فوجی عدالتیں ختم' اب نئی عدالتیں
  8  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

فوجی عدالتیں بالآخر ختم ہوگئیں۔ ان میں توسیع نہیں کی گئی۔ ان علاقوں سے ایک سو سے زیادہ مجرموں کو موت کی سزائیں سنائی گئیں۔ یہ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ خبر یہ ہے کہ حکومت نیا قانون بنا رہی ہے اس کے تحت آئندہ عام شہریوں کے مقدمات سننے کے لئے مستقل قسم کی فوجی عدالتیں قائم ہو جائیں گی۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ موجودہ سول عدلیہ' سپریم کورٹ' ہائی کورٹ اور دوسری سول عدالتوں کا نظام باقی رہے گا یا صرف فوجی عدالتیں بھی ساتھ ساتھ چلیں گی۔ اس وقت ملک میں عام سول عدالتوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی' نیب کی انسداد کرپشن' بنکنگ' ڈرگ' کسٹم' انکم ٹیکس اور دوسرے شعبوں کی مختلف عدالتیں کام کررہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سارا نظام ناکام ہوگیا ہے یا یہ کہ یہ عدالتیں قابل اعتماد نہیں رہیں! عجیب معاملہ ہے کہ سول عدالتیں تو فوجی کیسوں کی سماعت نہیں کرسکتیں اور عام شہریوں کے کیس فوجی عدالتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں!! سول عدالتی نظام پر یہ عدم اعتماد! فوجی عدالتیں بلاشبہ اپنے فرائض بڑی خوش اسلوبی اور قانونی دائروں میں رہ کر اچھے انداز میں انجام دیتی ہیں مگر فوج کو ہر معاملہ میں کیوں گھسیٹا جارہا ہے۔ فوج پہلے ہی خارجہ ' داخلہ کے بیشتر امور انجام دے رہی ہے۔ وہ الیکشن کراتی ہے' مردم شماری کرتی ہے' پولیو کی مہم چلاتی ہے' ملک میں بدامنی کو کنٹرول کرتی ہے۔ سول مقدمات سنتی ہے اور ملک کی سرحدوں پر قربانیاں بھی دے رہی ہے … پھر سول حکومتوں کا کیا جواز رہ جاتا ہے! مختلف جرائم کا مافیا کتنا زبردست اور طاقتور ہے! اس کا اندازہ لگائیں کہ سپریم کورٹ نے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے گھر میں شدید تشدد کا نشانہ بننے والی جس10 سالہ بچی طیبہ کو پیش کرنے کاحکم دیا تھا اسے اس مافیا نے عام منظر سے ہی غائب کر دیا ہے۔ فاضل عدالت کے حکم پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی ہے جو بچی کا سراغ لگائے گی۔ یہ بچی اسلام آباد سے فیصل آباد لے جائی جارہی تھی راستے میں غائب کر دی گئی۔ یہ بات پہلے سامنے آچکی ہے کہ غریب والدین کے کمسن بچوں کو خرید کر امیر گھرانوں میں ملازم رکھوانے والا بہت وسیع مافیا کام کررہا ہے اس میں خاص قسم کی عورتیں بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف پولیس کا رویہ دیکھیں۔ عدالت میں کہا کہ بچی کا سراغ لگانے کے لئے دو ہفتے درکار ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تین دن کے اندر پیش کی جائے۔ پولیس کا یہ رویہ جرائم میں معاونت کا کیا رخ پیش کرتا ہے۔ بچی کا معاملہ جب پہلے دن سامنے آیا تھا تو پولیس نے اسے اپنی تحویل میں کیوں نہ لے لیا؟ بچوں کو اغوا کرنے والے مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ جیسے بھی ممکن ہو عدالتی کارروائی کو رکھوایا جائے۔ یہ مقولہ تو پہلے ہی عام ہوچکا ہے کہ پولیس کی معاونت نہ رہے تو اتنے جرائم نہیں ہوسکتے۔ اس کیس کا ایک پہلو یہ بھی کہ اس بچی کے چار باپ پہلے ہی منظر پر آچکے ہیں۔ گزشتہ روز بوریوالہ سے ایک پانچواں باپ بھی ابھر آیا ہے۔ بچی کے دو نام طیبہ اور ثنا پہلے ہی سامنے آچکے ہیں' اس نئے والد نے اس کا نام رمضانہ بتایا ہے۔ پتہ نہیں ابھی اور کتنے باپ اور نئے نام سامنے آئیں گے۔ کالم کی تحریر کے وقت خبر چل رہی ہے کہ بچی کی پھوپھی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ممکن ہے اور خبریں بھی آجائیں۔ ٭ کالم کے درمیان ایک معاملہ: پاکستان ٹیلی ویژن نے ڈیڑھ سال پہلے6 ستمبر2015 ء کو 1965 ء کی جنگ کے بارے میں چشم دید واقعات بیان کرنے کے لئے بلایا۔ آخر میں ایک فارم پر دستخط کرائے گئے کہ آپ کو معاوضہ بھیجا جائے گا۔ چھ ماہ کے بعد پروگرام پروڈیوسر نے پوچھاکہ چیک مل گیا ہے یا نہیں۔ میں نے بتایا کہ نہیں ملا۔ اس نے کہا کہ ابھی پتہ کرتا ہوں۔ پھر ڈیڑھ برس گزر گیا۔ کچھ نہ ہوا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں پی ٹی وی کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی سے ملاقات ہوگئی۔ ہم دونوں ایم اے میں اکٹھے تھے۔ دو سال رات دن اکٹھے رہے۔ مجھے چیک والی بات یاد آگئی۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا تو نہیں کہ چیک غائب ہوگیا ہو؟ اس پر قاسمی نے ہنس کر کہا کہ یہ تو عام بات ہے! میں بھی ہنس پڑا! ٭ لودھراں کے نزدیک ریلوے ٹرین کا کھلے پھاٹک پر دو رکشوں سے تصادم! مجھ میں تفصیل میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ بالکل ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ برس سندھ کے علاقہ میں پیش آیا تھا! پھر کیا احتیاط کی گئی! پھاٹک اسی طرح کھلے' ٹرین ڈرائیور اسی طرح نیند میں مدہوش' کسی سرخ اشارے کی پروا نہیں کرتے۔ قانون اور احکام موجود ہیں کہ انجن ڈرائیور پھاٹک پر پہنچنے سے پہلے ہارن بجائے۔ حالیہ واقعہ میں سگنل بند تھا' ڈرائیور نے پھاٹک پر رکشہ دیکھ کر ہارن نہیں بجایا' سگنل کو نظر انداز کیا اور … اور … انا للہ و انا الیہ راجعون! وزیر ریلوے نے ایک روز قبل ریلوے کی ترقی کے اعلانات کیے تھے اور اگلے روز!!! ٭ پوری قوم کو مبارک سلامت! کہ وفاقی وزیر خزانہ نے ملک میں بعض اشیاء کی اچانک مہنگائی پر تشویش کا اظہار کر دیا ہے!! وزیر خزانہ کی تشویش! قوم کو اور کیا چاہیے؟ وزیر خزانہ کوئی معمولی چیز ہے؟ اس نے تشویش کا اظہار کیا ہے یہ کوئی معمولی بات ہے؟ وہ ایسا نہ بھی کرتا تو کسی نے اس کا کیا بگاڑ لینا تھا! پس اے ساکنان آباد بستی! وزیر خزانہ کی عوام سے ہمدردی پر اظہار تشکر ضروری ہے! ٭ محکمہ موسمیات کو بہت ہمدردانہ مشورہ دینا چاہتاہوں کہ وہ کئی ہفتوں تک مسلسل خشک سالی کی پیش گوئیاں جاری رکھے تاکہ ملک بھر میں بارشیں جاری رہیں۔ عوام سے درخواست ہے کہ محکمہ موسمیات جس روز سارا دن خشک رہنے کی پیش گوئی کرے اس روز وہ گھر سے نکلتے وقت اپنے ساتھ چھتری ضرور رکھا کریں! ویسے قوم کی خوش نصیبی کہ جس روز بارش کی دعائیں مانگی گئیں اس سے اگلے روز بارش اور برف باری شروع ہوگئی۔ خدا تعالیٰ کا بے حد شکریہ! ٭ لاہور کے ایک ہسپتال میں ایک مریضہ بستر نہ ملنے پر ٹھنڈے فرش پر تڑپتی ہوئی چل بسی! وقتی طور پر محکمہ صحت کے حکام نے سخت کارروائی کا اعلان کیا اور گزشتہ روز گوجرانوالہ سے کچھ دور ڈسکہ کے سول ہسپتال میں زچگی کی حالت میں آنے والی ایک مریضہ کو ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا اور وہ وہیں ٹھنڈے فرش پر گرگئی۔ عین اسی موقع پر وزیراعظم پاکستان اسلام آباد میں نرسنگ یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کررہے تھے کہ میں صحت کے معاملات کو ہر شعبہ پر ترجیح دے رہا ہوں! ٭اے ایس ایم ایس: تحصیل دھیر کوٹ ضلع باغ آزاد کشمیر کے میونسپل حلقہ ایل اے 13 غربی میں سڑکیں' سکول' ہسپتال ہر شعبہ کی حالت نہایت خراب ہے۔ سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں۔ زلزلہ کے بعد ہم لوگوں نے چندہ جمع کرکے ایک سڑک بنائی تھی وہ بھی ختم ہوچکی ہے۔ زلزلہ سے سب کچھ تباہ ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد اب تک صرف ایک سکول کی حالت ٹھیک کی گئی۔ باقی سب کچھ اسی طرح ہے۔ خواتین رات کے وقت دور سے سر پر اٹھا کر پانی لاتی ہیں۔ ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ہماری حالت زار چھاپ دیں۔ سبحان راجا (03119762878)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved