حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے۔۔
  7  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پیران حرم کو مبارک باد کے رد عمل میں ارباب سیاست کا ایک جواب تو یہ ہے کہ'' عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واحد پلیٹ فارم ہے، جس سے اس معاملہ میںسوال کیا جانا چاہئے ، وہ کیوں خاموش رہے، انہوں نے دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کو متحرک کیوں نہ کیا ؟'' سوال ہے کہ ختم نبوتۖ کا معاملہ اتنا کم اہم ہے کہ ایک جماعت کو ٹھیکے پر دیکر باقی لوگ آرام فرمائیں،اگر وہ نہیں اٹھے، انہوں نے اس اہم مسئلہ کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا تو دیگر جماعتوں،تنظیموںاور گروپوں نے انہیںمتوجہ کیوں نہ کیا؟اپنے حصہ کا کام کیوں نہ کیا ؟ساتھ ہی اعتراض نما اعتراف آیا کہ'' خبر نہیں ہوسکی ورنہ ہم احتجاج کرتے ، میدان میں آتے حکومت کا راستہ روکتے۔'' پہلا جواب تو ہے کہ قبلہ اگر معلومات کا یہ عالم ہے ،آپ بے خبری کی اس معراج پر ہیں تو کس حکیم نے تجویز کیا ہے کہ قیادت کے منصب کو داغدار کریں؟جائیں اپنے گھر بیٹھیں ،بچے کھلائیں ، اپنی اہلیہ کی چاکری کریں ۔ سیاست اور قیادت ان کے لئے چھوڑ دیں جو اس کے اہل اور با خبر ہیں۔دوسرے یہ کہ پہلے تو آپ بے خبر تھے اب تو علم ہوگیا جو سانپ نکال سکتے ہیں نکال لیں، حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیں، روکا کس نے ہے ۔ معاملہ بے خبری کا نہیں ،عدم دلچسپی کا ہے،مفادات اور ترجیحات کا ہے ،جب سے ہر رد عمل ریالوں سے منسلک ہوا ہے اس وقت سے وہ جو غیرت دینی نام کی اک چیز ہوا کرتی تھی متاع گم گشتہ کے زمرے میں جاپہنچی ہے۔ ورنہ شان تاثیر کے معاملہ میں تنہا ایک مسلک کے نوجوان نہ نکلتے کم از کم اسی مسلک کی اعلیٰ قیادت تو ان کے ساتھ ہوتی ،عمران خان کی جانب سے دوسری بار آقا دو عالم ۖ کی شان اقدس کے حوالہ سے بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، مگر حیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے شیوخ بھی اسے لاعلمی کا سرٹیفکیٹ دیکر جری ہونے کا موقع دے رہے ہیں۔ کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس سے ملاقات کرے ، یا کم ازکم فون ہی کرلے ، خط ہی لکھ دے کہ '' اپنی جہالت اور ذہنی پسماندگی کو اپنے کارکنوں تک محدود رکھو ، تعظیم اور احترام کے قرینے نہیں جانتے تو محبوب خدا ۖ کے حوالہ سے اپنی چونچ کھولتے ہی کیوں ہو''۔ہاں اگر وہ حضرت والا کی دستار کو ہاتھ ڈالے تو پھر دیکھیں کیسے حشر بپا ہوتا ہے، شعائر اسلام کی دہائی دیتے ہوئے ،نا معلوم کیا کیا ثابت کردیں، جب نبی محترم ۖ اور ان کی ختم نبوت ۖکا ذکرمعاملہ ہو تو رٹا رٹایا جملہ ہے ''پتا ہی نہیں چلا ،خبر ہی نہیں ہوئی ''۔ بعض احباب اپنی ترجیحات کی توجیح اس بھونڈے انداز میں پیش کرتے ہیںکہ '' آپ کا کیا خیال ہے کہ اب اس معاملہ کو بنیاد بنا کر بد امنی پیدا کردیں، دشمن تو چاہتا ہی یہی ہے''۔ شبہ نہیں کہ دشمن بد امنی چاہتا ہے اور اس کی سازش سے بچ کر رہنا ہی کامیابی ہے ،لیکن حکومت سے مطالبہ کرنے ،جمہوری اور پر امن انداز میں اپنے موقف کے حق میں دبائو بڑھانے سے کہاں کا امن متاثر ہوتا ہے ؟یہ بھی کوئی دلیل نہیں بلکہ کج بحثی اور اپنی بے عملی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ قصہ صرف اتنا ہے کہ بات خلوص سے فلوس تک جا پہنچی ہے،اور کچھ نہیں،ورنہ ریکارڈ پر ہے کہ قادیانی نوازی کا سلسلہ کب سے جاری ہے۔ خصوصاً ڈاکٹر سلام والے معاملہ کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ مارچ 2016سے گرم ہے۔31مارچ کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میںپاکستان فزکس سوسائٹی نے ایک غیرملکی ادارہ کے اشتراک سے ڈاکٹر سلام پر سیمینار منعقد کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ''ہر طالب علم کو ڈاکٹر عبدالسلام سے آگاہ کیا جائے '' اس کے جواب میں حکومت نے اسلام آباد کے ماڈل سکولوں میں موصوف کی تصاویرآویزاں کردی گئیں۔ جس پر خبریں شائع ہوئیں ،مگر جن کو خبر نہیں ہوتی انہیں نہیں ہوئی،۔ اسی یونیورسٹی میں 26 نومبر کو سلام کے یوم مرگ پر پھر سیمینار ہوا اور اس میں اسے ہیرو ماننے کا مطالبہ آیا اور حکومت نے پہلے کی طرح تیزی دکھائی اور 4دسمبر کو جناب وزیر اعظم نے منظوری دی اور وزارت تعلیم کو حکم جاری کیا کہ نیشنل فزکس سنٹر جو اپنے بانی ڈاکٹر ریاض الدین انصاری کے نام سے منسوب تھا ،اسے ڈاکٹر سلام کے نام سے منسوب کرنے کی سمری تیار کرے ۔اس کی بھی خبریں شائع ہوئیں ،اوصاف نے بھی خبریں دیں ،کالم لکھے گئے ، مگر جن کو خبر نہیںہوتی ،انہیں نہیں ہوئی ۔ اب 3جنوری کو صدر پاکستان نے دستخط کرکے یہ نام تبدیل کردیا ہے، یہ اب بھی کہتے ہیں خبر نہیں ہوئی ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ'' انہیں خبر نہیں ہوئی ''۔ انہیں تو اب تک یہ خبر نہیں ہوسکی ہوگی کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ڈاکٹر سلام چیئر قائم کرنے کا فیصلہ 1999میں اسی نواز حکومت نے کیا تھا مگر اسے عملی جامہ پرویز مشرف نے مارچ 2000میں پہنچایا ۔ یہ تو اس بھی بے خبر ہی ہونگے کہ 2003میں پنجاب حکومت نے اسے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ڈاکٹر سلام سکول آف میتھا میٹکس قائم کیا ۔یہی وجہ ہے کہ سلام کے حوالہ سارے سیمینار اسی یونیورسٹی میں ہورہے ہیں ۔ اور اب اگلی خبر جس کی پھر انہیں خبر نہیں ہوگی اور فیصلہ ہوجائے گا (خدا نہ کرے)۔یہی لاہور کالج یونیورسٹی ظفرللہ خان کے نام سے منسوب کرنے کی اطلاعات ہیں۔معاملہ ابھی سرکاری سطح پر نہیں آیا ،قادیانی تیاری کر رہے ہیں۔ کسی وقت خاموشی سے یہ فیصلہ بھی ہوجائے گا اور قادیانیت کو بے نقاب کرنے والے علامہ اقبال ،ختم نبوت کے دفاع میں سزائے موت کا حکم پانے والے مولانا عبدالستار نیازی کا گورنمنٹ کالج ختم نبوت کے دشمن ،پاکستان اور قائد اعظم کے اعتماد سے غداری کرنے والے ظفراللہ سے منسوب ہوجائے گا ۔ ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے جوانان تاتاری کس قدر صاحب نظر نکلے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
17%
کوئی رائے نہیں
17%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved