ہوش اڑانے والی سرجیکل سٹرائیکس
  8  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
جنرل(ر) راحیل شریف نے جاتے جاتے بھارت کے ہوش اڑا دیئے۔ اپنی دوٹوک گفتگو کے لئے معروف جنرل راحیل کے مسئلہ کشمیر اور بھارت سے متعلق بیانات اب بھی شاید دہلی پر خوف و دہشت طاری کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت کے خوف کو مزید بڑھا دیا۔ نیز پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات اور سی پیک نے باقی کسر نکال لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل باجوہ کے نئے پاک فوج چیف کے طور پر سرگرم ہونے کے بعد ہی بھارت میں جنرل بکرم سنگھ کی سبکدوش کے بعد دو جرنیلوں کی سینارٹی نظر انداز کرتے ہوئے جنرل بپن راوت کو نیا بھارتی آرمی چیف بنایا گیا ہے۔ جس نے چارج سنبھالنے کے فوری بعد پاکستان کو ہوش اڑا دینے والے سرجیکل سٹرائکس کی دھمکی دے کر اپنی پاکستان دشمنی کا کھل کرمظاہرہ کیا۔ جنرل راوت مزید سرجیکل سٹرائکس کے الفاظ استعمال کئے۔ ''سرحد پار ایسا وار کہ دشمن حیران پریشان رہ جائے گا''جیسا بیان دے کر بھارتی آرمی چیف نے خطے میں کشیدگی پیدا کرنے ، جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کی اس حکمت عملی کا اعلان کیا۔ جو اپنانے کی بھارت صرف خواہش ہی کر سکتا ہے۔ وہ ''سرحد پار جنگجوئوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے آئندہ بالکل مختلف سرجیکل سٹرائیکس ''کی بات کر رہے ہیں۔ اگر چہ یہ سب گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ جس کے بھارت حکمران اور فوج عادی بن چکی ہے۔ اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اور ان کے اجتماعی ضمیر کی مشتعل تسکین کے لئے عدالتیں بھی تمام قواعد و ضوابد ، حقائق کے بجائے جذبات میں آکر فیصلے کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں کشمیری آزادی پسندوں شہید مقبول بٹ سے لے کر افضل گورو شہیدتک کی ماورائے قانون جوڈیشل قتل ہمارے سامنے ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا ایک پارٹی بن کر فیصلے کر رہی ہے۔جو حال بھارتی عدلیہ کا ہے وہ بھارتی فوج کا بھی ہے۔ بھارتی فوج غیر پروفیشنل فوج بن چکی ہے۔ اس میں جنونی ہندو بھرتی ہو رہے ہیں۔ پیشہ ور فوج ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ وہ خود کو گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں۔ جوان اپنے افسروں کو مار رہے ہیں۔ افسر بھگوڑے ببن رہے ہیں یا فوج کی نوکری خیر آباد کہہ کر دوسرے کام کرنے لگے ہیں۔ اس وقت بھارت فوج میں ہزاروں کی تعداد میں افسروں کی کمی ہے۔ یہ اعتراف خود بھارتی حکمران کرتے ہیں۔ بھارت کی فوج انتہائی بزدل فوج ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں بلکہ شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات فوج آزادی پسندوں کو اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ وہ کشمیر میں مجاہدین سے محفوظ راہداری پر کمپرومائز کرتے ہیں۔ بھارتی فوج کی کرپشن کے قصے دنیا جانتی ہے۔ بو فورس سکینڈل اور تابوت سکینڈل معروف ہیں۔ جو فوج اپنی جوانوں کی ہلاکتوں پر بیرون ممالک سے تابوت منگوائے اور تابوتوں کی خریداری میں بھی کرپشن کرے ۔ اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسی فوج پاکستان کے ہوش اڑانے کی دھمکیاں دے تو اسے دیوانے کے خواب کہا جا سکتا ہے۔اس سے پہلے بھیبھارت کی جانب سے خطرناک عزائم کا وقتاًفوقتاً اظہار کیا گیا۔ بھارتی وزیر دفاع نے ایک بار صا ف طور پر پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی دھمکی دی تھی۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو حیران و پریشان کر دینے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ایک بار ٹی وی گفتگو میں کہا ''بھارت کو دہشت گردی صرف دہشت گردی سے ہی ختم کرنا ہو گی۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے ہیں، ہمیں ایسا کرنا چاہیئے۔ میرا سپاہی ہی کیوں ہر وقت اپنا خون بہائے ؟ '' اس بیان کا بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی دفاع کیا۔ ان بیانات سے ثابت ہو گیا کہ بھارت کھل کر دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت ہی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کا وہ اعتراف بھی کر رہا ہے۔ کراچی میں راء کی دہشت گردی کا الزام درست نکلا ہے۔ جس کا اعتراف بھارتی وزراء بھی کر تے رہے ہیں۔ یہ سب کرائے کے لوگ ہیں۔ جنھیں بھارت استعمال کر رہا ہے۔ وہ کھل کر اعلان کر رہے ہیں کہ بھارتی فوجی کا خون بہانے کے بجائے وہ غیر فوجی دہشت گردوں کا استعمال کریں گے۔ بھارت نے اس سے قبل بھی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ایک غیر فوجی مسلح فورس تشکیل دی۔ جسے'' اخوانی ''یا ''نابد'' کہا جاتا تھا۔جموں خطے میں ''ویلج ڈیفنس کمیٹیاں '' تشکیل دے کر ان کو مسلح کیا۔ یہ غیر وردی بھارتی فوج ہے۔جس کا کام ہی مجاہدین کے نام پر دہشت گردی پھیلانا ہے۔ کسی نہ کسی طور یہ سب آج بھی سرگرم ہیں۔ یہ کرائے کے لوگ تھے۔ جنھیں انتہائی عیاری اور حکمت سے استعمال کیا گیا۔ ایک کشمیری کو دوسرے کے خلاف اس طرح استعمال کیا گیا کہ اسے کچھ پتہ ہی نہ چل سکا۔ مثلاً بھارتی فوج نے کسی علاقے میں بظاہر مجاہدین کی تلاش میں چھاپہ مارا۔ اس دوران کئی نوجوانوں کو حراست میں لے کر شہید کر دیا۔بھارت فورسز نے یہ افواہ پھیلائی کہ یہ سارا آپریشن فلاں تنظیم کے مجاہد کی مخبری پر ہوا۔ اسی نے ہی نشاندہی کی اور یہ واقعہ رونما ہوا۔ اس طرح کا پراپیگنڈہ دوسری طرف بھی کیا گیا تا کہ مجاہد تنظیموں کو آپس میں لڑایا جا سکے اور بھارتی اسلحہ اور پیسے سے تیار فورس کو منظر عام پر لایا جا سکے۔ یہ اس طرح بھی ہو اکہ کسی مجاہد کو گرفتار کر کے شہید کیا گیا۔ منصوبے کے تحت اس کا الزام کسی دوسرے مجاہد پر لگا کر شہید نوجوان کے ورثاء کو انتقام کے لئے اسلحہ اور پیسہ دیا گیا۔ اس طرح کے نوجوانوں کے گروپ بنائے گئے۔ جموں میں سرگرم نوجوانوں کو گرفتار کر کے شہید کیا گیا اور یہ پروپگنڈہ ہو اکہ وادی کی فورس اس کارروائی کی ذمہ دار ہے۔ یہ کام کشمیر پولیس کی ٹاسک فورس نامی فورس سے بھی کرایا گیا۔ تا کہ کشمیر پولیس کے بارے میں عوام کو متنفر کیا جائے۔ جبکہ کشمیر پولیس نے سب سے پہلے تحریک آزادی شروع ہونے پر تحریک کا کھل کر ساتھ دیا۔ استعفے پیش کئے اور بھارت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی، آزادی کے حق میں مظاہرے کئے۔ بھارت چاہتا تھا کہ کشمیر میں تحریک آزادی کو پنجاب میں خالصتان تحریک کی طرح کچل دیا جائے۔ لیکن وہ اس میں بالکل ناکام ہو گیا۔ کشمیر پولیس نے استعمال ہونے سے انکار کر دیا۔آج ایک بار پھر کشمیر پولیس کو آگے لایا جا رہا ہے۔ اس کے بھارت نے جموں کے علاقوں میں تحریک کے خلاف ہندو آبادی کو استعمال کیا۔ویلج ڈیفنس کمیٹیاں دہشت گردی کر رہی ہیں۔ انہیں وافر اسلحہ اور پیسہ دیا۔ بھارتی فوجی کیمپوں میں ان کی دہشت گردی ٹریننگ ہوئی۔ ان کمیٹیوں کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ہندو آبادی کا قتل عام کیا گیا۔ اور الزام مجاہدین پر ڈال کر عوام میں تحریک کے بارے میں نفرت پھیلائی گئی۔ انہیں انتقام پر تیار کیا گیا۔ لیکن بھارت ہر صورت میں ناکام ہوا۔ بھارتی فوج نے کئی بار مجاہدین کے سامنے سرینڈر کیا۔ یہ بھارتی حربے اسرائیل اور پوری دنیا کے اسلام دشمنوں سے مل کر آزمائے گئے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی کمانڈوز نے بھی کشمیر میں مجاہدین کے خلاف محاز سنبھالا لیکن وہ ناکام ہو گئے۔اب نیا بھارت فوجی چیف دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ بھارتی عوام کی تسکین کے لئے ہے۔ بھارتی نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا شوشہ بھی اسی وجہ سے چھوڑا گیا۔ بھارت نے جنگ بندی لکیر یا کسی سرحد کی دوسری طرف اگر کوئی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو الرٹ پاک فوج اور عوام تماشے نہیں دیکھیں گے۔بھارتی فوج کی دھمکیاں اس کی غیر پروفیشنل اور بزدل ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔جس کا نئے بھارتی فوجی چیف نے اپنے بیانات سے خود اعتراف کیا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
25%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved