لہو کے نقشے
  9  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ایک طرف مایوسی اور موت کے طویل ہوتے ہوئے سائے ہیں تودور افق پر ایک دھندلا سا منظر بھی ابھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔جو دل خوش کن خیال بھی ہوسکتا ہے اور زندگی کا پیغام بھی۔ امید و یاس کے بین بین اس منظر میں مشترکہ اسلامی فوج کی کمان کا تقرر اور روس کی شام کے جنگی منظر نامہ سے پیچھے ہٹنے کو بے تابی اہم خیال کی جاتی ہے۔دونوں الگ الگ واقعات ہیں، باہم تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ۔ وقت کا قاضی جلد ہی فیصلہ سنا دے گا ، اس کا انتظار ہی بہتر حکمت عملی ہو سکتی ہے ۔بر سر زمین حقیقت توصرف اتنی ہے کہ پورا عالم اسلام خصوصاًخطہ عرب آتش نمرود کی لپٹ میں ہے۔ملک تاراج ہوا جاتے ہیں، شہرکھنڈرات میں بدل رہے ہیں، معاشرے موت نگل گئی ۔ بے گورو کفن لاشوں کے انبار، خون کی ندیاں ، لشکر در لشکر زندگی کی تلاش میں بے اماں لوگ، اور موت کو ترستی زندگی ، کوئی ادبی استعارے نہیں ، زندہ حقائق ہیں جو ہر لمحہ ٹی سی سکرینوں پر ہماری بے حسی ،بے حیثیتی اور شقاوت قلبی کا ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پوری دنیاکی مجرمانہ خاموشی اپنی جگہ عالم اسلام کا کردار بھی کم شرمناک نہیں۔ او آئی سی ہر چند کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے کی عملی تفسیر ہے۔ انفرادی طور پر بھی اسلامی ممالک کوئی قابل تعریف کردار ادا نہیں کر سکے۔سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ ہر طرف جان اور مال بچانے کی دوڑ ہے۔ جس میں تمام ’’قابل احترام‘‘ حکمران مصروف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس تمام منظر نامہ کی حقیقت کیا ہے؟ اور پوری دنیا کا منقار زیر پر ہونا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ جواب ایک ہی ہے جو سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈو لیزا رائس نے21جولائی 2006 کواسرائیل لبنان جنگ کے فوراً بعد دیا تھا کہ ’’یہ نئے مشرق وسطیٰ کا نقطہ آغاز ہے ٗ اب اس خطہ کا نقشہ تبدیل کرنا لازمی ہے‘‘۔یہ سب اسی کا دوسرا مرحلہ ہے ،اس کے سوا کچھ نہیں۔ احباب کا اصرار ہے کہ رالف پیٹر کی’’ بلڈ بارڈر‘‘ رپورٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے مگر منصوبہ کو سمجھنے کے لئے اس سے پہلے کا منظر جاننا بھی ضروری ہے ۔لہذا بات وہیں سے شروع کرتے ہیں،کیونکہ نیا مشرق وسطیٰ اور نقشہ تبدیل کر دینے کی اصطلاح’’ پیکس امریکا ‘‘(Pax America )نامی اس منصوبہ کا حصہ ہے جسے 1991ء میں بش اول نے نیو ورلڈ آرڈر کا نام دیا تھا۔ بعد ازاں عالمی سطح پر تشویش کو ملحوظ رکھتے ہوئے امریکی حکومت نے ایک فیصلہ کے تحت نیو ورلڈ آرڈرکے لفظ پر پابندی لگادی مگر پیش رفت جاری رکھی۔ اس تناظر میں بلڈ بارڈر کے ساتھ ساتھ دو مزیددستاویزات اہمیت کی حامل ہیں جن میں نئے مشرق وسطیٰ کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں۔ 1998ء میں امریکی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی جاری کردہ سٹرٹیجک اسیسمنٹ رپورٹ اور 2004ء میں G-8 سربراہی کانفرنس کیلئے امریکہ کی گریٹر مڈل ایسٹ کے نام سے بریفنگ۔ اس بات سے انکارط ممکن نہیں کہ بعد ازاں زمینی حقائق کے پیش نظر اصل حکمت عملی اور ٹائم فریم میں تبدیلیاں آئی ہیں لیکن منصوبہ اور ہدف بہرحال وہی ہے ۔ نئے مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک بات مدنظر رہنی چاہئے کہ امریکہ کی نظر میں مشرق وسطیٰ سے مراد وہ محدود خط نہیں جسے آج دنیا جانتی ہے بلکہ وہ شمالی افریقہ میں مراکش سے لیکر جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان تک کی پوری پٹی کو گریٹر مڈل ایسٹ کا نام دیتاہے۔امریکی این ڈی یو کے سٹرٹیجک اسسمنٹ کے باب 4 کا عنوان ہی گریٹر مڈل ایسٹ ہے۔ پہلا پیراگراف ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ امریکہ اس خطہ سے کیا سلوک کرنے جا رہا ہے۔ کیونکہ تمام ممالک کو’’ بدمعاش (Rogue) اورناکام (Faild) ‘‘قرار دیکر امریکی سکیورٹی کیلئے خطرہ بتایا گیا ہے۔اور بلا کم و کاست کہا گیا ہے کہ’’ توانائی کے ذخائر رکھنے اوران تک رسائی کی راہ میں آنے والے تمام ممالک چونکہ مسلمان ہیں اور کسی بھی وقت مغرب کی ترقی کا ایندھن روک سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ امریکہ اس گریٹ مڈل ایسٹ کو تبدیل کرے اور اپنے کنٹرول میں لے۔‘‘ یہ کنٹرول کس نوعیت کا ہوگا؟ رپورٹ اس کی بھی وضاحت کرتی ہے۔کہ اول فوجی موجودگی ۔دوسرے تعلیم، نظام حکومت اور سماجی تبدیلیوں سے۔ اس کے مطابق اسرائیل وہ واحد ملک ہے جو امریکہ کا سچا اتحادی ہے۔ ترکی بھی ہے ،چونکہ مسلمان ہے لہٰذا قابل اعتبار نہیں۔ (یہ بات بعد میں سچ بھی ثابت ہوگئی)اس لئے امریکہ اسرائیل کو مکمل فوجی اور تکنیکی امداد فراہم کرتا رہے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل تمام عرب ممالک کے مقابلہ میں مضبوط اور طاقتور ہو۔ تاکہ وہ ’’امن‘‘ قائم رکھ سکے یعنی تھانیداری نباہ سکے۔یہی منصوبہ اس نے جون 2006میں جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں پیش کیا ،اور انہیں باور کروانے کی کوشش کی کہ’’ مڈل ایسٹ کا خطہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے خطرہ ہے لہٰذا مل کر کام کیا جائے۔ جی ایٹ کو دی گئی بریفنگ میں امریکیوں نے زور دیا کہ جمہوریت ٗ تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنا کر اس پورے خطہ کی ثقافت کو بدلا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی مرحلہ وار سٹرٹیجی کے مطابق پہلے مرحلہ میں ان ممالک کو انتخابات پر مجبور کیا جائے گا اور اس عمل میں امریکہ بذات خود شریک ہوگا۔ یہ مرحلہ تاخیر کا شکار ہوا ، عرب سپرنگ اسی پر عملدرآمد تھا ۔دوسرے مرحلہ میں این جی اوز کے کردار کو وسعت دی جانی تھی اور امریکہ کی جانب سے ملکی حکومتوں کو باہر رکھ کر براہ راست این جی اوز کے زریعہ سے رقوم خرچ کرنے کا منصوبہ پیش کیاگیا۔ تعلیم کے میدان میں مغربی فلسفہ اور لٹریچر ان ممالک میں پھیلائے جانے کا عزم بھی کیا گیا،ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر بھی عمل درآمد ہوچکا ۔ (جاری ہے) سوال یہ ہے کہ امریکہ کے مجوزہ گریٹر مڈل ایسٹ کی سیاسی صورتحال کیا ہوگی؟منصوبے کے تحت اس کی حیثیت سرحدوں کے تصور سے ماورا ایسے ڈھیلے ڈھالے وفاق کی ہوگی جس میں ملک اور حکمران تو رہیں گے، لیکن ان کی حیثیت امریکہ کے مقرر کردہ ہرکاروں سے زیادہ نہ ہوگی۔ البتہ اس پورے ریوڑ میں صرف اسرائیل چونکہ امریکہ کا قابل اعتماد ہوگا اس لئے طاقتور اور بالاتر فوج کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار رکھنا بھی صرف اسی کا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ اسرائیل کے تحفظ اور امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کی خاطر عالمی فورس ٗ نیٹو یا کسی اور نام سے مبعوث ہوگی البتہ امریکہ یا اسرائیل جب خود کسی کو سزا دینا یا اپنی افواج کی سستی دور کرنا چاہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہوگا۔رپورٹ کے مطابق ’’اس خطہ میں امریکی فوجی قوت کی موجودگی ہی کافی نہیں اس کا اظہار بھی ہونا چاہئے تاکہ خوف پیدا ہو اور لوگ امریکہ سے ڈریں۔اس سب کے لئے ایک دہائی یعنی 2008ء تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی ۔ فوجی موجودگی ا ور خوف پیدا کرنے کی حد تک وہ اپنا کام وقت مقررہ پر کرچکے ،تعلیم اور سماجی تبدیلیوں میں بھی وہ ایک حد تک ہی سہی مگر مگر کامیابی حاصل کرچکے مگر اس کے باوجود گریٹ مڈل ایسٹ قائم کرنے میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی ، وجہ کیا رہی اس پر بات بحث کے آخر تک اٹھائے رکھتے ہیں۔(جاری ہے)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved