دمشق اور بغداد پر بمباری کیوں ہوتی ہے؟
  10  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ثابت ہو رہا ہے کہ قومیں اپنے سینوں میں صدیوں تعصبات پالتی ہیں جو وقت آنے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ احباب کے لئے بغداد اور دمشق پر بمباری شاید ایک خبر کا درجہ رکھتی ہو مگر میرے لئے ان شہروں پر بمباری سوہان روح بنی ہوئی ہے چونکہ میرا احساس ہے کہ ان شہروں پر بم پھینک کر تعصب زدہ ذہنیت سکون حاصل کرتی ہوگی۔ خبر کے مطابق گزشتہ سال 2016ء میں نیٹو افواج نے دمشق و بغداد پر 30743بم برسائے ہیں ۔ یہ وہ شہر ہیں جو کبھی مسلمانوں کی شان و شوکت اور رعب و دبدبے کا مظہر تھے۔ دمشق 100سال خلافت بنوامیہ کا دارالحکومت رہا جبکہ بعد میں خلافت بنو عباس نے بغداد کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور صدیوں یہ شہر دنیا پر راج کرتا رہا۔ دمشق جن دنوں مسلمانوں کا دارالحکومت تھا مسلمان مشرق و مغرب میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے تھے۔ محمد بن قاسم جب 712ء میں فاتح سندھ بن کر ہندوستان میں داخل ہوا تو وسطی ایشیائی ریاستوں کو فتح کرتے ہوئے قتیبہ بن مسلم چین کی سرحد پر جا پہنچا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مغربی طرف مسلمان سپین فتح کر رہے تھے۔ جرنیل موسیٰ بن نصیر کا حوصلہ مت کمانڈر طارق بن زیاد کشتیاں جلا کر سپین داخل ہوا تو اہلیان یورپ کے چھکے چھوٹ گئے۔ سپین کے بعد قریب تھا کہ فرانس فتح ہو جاتا کہ خلیفہ ولید کی جگہ سلیمان بن مالک تخت نشین ہوگیا۔ خلیفہ سلیمان نے تمام مسلمان کمانڈروں کو واپس دارالحکومت طلب کرلیا جس کی وجہ سے فتوحات کا سلسلہ رک گیا ورنہ آج دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ بغداد مسلمانوں کا تعمیر کردہ شہر ہے اور اس شہر کی شان یہ تھی کہ یہاں قیام کرنے والے خلیفة المسلمین کا تمام دنیا میں ڈنکا بجتا تھا۔ خلیفہ ہارون رشید کے دور (786-809) جو خلافت عباسیہ کا ابتدائی دور تھا کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے مورخ و محقق ول ڈیوراں لکھتا ہے کہ قسطنطنیہ کی ملکہ آئرین' فرانس کے شارلیمان اور چین کے شیان چنگ کا دولت طاقت' شان و شوکت اور ثقافت کے اعتبار سے مسلمانوں کے خلیفہ سے کوئی موازنہ نہ بنتا تھا۔ بہت کم لوگوں کو شاید اس بات کا پتہ ہو کہ کاغذ سازی کا کارخانہ پہلے بغداد میں لگا اور پھر وہاں سے یہ صنعت سسلی' اٹلی اور اٹلی اور بعدازاں فرانس پہنچی۔ آج کے یورپ کو عظیم سمجھنے والے ذہن میں رکھیں کہ کاغذ کا استعمال چین کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کے شہروں میں ہوا' اٹلی' جرمنی' انگلینڈ میں کاغذ استعمال کرنے کے سال بالترتیب 1154ء '1228ء اور 1309ء ہیں۔ ان صدیوں کو یوں ہی یورپ کا تاریک دور قرار نہ دیا جاتا تھا۔ درحقیقت یورپ علم و فضل' تعمیر و ترقی اور ہنروفن میں مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ پیچھے تھا۔ بغداد کو دنیا بھر کے لئے علم و حکمت کا مرکز بنانے والے خلیفہ کا نام مومان الرشید تھا جنہوں نے 830ء میں یہاں دارالحکمہ(House of Wisdom)قائم کیا جہاں دنیا بھر سے جمع کئے گئے علوم کا نہ صرف ترجمہ کرنے کا کام شروع ہوا بلکہ سائنسی علوم کے لئے تجربہ گاہیں وجود میں آئیں اور یہ رصد خانہ کئی ایجادات اور کئی تخلیقات کا موجب بنا۔ اہلیان یورپ کو مسلمانوں کے توسط سے ہی سقراط' افلاطون اور ارسطو جیسے صاحبان علم سے آشنائی ہوئی۔ بغداد وہ شہر ہے جس نے نسن انسانی کو سائنسی علوم سے بہرہ مند کیا اور علم پر مبنی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ پانچ صدیاں مسلمانوں کے دارالحکومت رہنے کے بعد بغداد جب زوال کے دنوں میں تھا تب بھی وہاں علم کے دریا موجزن تھے۔ رابرٹ بریفالٹ کے مطابق بغداد کو جب منگولو نے بتای کیا اس وقت وہاں 36پبلک لائبریریاں موجود تھیں جبکہ پرائیویٹ لائبریریوں کا تو شمار ہی نہ تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک فزیشن نے سلطان بخارا کی دعوت صرف اس وجہ سے ٹھکرا دی تھی کہ اسے اپنی لائبریری کو شفٹ کرنے کے لئے 400اونٹوں کی ضرورت ہوگی۔ یہ ہے وہ بغداد جہاں آج نیٹو افواج بم پھینکتی ہے۔ خوشحالی کے لحاظ سے دنیا میں اس وقت بغداد اور قرطبہ کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ فلپ کے ہٹی کے مطابق ان شہروں میں جب میلوں طویل پکی اور روشن سڑکیں تھیں تو اس کے سات سو سال بعد بھی لندن جیسے شہر میں پبلک لیمپ کا کوئی قصور نہ تھا اور پیرس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں یہ حالت تھی کہ بارش کے دن کوئی شخص اگر اپنے گھر کی دہلیز پار کرنے کی کوشش کرتا تو وہ ٹخنوں تک کیچڑ میں دھنس جاتا تھا۔ مسلمانوں کو اس شان و شوکت کے خلاف تعصب پر مبنی یلغار سب سے پہلے صلیبی جنگوں کی صورت میں ہوئی جس میں اہل مغرب کو مایوسی ہوئی۔ صدیوں یہ تعصب سینوں میں پلتا رہا لیکن مسلمانوں کی دھرتی تاخت و تاراج کرنے کا موقع نہ ملا۔ تاتاریوں کے مختصر دور کو نکال کر اہل اسلام کی بستیاں اضیاء کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ سلطنت لباسیہ کے زوال( 1250ئ) کے کچھ عرصہ بعد عثمانی اٹھے اور پندرہویں صدی تک وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکے تھے۔ 1452ء میں قسطنطینہ فتح کرنے والے سلطان محمد الفاتح نے تو دنیا کے زمینی و سمندری راستوں کی ترتیب بدل ڈالی۔ قسطنطنیہ فتح نہ ہوتا اور یورپ اور ایشیاء کو ملانے والے زمینی راستے مسلمانوں کی دسترس میں نہ آتے تو نہ واسکوڈے گاما کے سر ہندوستان کا سمندر کا راستہ تلاش کرنے کا سہرا سجتا اور نہ ہی کولمبس امریکہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکتا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے خلاف اہل مغرب کا تعصب دراصل ایک ہزار سال پر محیط تعصب اور نفرت پر مبنی تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد فرانس اور برطانیہ نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے نہیں کئے بلکہ عالم اسلام کو نفرت پر مبنی تقسیم سے دوچار کیا۔ عراق کو شمالی عراق اور جنوبی عراق میں تقسیم کرنے کے پیچھے دراصل وہ نفرت انگیز سوچ تھی جو صدیوں اہل مغرب کے سیوں میں پلتی رہی۔ عراق اور شام کو تختہ مشق بناتے ہوئے آج بھی متعصب ذہنیت ضرور سکون پاتی ہوگی۔ کیا وجہ ہے کہ امریکہ نے شام کو خانہ جنگی کا شکار رہنے دیا حالانکہ قبل ازیں وہ لیبیا میں اٹلی' فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر فضائی کارروائی کر چکے تھے اور بزور طاقت معمر قذافی کا اقتدار ختم کر دیا گیا تھا۔ روس کو اندر گھسنے کا موقع امریکہ نے خود فراہم کیا۔ آج چار برس ہونے کو آئے ہیں شام نیٹو افواج اور روس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ امریکی و مغربی افواج مسلمانوں کے اس ابتدائی دارالحکومت رہنے والے شہر دمشق کو اپنی بمباری کا نشانہ بناتے ہیں جو یورپ میں مسلمانوں کی فتح کا سبب بنا اور جہاں سے برسوں مسلمان سپین پہنچتے رہے۔ کوئی کچھ کہے مجھے تو دمشق اور بغداد پر بمباری کے پیچھے اہل مغرب کا وہ بغض اور تعصب محسوس ہوتا ہے جو انہیں عالم اسلام کی شان و شوکت کے مظہر ان دو شہروں سے ہمیشہ رہا ہے۔ گزشتہ 26سال سے عراق امریکہ اور برطانوی افواج کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔جبکہ دمشق ان کا تازہ شکار ہے۔ خدا کرے کہ عالم اسلام کا بننے والا دفاعی اتحاد اپنی عظمت رفتہ کے یادگار ان دو شہروں کے اغیاء کے چنگل سے چرانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
86%
ٹھیک ہے
14%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved