرہ آج پوری دنیامیں بے نقاب ہورہاہے تووہاں نقل مکانی کرکے آنے والی دوسرے ممالک بالخصوص پاکستانی اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کے نئے ڈرامے پربھلاکس کویقین آئے گاتاہم ہمارے دفترخارجہ کواس معاملہ پرخاموش نہیں بیٹھناچاہئے اوراقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیلئے تیارکی گئی اس نئی بھارتی سازش کابھی مؤثرتوڑکرناچاہئے۔ہندوبنیاتوبہرصورت اپنے شروع دن کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کوچین سے نہ بیٹھنے دینے کی پالیسی پرگامزن ہے، ہمیں اس کی سازشوں سے غافل نہیں رہناچاہئے۔ ٧٤٩١ء کی میں ہندوستان کی تقسیم کے بعدبھارت کے ہندولیڈروں نے وقتی طورپراقلیتوں کی ہمدردیاں لینے کی خاطرنعرہ لگایاتھاکہ بھارت کاکوئی سرکاری مذہب نہیں ہوگا،یہ ایک سیکولرریاست ہوگی جہاں ہندومسلمان عیسائی سکھ اوردیگرمذاہب کے ماننے والوں کویکساں حقوق حاصل ہوں گے۔اپنے اس دعوے اورنعرے کوسچ ثابت کرنے کی خاطرآئین میں بھی بھارت کوسیکولرریاست قراردے دیاگیالیکن عملی طورپرسب اس کے الٹ ہوااورمسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کومتعصب ہندوؤں کی طرف سے روزِ اوّل سے ہی امتیازی سلوک کاسامناکرناپڑرہاہے۔ معروف صحافی اورادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب''دی اینڈآف انڈیا''میں کہاتھا:بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے،پاکستان یادنیاکوکوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گابلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ روّیوں کی بدولت خودکشی کاارتکاب کرے گا۔ڈاکٹرامبیدکرجوبھارت کے آئین کے معمار ہیں ،ہندوہونے کے باوجودکہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتوہوگیا ، اس لئے کہ پیدائش پرمیرابس نہیں چلتاتھامگرمیں ہندوکی حیثیت سے ہرگزمرنانہیں چاہوں گا چنانچہ وہ زندگی کے آخری دورمیں بدھ مت کے پیروکار ہو گئے تھے۔ بھارت کی ممتازصحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں:''بھارت میں جس حساب سے اقلیتوں پرظلم ہورہاہے،اس تعصبانہ رویے کے بعدملک کوٹکڑوں میں بٹ جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved