قاتل ٹرین!
  9  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
خون لکھوں کہ خون آشام لکھوں؟ نوحہ کے پیوند لگاؤں یا ماتم کی اصطلاح میں تڑپتی سسکتی ماؤں کے جگر گوشوں کی موت کو سینہ کوبی کے نام سے پکاروں؟ صبح سویرے ہی ننھے منے چاند چہروں کو آفتاب تازہ نگل گیا۔ ممتا کی حسرتوں کا جنازہ اُٹھا۔ بے بس باپ آنسوؤں کے فشار میں بہتی ہوئی آنکھوں کی لحد میں اُتر گئے۔ ایک نہیں کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ یہ جمعۃ المبارک کی مبارک صبح تھی۔ جس کے چہرے پر ایک ٹرین چڑھ گئی۔ غفلتوں کی ٹرین اقتدار کے نشے میں دوڑتی، بھاگتی ، بدمست ، قاتل ٹرین، بدمعاش ٹرین، بیمار ٹرین، کرپشن کی پٹڑی پر زندگیوں کو چاٹتی ٹرین، لوہے کی ٹرین، کمیشن کی ٹرین، افسروں کی ٹرین، سیاستدانوں کی ٹرین، غلام قوم کی غلام ٹرین، لاچار قوم کے چارہ گروں کی ٹرین، موت بانٹنے والے مسیحاؤں کی ٹرین، جاگیرداروں کی راکھیل، سرمایہ داروں کی داشتہ، امیر کی تسکین، غریبوں کی تحقیر، قمار خانوں سے عشرتوں کدوں تک کی مسافر ٹرین۔ کبھی پیپلزپارٹی کی ٹرین۔ کبھی ’’ق‘‘ لیگ کی ٹرین کبھی ’’ن‘‘ لیگ کی ٹرین۔ کبھی ایوب خان کی ٹرین کبھی ضیاء الحق کی ٹرین، کبھی پرویز مشرف کی ٹرین، کبھی آصف علی زرداری، کبھی نوازشریف کی ٹرین، کبھی شیخ رشید کی ٹرین، کبھی خواجہ سعد رفیق کی ٹرین۔ یہ رنگ و روپ چال، ڈھال اور مست مال ٹرین 70 برسوں سے مسلسل پاکستان کے طول و عرض میں بچھی ہوئی زیست کی پٹڑیوں پر موت کے ہارن بجاتی، اٹھکھیلیاں لیتی، زندگی کی سانسوں کو کچلتی روندتی، آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اِن 70 برسوں میں سینکڑوں حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد اپاہج اور ہزاروں افراد ہی زندگی کی لکیر عبور کر گئے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج تک کوئی ایوب خان، کوئی ضیاء الحق، کوئی پرویز مشرف، کوئی چوہدری شجاعت حسین، کوئی آصف علی زرداری، کوئی حسین نواز،کوئی مونس الٰہی، کوئی حمزہ شہباز، کوئی بلاول بھٹو، کوئی شیخ رشید، کوئی سعد رفیق اِس قاتل ٹرین کی زد میں نہیں آیا۔ جتنے حکمران بھی آئے ہیں اِس ٹرین کے اوپر ہی آئے ہیں۔ اور 70 برسوں سے ہمیشہ اِس ٹرین پر غفلتوں اور کمیشنوں کا اقتدار چڑھتا رہا ہے۔ کاش کسی روز یہ سب بھی اِس ٹرین کے نیچے آ جائیں تا کہ لودھراں کی سرزمین پر آنسو بہاتی، تڑپتی اور سینہ کوبی کرتی اُن ماؤں کے آنسوؤں کی قطار تھم سکے جو اُن کے جگر گوشوں کے جنازوں پر خون کو پانی بنا کر آنکھ کی پُتلی کی آبشار سے بہہ رہے ہیں۔ قارئین! کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ مبارک دِن کی ایک بدنصیب صبح تھی جب صوبہ پنجاب کے ضلع لودھراں میں سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہی بے خبر ماؤں نے اپنے ننھے منے جگر گوشوں کو سکول جانے کے لئے تیار کیا۔ اُن کے معصوم لبوں پر مامتا کے بوسے دیئے۔ ناشتہ بنا کر دیا۔ لنچ باکس تیار کئے۔ یونیفارم استری کئے، جوتوں کو پالش کی، بستوں میں کتابیں ڈالیں، کاپیاں رکھیں۔ علم و ہنر کے فنون کو رنگوں سے مزّین کرنے کے لئے رنگ برنگی پنسلیں سکول بیگ کے نہاں خانوں میں سجائیں اور دعائیں دیتے ہوئے اپنے بچوں کو چنگ چی رکشوں پر سوار کیا۔ اُنہیں کیا خبر تھی کہ وہ ننھے فرشتے چند لمحوں کی مسافت پر موت کے گلے میں بانہیں ڈالنے والے تھے۔ وہ حسرت بھری مسکراہٹوں کے ساتھ اپنی اپنی ماؤں کے چہرے آخری مرتبہ دیکھ رہے تھے۔ اور دِل ہی دل میں آخری مرتبہ خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ وہ اِس ٹرین کے آگے سے گزرنے والے تھے جو ٹرین گزشتہ 4 برسوں میں 530 سے زائد حادثات کو جنم دے چکی تھی۔ ہاں ہاں وہی ٹرین جو پاکستان ریلوے کی جانی پہچانی، نام نہاد، مسافر ٹرین کے نام سے موسوم کی جاتی ہے۔ جو گزشتہ 4 برسوں کے دوران 14 بڑے حادثات میں 102 بے گناہ، معصوم، اور بے کس اِنسانوں سے اُن کی زندگیاں چھین چکی ہے۔ سینکڑوں مسافروں کو زیست کی رعنائیوں سے محروم کر چکی ہے۔ یہ بے بس۔ یہ بے خبر ماؤں کے جگر گوشے اپنے اپنے رکشے میں بیٹھے ہوئے اپنے اپنے اساتذہ سے درپیش آنے والے لمحوں کے بارے میں خیالوں کی دنیا میں گم ہو کر اُس پھاٹک پر پہنچ گئے۔ جہاں تقدیر اُن کے لئے موت کا پیغام لئے کھڑی تھی۔ دونوں رکشوں پر سوار دو درجن سے زائد بچے ریلوے پھاٹک کراس کرتے ہوئے ہزارہ ایکسپریس کی زد میں آ گئے۔ پھر کیا تھا۔ ماؤں کے بال ہی نہیں۔ وہ کتابیں اور کاپیاں بھی جو ماؤں نے سلیقے سے اپنے جگر گوشوں کے بستوں میں رکھی تھیں وہ ورق ورق بکھر گئیں۔ ننھے ہاتھوں میں پکڑے جانے والے شاپنرز اداس ہو گئے۔ جیو میٹری باکس تنہا رہ گئے۔ سکول بیگز اپنے آپ سے بچھڑ گئے۔ سکیل نے زندگی اور موت کے درمیان ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ ہوم ورک اور سکول ورک کی کاپیاں بین کرنے پر مجبور ہوئیں۔ وہ رنگ برنگی پنسلوں، ہاں سب کی سب پنسلوں نے زندگی کا رنگ ہی سُرخ کر دیا۔ اور خون سے لت پت ننھے فرشتے سکول کے بجائے سوئے عدم چل دیئے۔ بے بس مائیں موت کے فرشتے سے التجائیں کرتی رہ گئیں کہ نہیں نہیں ابھی نہیں۔ ابھی تو اِن ننھے معصوموں نے سکول جانا ہے۔ ابھی تو یہ راستے میں ہیں۔ ابھی تو انہوں نے زندگی کی پہلی دس بہاریں بھی مکمل نہیں کیں۔ ابھی انہیں خزاؤں کی وادی میں مت لے جاؤ! ابھی تو یہ رات کو تنہا باہر بھی نکلنے سے خوف کھاتے ہیں یہ رات کے وقت کس طرح شہرخموشاں میں اکیلے رہیں گے؟ انہیں تنہا سونے کی عادت بھی نہیں ہے۔ سردی کا موسم ہے یہ کچے گھروندے میں ٹھٹھر جائیں گے۔اِن کا دوپہر کا لنچ باکس ابھی گرم ہے۔ ابھی اِن کے کھانے کو ٹھنڈا تو ہو لینے دومگر موت کا فرشتہ اِن ننھی منی روحوں کو لے کر خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گیا۔ خدا تعالیٰ اِن معصوموں کے درجات بلند کرے اور اِن کی ماؤں کو صبر جمیل عطا کرے۔ اور جو بچے شدید زخمی ہیں اُنہیں کامل صحت عطا فرمائے۔ اُنہیں لمبی زندگی عطا کرے۔ (آمین) مگر قارئین! اِس قاتل ٹرین کے آقاؤں سے یہ پوچھنے کا حق تو پھر باقی رہے گا کہ اگر لودھراں کا یہ حادثہ ’’پھاٹک کی غفلت ‘‘کے نام بھی کر دیا جائے تو وزیر ریلوے کو بہرحال یہ بتانا پڑے گا کہ ریلوے کے میڈیا سیل پر محض اپنی تشہیر کے لئے جتنے روپے ماہانہ خرچ کئے جاتے ہیں اُس رقم سے آدھی قیمت پر کئی نئے پھاٹک لگائے جا سکتے ہیں۔ریلوے کا ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کبھی 17 ویں گریڈ کا افسر ہوتا تھا پھر یہ سیٹ 18 ویں گریڈ کے قابل گردانی جانے لگی، پھر بھی قرار نہ آیا تو 19 واں گریڈمسند نشیں ہو گیا اور اب 20 ویں گریڈ کا ڈائریکٹر جنرل خزانے پر بڑا بوجھ بن کر ریلوے حکام کی تشہیر کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک حکمران ذاتی تشہیر کو اہمیت دیتے رہیں گے تب تک ٹرینیں معصوم، بے گناہ، لاچار، بے بس اور بے قرار اِنسانوں پر چڑھتی رہیں گی۔ جھوٹی سچی، جعلی، فضول، بے لگام قسم کی انکوائریاں اور سزائیں ہوتی رہیں گی۔بچے مرتے رہیں گے۔ مائیں روتی رہیں گی اور وزیروں کی وزارتیں چلتی رہیں گی۔ ریلوے کی پٹڑی پر قاتل ٹرینوں کا سفر جاری و ساری رہے گا۔ لوہا چوری ہوتا رہے گا۔ پٹڑیاں بکتی رہیں گی۔ نوحے بلند ہوتے رہیں گے۔ اور۔۔۔اور۔۔۔ایک دِن ایسا بھی آئے گا جب پاکستان میں ٹرین کا سفر محفوظ گردانا جائے گا وہ دِن شائد! قیامت کا دِن ہو گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved