ضرب قلم‘ اہل قلم اور شعر و ادب کے پھول؟
  9  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وزیراعظم کہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی طرح آپریشن ضرب قلم کی بھی اشد ضرورت ہے ہم زبان و بیان کا سلیقہ بھولتے جارہے ہیں‘ ہمارا لب و لہجہ کرخت ہوگیا‘ دل آزاری کے الفاظ عام ہوگئے...غمگساری اور دلداری و محبت پیدا کرنے والے الفاظ ہم بھولتے جارہے ہیں... یہ روئیے جو میڈیا کے ایک حصے کے ذریعے عام ہو رہے ہیں... نئی نسل کو متاثر کر رہے ہیں... اہل قلم قوم کے دل‘ روح اور دماغ کا درجہ رکھتے ہیں‘ جن معاشروں میں شعر و ادب کے پھول کھلتے ہیں...وہاں عدم برداشت‘ ناانصافی اور فرقہ پرستی جیسی بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں‘‘ یہ باتیں انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ اہل قلم کانفرنس سے خطاب میں کہیں۔ پانامہ کی تلوار کی زد میں آئے ہوئے وزیراعظم نے ’’اہل قلم‘‘ کے دنوں کو لبھانے کے لئے غمگساری اور دلداری کی جو باتیں کی ہیں... وہ واقعی توجہ طلب ہیں... میں ان پر بحث تو آگے چل کر کروں گا... فی الحال ’’قلم‘‘ کے حقیقی پاسبان امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے یہ جملے بڑھیے... وہ لکھتے ہیں کہ ’’اگر تم اس لئے نہیں اٹھتے تھے کہ جب تک زلزلے نہ آئیں گے نہیں اٹھو گئے‘ اور جب تک آتش فشاں پہاڑ نہیں پھٹیں گے‘ آنکھ نہیں کھولو گے اور جب تک پہاڑوں کی چوٹیوں اور سمندروں کی موجوں کے اندر سے چیخ نہ اٹھے گی... کانوں کو نہیں کھولو گے۔ تو آہ! یہ کیا ہے کہ زلزلے بھی آچکے ہیں اور تم نے کروٹ نہ لی؟ آتش فشانیوں کی ہولناکیوں سے زمین چیخ اٹھی‘ اس پر بھی تم خبردار نہ ہوئے؟ اب اور کس بات کے منتظر ہو اور کیا چاہتے ہو‘ کہ آسمان پھٹ جائے اور آفتاب کے پرزے پرزے ہو جائیں... اور کرۂ ارض دھواں بن کر اڑ جائے۔ چونکہ ادبی کانفرنس کی میزبانی میں ہمارے محترم قبلہ عرفان صدیقی بھی تھے... جبکہ پیارے سرفراز سید بھی شرکاء میں موجود تھے... اس لئے یقین کئے لیتے ہیں کہ کانفرنس اہل دانش اور اہل قلم ہی کی تھی... اور وہاں کہیں ’’دانش فروش‘‘ موجود تھے اور نہ ہی امریکی اور بھارتی پٹاری کے ڈالرخور... اہل علم و دانش اور اہل قلم سے بڑھ کر کون جاسکتا ہے کہ یہ ’’قلم‘‘ ہی تو ہے کہ جس کی قسم پروردگار عالم نے اٹھا کر اسے رفعت و عظمت عطا فرمائی... اور اہل ’’قلم‘‘ کی پہلی ذمہ داری اللہ کی توحید‘ خاتم الانبیاءﷺ کی رسالت کی پاسبانی اور نفاذ اسلام کی برکات سے امت کو آگاہ کرنا لازم بنتا ہے‘ نظریہ پاکستان کا تحفظ‘ فحاشی و عریانی پھیلانے والوں کے خلاف قوم کو بیدار کرنا‘ معاشرے کی برائیوں کو بے نقاب کرکے اس کا مثبت حل تجویز کرنا... یہ اہل علم و قلم کی ذمہ داری ہوا کرتا ہے... زبان و بیان کا سلیقہ تبھی یاد رہتا ہے‘ لب و لہجہ تبھی نرم ہوتا ہے... غمگساری و دلداری کے چشمے تبھی پھوٹتے ہیں‘ محبت و مودت کی باتیں تبھی پروان چڑھتی ہیں... جب قوم کو اپنی اصل بنیاد یعنی صراط مستقیم پر چلانے کی کوشش کی جائے... لیکن جب حکمران اسلام کے نظام عدل کو پس پشت ڈال کر انگریز کے نظام کے مطابق ملک چلانے کی کوشش کریں... اور اہل ’’قلم‘‘ حکمرانوں کے درباروں میں کورنش بجا لانا اپنے لئے سعادت جانیں... جب امریکہ اور برطانیہ کے ویزوں اور وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی سعادت ہی علم و قلم کی معراج ٹھہرے... جب یورپ اور ہندوؤں کی بدبودار تہذیب منوانا ہی میڈیا لازم ٹھہرالے... جب پاکستانی سرحدات کو پامال کرکے امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے سینکڑوں پاکستانی بچوں کی لاشوں پر بھی ادب اور شاعری کے سوتے خشک ہو جائیں... تو پھر جان لیجئے کہ اس دور کے ’’سلطان‘‘ ہی نہیں بلکہ علم و قلم اور شعر و ادب کے آسمان کے ستاروں سے بھی کوئی بھول ہوئی ہے۔ یقیناًوزیراعظم کی فرمائی ہوئی یہ بات سچ ہے کہ ’’اہل قلم‘‘ قوم کے دل‘ روح اور دماغ کا درجہ رکھتے ہیں‘‘ ... معاف کیجئے گا وہ اہل ’’قلم‘‘ اور ہوا کرتے تھے... وہ اپنے دماغ سے سوچتے تھے... اور اپنے لکھے ہوئے الفاظ کو خون جگر سے سینچتے تھے... جب اہل قلم و دانش... پیٹ سے سوچنا شروع ہو جائیں... تو پھر ’’قلم‘‘ چاہے سونے کا بھی کیوں نہ ہو... وہ محض ایک ’’آلہ‘‘ بن جاتا ہے... اور قلم کار... محض آلہ کار‘ پاکستان کو ایسے اہل قلم کی ضرورت ہے... جو قوم کو نظریہ پاکستان نہ بھولنے دے... پاکستان کو ایسے شاعروں‘ ادیبوں کی ضرورت ہے... جو قرآن و سنت کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر ... قوم کے سامنے شعر و ادب کے ایسے نایاب موتی پیش کریں کہ جو انسانوں کی روح تک کو معطر کر ڈالیں... کسی حکمران‘ کسی سیاسی یا مذہبی شخصیت یا کسی سیاسی جماعت نے ہمیشہ نہیں رہنا‘ ہمیشہ رہنے والی ذات تو خالق و مالک کی ہے... یہ سوشلزم ‘ کمیونزم‘ کیپٹلزم‘ یہ سارے بدبودار ازم تو عارضی ہیں... ہمیشہ کے لئے تو قرآن و سنت کا دیا ہوا نظام اسلام ہی ہے... قیامت تک کتاب اللہ (قرآن مجید) کا ڈنکا بجے گا یا پھر محمد الرسول اللہ(ﷺ) کا تو پھر ’’قلم‘‘ کو عارضی نظاموں‘ عارضی شخصیات یا چھوٹے‘ چھوٹے ذاتی مفادات پر کیوں قربان کیا جائے؟ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا لازم ہے... لیکن قوم کے بچوں کے ذہنوں میں‘ جھوٹ‘ فراڈ‘ نظریہ پاکستان اور خاتم الانبیاءﷺ کی سنتوں کے خلاف زہر بھرنے کی قیمت پر نہیں‘ کبھی نہیں۔ جب ’’قلم‘‘ ذاتی‘ گروہی‘ مسلکی‘ سیاسی لسانی‘ یورپی اور بھارتی مفادات کے ’’اسیر‘‘ ہو جائیں... تو پھر پھول نہیں کھلتے... بلکہ نفرتوں کے شرارے پھوٹتے ہیں... جناب وزیراعظم نے بھی اپنی تقریر میں کسی میڈیا کے ایک حصے پر سنگ باری کرنے کی کوشش کی... مگر جناب وزیراعظم وہ میڈیا کا دوسرا حصہ کونسا ہے کہ جس کی وجہ سے پاکستان میں محبتوں کے چشمے ابلتے ہیں... آپ کا پسندید میڈیا کا دوسرا حصہ کون سا ہے کہ جس کی وجہ سے پاکستان میں شعر و ادب کے پھول کھلتے ہیں؟ کہیں میڈیا کا یہ حصہ وزیراعظم ہاؤس کے کسی کمرے میں قیام پذیر تو نہیں ہے؟ مجھے آج ایک ایسا قادر الکلام شاعر یاد آرہا ہے کہ جس کا نام ساغر صدیقی تھا... لوگ کہتے ہیں کہ یہ نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر تھا۔ میں ایسے کہنے والوں کی کسی بات کو رد نہیں کرتا... مگر ساغر صدیقی کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے ... اس کا دل و دماغ امریکی پھپوندی سے قطعاً داغدار نہ تھا... امریکی‘ یہودی غلامی کا نشہ ہیروئن کے نشے سے بھی بدتر ہے... بھارتی ’’مراتب‘‘ خوری کا نشہ‘ شراب کے نشے سے بھی بدتر ہے... ساغر صدیقی کے اندر عشق رسولﷺ ٹھاٹھیں مارتا تھا... ان کے نعتیہ شعر ملاحظہ کیجئے۔ جن کو الہام نبوت کا امیں ہونا تھا جن سے قائم ہوئے بیدار نگاہی کے اصول دوش براق پہ پہنچے جو عرش بریں وہ خلاؤں کے پیغمبرؐ وہ فضاؤں کے رسولؐ ساغر صدیقی مرحوم کے چند نعتیہ شعر اور بھی پڑھ لیجئے... آپ کے ایمان کو تازگی ملے گی۔ اس کی لوری کیلئے لفظ کہاں سے لاؤں سارے عالم کے مقدر کو جگایا جس نے جس کے جھولے پہ ملائک نے ترانے چھیڑے قیصر و کسریٰ کی منڈیروں کو ہلایا جس نے جو کھلونوں سے نہیں شمس و قمر سے کھیلے جن پہ سایہ پر جبریل کیا کرتے تھے گود میں لے کر گزرتی تھی حلیمہ جس سمت خار اس راہ کے خوشبو سی دیا کرتے تھے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved