باتیں' باتیں اور باتیں!
  7  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وزیراعظم نے اکادمی ادبیات کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ ملک میں دہشت گردی ختم کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادیبوں اور شاعروں نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کا نام نہیں۔ میں شاعر کے طور پر اپنی تعریف سن کر بہت خوش ہوا اور بطور صحافی اپنا کوئی ذکر نہ ہونے پر بہت مایوس ہوا۔ میرے خیال میں فوج کے بعد ملک کے صحافیوں نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ بلاشبہ ادیبوں' شاعروں نے اپنی تحریروں اور شاعری کے ذریعے عوامی شعور کو دہشت گردی کے خلاف بڑے موثر طریقے سے متاثر کیا ہے مگر صحافیوں نے تو اس ضمن میں جانوں کی قربانیاں بھی دی ہیں۔ چلئے ادیبوں' شاعروں کی تعریف ہی سہی۔ ویسے اس تقریب میں وزیراعظم نے اپنے ثقافتی مشیر عرفان صدیقی کی بہت تعریف کی۔ اسی طرح عرفان صدیقی نے اپنی تقریر میں وزیراعظم کی بہت تعریف کی۔ مجھے فارسی کا ایک محاورہ اکثر یاد آتا رہتا ہے کہ ''من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو! ''۔ مجھے آج تک سمجھ نہ آسکی کہ اس جملے میں حاجی کا لفظ کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔ میں اس تقریب میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست سے کہا کہ میاں نواز شریف اچھی تقریر لکھ لیتے ہیں۔ اس نے فوراً ٹوکا کہ وزیراعظم اپنی تقریر کبھی خود نہیں لکھتا۔ تقریر لکھنے کے لئے ماہرین کا باقاعدہ خاص عملہ وزیراعظم ہائوس میں مقرر ہوتا ہے۔ پانچ چھ افراد الگ الگ تقریریں لکھتے ہیں پھر چیف سپیچ رائٹر ان تقریروں کا خلاصہ بناتا ہے اسے وزیراعظم پڑھ دیتا ہے۔ بہرحال وزیر اعظم پاکستان نے اچھی تقریر کی۔ مقررہ وقت سے 40 منٹ تاخیر سے آئے ' تقریر کی ' کسی ادیب شاعر سے ہاتھ نہیں ملایا' حال نہیں پوچھا۔ تقریر ختم ہوئی تو واپس چلے گئے! اور محترم خواتین و حضرات! میں اس وقت اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے افتتاحی اجلاس میں بیٹھا ہوں۔ میں اور دوسرے (تقریباً500 ) ادیب شاعر4 جنوری کو اسلام آباد پہنچے تھے اور اس کالم کی تحریر کے وقت (جمعہ6 جنوری) کو دس بجے تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ کانفرنس کا پروگرام کیا ہے۔5 جنوری کو 11 بجے صبح بتایا گیا کہ جلدی سے کنونشن سنٹر پہنچنا ہے جہاں وزیراعظم آرہے ہیں۔ ہم سارے لوگ 12 بجے تک وہاں پہنچ گئے۔ وزیراعظم تقریباً پونے تین بجے آئے اور تقریب ختم ہوگئی اس دوران کھانا وغیرہ کچھ نہیں! چلیں ' ممکن ہے اکیڈمی کے پاس کھانے کا بجٹ نہ ہو۔ مگر اگلی بات اہم ہے کہ 6 جنوری کو شروع ہونے والے اجلاس کی افتتاحی تقریر انگریزی میں کی گئی۔ اس موقع پر حاضرین میں انگریزی میں چھپا ہوا چار روزہ پروگرام بھی تقسیم کیا گیا ہے۔ میں اب تک پڑھتا سنتا آیا ہوں کہ ملک کی قومی زبان اردو ہے ' بہت سی علاقائی زبانیں بھی ہیں مگر اکادمی ادبیات کا پروگرام انگریزی میں ہے' ممکن ہے اکادمی والوں میں اردو جاننے والے لوگ کم ہوں۔ بہرحال قارئین کرام مجھے انگریزی میں چھپے ہوئے اس پروگرام کے مطابق کانفرنس کے 55 مختلف اجلاسوں میں تقریباً230 مقالوں اور ان پر ہونے والی تقریروں سے نمٹنا ہے۔ میں اس ایک اجلاس کی تقریر بھی سن رہا ہوں' ٹیلی ویژن پر سپریم کورٹ کی کارروائی کے بعد ن لیگ والوں کی پریس کانفرنس دیکھ رہا ہوں اور کالم بھی لکھ رہا ہوں! ٭وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں نرسنگ یونیورسٹی کی تقریب میں بھی تقریر کر دی ہے۔ گزشتہ تین مقامات پر تقریریں کی تھیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی تقریر ہوتی ہے۔ اب پھر ڈیووس کے غیر ملکی دورے کا اعلان ہوگیا ہے۔ ہر ماہ اس قسم کے ایک دو تین دورے ہو جاتے ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا دل کا آپریشن ہوا تھا ' دو ماہ لندن میں آرام کیا۔ ڈاکٹر لوگ دل کے آپریشن والے شخص کو کسی قسم کی مشقت ' بھاگ دوڑ' سیڑھیاں چڑھنے اور بلند آواز سے باتیں کرنے سے منع کرتے ہیں۔ بتایا جاچکا ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کا بھی دل کا آپریشن ہوا تھا! ایک قاری نے پوچھا ہے کہ ہر نئی یونیورسٹی اسلام آباد میں ہی کیوں بنتی ہے؟ میںکیا جواب دے سکتا ہوں؟ ٭اسلام آباد میں کم سن ملازمہ طیبہ پر تشدد کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا مگر ایک دوسرے پہلو کا عجیب مذموم انکشا ف ہوا ہے کہ صوبے میں والدین کو کچھ پیسے دے کر ان کے کم سن بچوں کو خرید کر مختلف لوگوں کے پاس ملازم رکھوانے والے مختلف گروہ بڑی آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ ان بچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں ۔ طیبہ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ اسے ایک نواحی گائوں سے فیصل آباد لایا گیا وہاں سے لاہور اور پھر اسلام آباد پہنچ گئی۔ اس کا اصل نام ثنا تھا۔ اسے بار بار تبدیل کیا گیا ہے! اس دوران ظالم والدین ٹھیکیدار مافیا سے کچھ پیسے بھی وصول کرتے رہے! میرے خدا! اس ملک میں کیا ہو رہا ہے! ان لوگوں پرقیامت ٹوٹنی چاہیے! یہ ایک بچی کا ہی مسئلہ نہیں ۔ بچوں کو کرایہ پر لینے والے ظالم لوگ انہیں اپنی ملکیت سمجھ کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ طیبہ کی طرح بہت سی دوسری ستم زدہ بچیوں کی کہانیاں بھی چھپتی چلی آرہی ہیں۔ بچوں کی حفاظت کے نام پر نام نہاد ادارے لاکھوں کے بجٹ کھا رہے ہیں اور بچے اغوا ہونے کی بجائے خود ظالم والدین کے ہاتھوں مختلف گروہوں کے مافیا کے ذریعے کھلے عام یرغمال بن رہے ہیں! ٭ایک خبر: وزیراعظم نوازشریف کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے 2012 ء میں پانچ کروڑ روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ دوسری خبر کہ وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے بھی پانچ کروڑ روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا! ٭پتہ نہیں دونوں کے ٹیکس ایک جیسے کیوں ہیں۔ ویسے مخدوم علی خان نے وضاحت نہیں کی کہ ان کا کاروبار کیا ہے! وزیراعظم کے کاروبار کی بات سپریم کورٹ میں ہے اس لئے خاموشی! ٭انتخابات نزدیک آتے جاتے جارہے ہیں اس کے ساتھ ہی سیاسی انتخابی سرگرمیاں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ اپوزیشن حکومت پر وار کررہی ہے اور حکومت اپنے مستقبل کے کارنامے بیان کررہی ہے۔ وزارت ریلوے کے وزیر نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد سے مظفر آباد تک ریلوے ٹرین چلانے کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل ہوگئی ہے (اس کے اخراجات نہیں بتائے گئے) کراچی سے پشاور تک دوطرفہ ریلوے لائن بچھائی جائے گی (کم از کم 10 برسوں کا منصوبہ) اور یہ کہ اس 1660 کلومیٹر لائن کے دونوں طرف پختہ دیواریں بنائی جائیں گی (اربوں کا معاملہ) ان منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ روزانہ ملک میں 171 ٹرینیں چلا کریں گی۔ یہ منصوبے جیسے بھی ہیں ' کب مکمل ہونگے! یہ سوال اپنی جگہ صرف یہ کہ ریلوے کے ہی ایک ترجمان نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ریلوے کو فی الحال پرانی شکل میں بحال ہونے کے لئے60 ارب روپے کی فوری ضرورت ہے اور اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں! خبر: بلاول زرداری کاایک اور بیان کہ میں اور والد صاحب پارلیمنٹ میں آئیں گے تو (ن) لیگ کی نیندیں حرام ہو جائیں گی۔ یہ نہیں بتایا کہ دونوں باپ بیٹااسمبلی میں کیا کریں گے! پلی بارگیننگ کے مکروہ دھندے کا دوسرا روپ! سرکاری ذرائع کے مطابق کالے دھن والا کوئی بھی شخص اربوں کھربوں کی لوٹ مار والی دولت پر دو سے 10 فیصد ٹیکس دے کر 'بری' ہو جائے گا اسے کالے دھن کی لوٹ مار کی کوئی سزا نہیں ملے گی۔ ٹیکس کے بعد باقی اربوں کھربوں کو صاف شفاف دھن قراردے دیا جائے گا۔ یہ تحقیقات نہیں ہوں گی کہ یہ ناجائز دولت کس دھندے کے ذریعے کمائی گئی! تو پھر اس منصوبہ اور پلی بارگینگ میں کیا فرق ہوا؟ طریقہ کار مختلف مگر دھندا وہی!! اب نیب کالے د ھن کا کمیشن وصول کرتی ہے آئندہ حکومت خود وصول کیا کرے گی۔ کیا فرق پڑے گا؟ ٭ایس ایم ایس ایم: 2016 ء بھی گزر گیا' کولائی کوہستان کے علاقے میں کوئی سڑک بنی نہ کوئی ہسپتال۔ لوگ اب بھی پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرکے مین روڈ تک پہنچتے ہیں۔ صرف سڑک ہی نہیں' اس علاقے میں گیس نہ کوئی ہسپتال! اپیلیں کرکرکے تھک گئے! عبد القدیر خان 03425148 (03425131480) ٭باغ آزاد کشمیر سے ایک بیٹی کا ایس ایم ایس : میں نے فرسٹ ڈویژن میں ایف ایس سی کیا ہے۔ والد صاحب کی مالی استطاعت اتنی نہیں کہ آگے پڑھ سکوں۔ گھر کا روزانہ خرچ ہی پورا نہیں ہوتا۔ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں مگر سرکاری یونیورسٹی کی داخلہ فیس27 ہزار روپے ہے۔ میں کیسے ادا کروں؟ کیا ہم غریب بچیوں کے لئے اچھی تعلیم ممنوعہ ہے! ہم کیا کریں! (بیٹی کا نام' رابطہ نمبر دفتر میں محفوظ ہے) سات ایم ایس ایم روک لیے گئے ہیں ان کے نیچے نام پتہ نہیں تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved