کیا خاتون کو انصاف مل پائے گا؟
  9  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاکستان میں جرائم کی رفتار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کی محض ایک وجہ ہے اور وہ ہے انصاف کا نہ ملنا۔ جرائم کی خبریں روزانہ اتنا زیادہ شائع ہوتی ہیں کہ چند روز کے واقعات کو جمع کرکے آپ بآسانی اسے ایک کتاب کی شکل دے سکتے ہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا سال گزرا ہو کہ جب جرائم کی شرح گزشتہ سال کی نسبت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہو ہر حکومت بلند بانگ دعوے کرتی ہے (اقتدار میں آنے کے ابتدائی دنوں میں) اور جرائم کے خاتمے کے لئے روزانہ عوام کو خوشخبریاں سناتی ہے ۔ عوام بیچاری بھی اسی انتظار میں پانچ سال گزار دیتی ہے۔ یہ حکمران اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ سچ لگنے لگتے ہیں۔ مگر جھوٹ جھوٹ ہی ہوتا ہے ۔ نیتوں میں فتور ہے۔ وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اقتدار بھی ہو‘ طاقت بھی ہو‘ وسائل بھی دستیاب ہوں اور کام کرنے کی لگن ہو اور نیت میں بھی اخلاص ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام کے مسائل حل نہ ہوں‘ جرائم میں کمی واقع نہ ہو‘ معاشرے میں امن و سکون نہ ہو‘ نظام درست نہ ہوسکے‘ عدلیہ درست کام نہ کرے۔دہشت گردی میں کمی اس کی نمایاں مثال ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب عوام حالات سے مایوس ہو کر دہشت گردی اور بم دھماکوں کو قسمت کا دیا سمجھ کر دل کو جھوٹی تسلی دیتے تھے۔ یہ لوگ اپنا کاروبار ختم کرکے دیگر ممالک میں ہجرت کررہے تھے۔ مگر جب پاک فوج نے مخلص ہو کر کام کیا ۔ مصلحتوں کو ایک طرف کرکے اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم کرکے ملک اور قوم کی حفاظت کا ذمہ لیا تو آج پوری دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ محض مختصر عرصے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات اس حد تک کم ہو جائیں گے؟ مگر جب نیتوں میں خلوص ہو اور کام کرنے کی لگن ہو تو پھر ذات پروردگار خود مدد کرتی ہے۔ ہمارے اس معاشرے میں خواتین پر کس قدر مظالم ہو رہے ہیں اس کی پوری تفصیل میں لکھنے سے قاصر ہوں‘ عزت کے نام پر قتل تو گویا اس معاشرے کا حصہ بن چکا ہے بلکہ اب تو اس قسم کے قتل کے جواز کے لئے باقاعدہ سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے کہ کیا عزت کے نام ہونے والے قتل جائز ہیں یا غلط؟ کیا شریعت میں جو چیز حرام ہے‘ اسے حلال قرار دلوانے کے لئے بحث شروع کی جاسکتی ہے۔ جو چیز حرام ہے وہ تاقیامت حرام ہے۔ آپ اس کے حق میں ہزاروں دلیلیں وضع کریں مگر حرام چیز حلال نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح قتل قتل ہے چاہے کچھ بھی کہہ ڈالیں یا اس قتل کے حق میں فتوے لے آئیں یا دلائل دیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جائز ہو جائے۔جسے قرآن نے حرام قرار دے دیا ہو وہ حلال کبھی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کے خواتین سے ہونے والے اور کئی طرح کے مظالم ہیں جو محض کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر کسے جاتے ہیں اور پھر ظلم کرنے والے کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم میرا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے۔چہرے پر تیزاب پھینکنا بہت پرانا عورت کے خلاف ہونے والا ظلم جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اسی طرح خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے کے لئے قرآن سے شادی جیسے واقعات یہ واقعات کا تسلسل سے ہمارے معاشرے میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں مگر کہیں انصاف ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ آج میں اس خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جو انتہائی مجبور ہے۔خاندان کا گزر اوقات اس کی ملازمت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسے ملازمت کی تلاش تھی۔ اسی تلاش میں وہ ایک جیسے بااختیار‘ طاقتور‘ موجودہ حکمران پارٹی کا سیاسی کارکن‘ دارالحکومت سے منتخب شدہ حکومتی ایم این اے کے ساتھ (روزنامہ اوصاف میں تصویر بھی چھپ چکی ہے) دوستی اور سب سے بڑھ کر اس کمینے اور گھٹیا صفت شخص پر شیطنیت کا غلبہ۔ اس نے خاتون کو ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیا۔ خود کو ایم این اے ظاہر کیا۔ وفاقی دارالحکومت کے علاقے سہالہ کے ایک مکان میں بلایا۔ ضرورت مند خاتون اسی آس اور امید پر چلی گئی کہ شاید روزگار کا بندوبست ہو جائے۔ اس خاتون کے بقول وہ جب اس مکان میں پہنچی تو وہاں پہلے ہی دو افراد موجود تھے۔ انہوں نے مجھے شراب پلانے کی کوشش کی۔ مگر ان کی کوششوں کے باوجود وہ مجھے شراب پلانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس نشے کی حالت میں وہ تینوں ساری رات اس خاتون کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے رہے اور جب وہ نشے میں دھت سو گئے تو وہ خاتون بھاگنے میں کامیاب ہوئی اور تھانے پر رپورٹ درج کرائی۔ ہر واقعہ کا نوٹس لے لینے کو گڈگورننس کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ گڈگورننس کا دعویٰ کرلینا اور اپنے حواریوں یا خوشامدیوں سے تعریف کروالینا یا توصیفی خبریں شائع کروانا اسی طرح کے کالم لکھوا لینا تو بہت آسان ہے مگر حقیقی طور پر صوبے میں گڈگورننس کے قیام کا تعلق جھوٹے دعوؤں سے قطعاً نہیں ہے۔ یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ایم این اے کے حلقے میں ہوا ہے۔ اور مجرم بھی حکمران جماعت کا اپنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کا کوئی فالو اپ نہیں ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ ہر سیاسی جماعت میں ایسے مجرم صفت کارکن ہوتے ہیں جنہیں حکمرانوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے مگر جب ایسے ظالم لوگوں کو معلوم ہو جائے تو معاشرے کا نظام عدل اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا کیونکہ اسے طاقتوروں کی حمایت حاصل ہے تو وہ اپنی شیطانی خواہشات کی تکمیل (چاہے وہ جنسی ہوں یا دیگر) کے لئے معاشرے کے کمزوروں پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ یہی بگاڑ کا اصل سبب ہے‘ اگر معاشرے کے اس ظالم طبقہ کو طاقتوروں کی حمایت و سرپرستی نہ ملے اور نظام عدل بھی درست کام کر رہا ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ معاشرے میں ہر سال جرائم کی شرح مزید بڑھ جائے۔ کیا ملازمت کی خواہش مند اس مجبور اور مظلوم خاتون کو انصاف مل پائے گا؟ اس کا جواب ہاں میں دینا بہت مشکل ہے کیونکہ پورے ملک میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں میں سے اکثریت کو حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ یا سیاسی کارکنوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں اس خاتون کو انصاف ملنا بہت مشکل ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved