لہو کے نقشے
  10  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) سوال یہ ہے کہ امریکہ کے مجوزہ گریٹر مڈل ایسٹ کی سیاسی صورتحال کیا ہوگی؟منصوبے کے تحت اس کی حیثیت سرحدوں کے تصور سے ماورا ایسے ڈھیلے ڈھالے وفاق کی ہوگی جس میں ملک اور حکمران تو رہیںگے، لیکن ان کی حیثیت امریکہ کے مقرر کردہ ہرکاروں سے زیادہ نہ ہوگی۔ البتہ اس پورے ریوڑ میں صرف اسرائیل چونکہ امریکہ کا قابل اعتماد ہوگا اس لئے طاقتور اور بالاتر فوج کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار رکھنا بھی صرف اسی کا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ اسرائیل کے تحفظ اور امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کی خاطر عالمی فورس نیٹو یا کسی اور نام سے مبعوث ہوگی البتہ امریکہ یا اسرائیل جب خود کسی کو سزا دینا یا اپنی افواج کی سستی دور کرنا چاہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہوگا۔رپورٹ کے مطابق ''اس خطہ میں امریکی فوجی قوت کی موجودگی ہی کافی نہیں اس کا اظہار بھی ہونا چاہئے تاکہ خوف پیدا ہو اور لوگ امریکہ سے ڈریں۔اس سب کے لئے ایک دہائی یعنی 2008ء تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی ۔ فوجی موجودگی ا ور خوف پیدا کرنے کی حد تک وہ اپنا کام وقت مقررہ پر کرچکے ،تعلیم اور سماجی تبدیلیوں میں بھی وہ ایک حد تک ہی سہی مگر مگر کامیابی حاصل کرچکے مگر اس کے باوجود گریٹ مڈل ایسٹ قائم کرنے میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی ، وجہ کیا رہی اس پر بات بحث کے آخر تک اٹھائے رکھتے ہیں۔ اب آتے ہیں بلڈ بارڈر کے منصوبہ کی جانب جو اپریل 2006میں امریکی سی آئی اے کے ایک اہم افسر رالف پیٹر کے نام سے امریکی افواج کے نمائندہ پرچے ''امریکن ڈیفنس جرنل'' میں شائع ہوا ۔ اس کے مطابق ''گریٹر مڈل ایسٹ ''کے تمام ممالک کی سرحدوں کا از سر نو تعین ضروری تھا اور نیا نقشہ بھی دیا گیا تھا جو اس کے بعد بھی کئی ایک امریکی دستاویز میں استعمال ہو ا۔عالم اسلام میں نئے جغرافیہ کا منصوبہ سب سے پہلے امریکہ کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر Zbigniew Brzezinski نے اپنی کتاب The grand cessboard میںپیش کیا ۔اسی کو چند تبدیلیوں کے ساتھ رالف پیٹرنے بلڈ بارڈر کے نام سے اپریل 2006ء میںپیش کیا اور دنیا بھر میں دھوم مچادی ، دراصل یہ رالف پیٹر کی کتاب Never Quit the fight کا خلاصہ ہے ۔یہ کتاب اس مضمون کی اشاعت کے بعد 10 جولائی 2006 کو منظر عام پر آئی ۔ اسی منصوبہ کی مزید تفصیلات رالف کی دوسری کتاب Endless War میں بھی زیر بحث لائی گئی ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس منصوبہ کو امریکی حکومت آفیشل سطح پر تسلیم نہیں کرتی مگر امریکہ کی نیشنل وار اکیڈمی نے ستمبر 2006 میں اپنے کانفرنس روم میں اسے آویزاں کیا اور اس پر بحث کی گئی۔فوراً بعد15ستمبر کو روم کے نیٹو ملٹری وار کالج میںاسے آویزاں کیا گیا اور اس پر بحث کا آغاز ہوا ،۔ اس اکیڈمی میں زیر تربیت ترکی کے افسر وں نے بحث کا بائیکاٹ کیا اور باہر آگئے ۔ جب یہ نقشے پوری دنیا میں زیر بحث تھے تو اس وقت سوائے ترکی کے کسی نے انہیں درخور اعتنا نہیں جانا، البتہ ترکی کے جنرلBuyukanit نے اسے روز امریکی چیف آف سٹاف جنرل Peter Pace سے فون پر احتجاج کیا جس پر وہی جواب تھا کہ'' یہ ہمارا آفیشل موقف نہیں''۔ رالف پیٹر کے نقشہ اور منصوبہ کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کو '' غیر قدرتی'' یا مصنوعی ریاستیں قرار دیکر ان کے وجود کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ عرب خطہ میں تمام تیل والے علاقوں کو شامل کرکے '' عرب شیعہ ریاست ''کے نام سے ایک نئے ملک کی بات کرتا ہے ، اور کہتا ہے کہ عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک سنی عراق دوسرا کردستان اور تیسرا شیعہ عرب ریاست بنادیا جائے۔سعودی عرب کو ختم کرتے ہوئے اس کا اردن سے منسلک علاقہ اردن کو دیکر اسے بڑا کیا جائے ، یمن سے منسلک علاقہ اسے دے دیا جائے ، تیل ولا ساحل شیعہ عرب ریاست کا حصہ بنا دیا جائے ، جبکہ مکہ اور مدینہ کو اسلامی مقدس ریاست قرار دیکر ویٹی کن کی طرز پر آزاد حیثیت دیدی جائے جسے بڑے مسلم ملکوں کی نمائندہ کونسل چلائے ، یہی مطالبہ انہیں الفاظ میں ایران 2015سے کر رہا ہے ،2015کے حج میں گڑ بڑ کا منصوبہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی قرار دیا جارہا ہے ۔ پاکستان کے حوالہ سے ان کا منصوبہ تھا کہ آزاد بلوچستان بنایا جائے جس میں ایرانی بلوچستان بھی شامل ہو۔ دوسری جانب پاکستان کا پشتون علاقہ افغانستان کو دیدیا جائے ،کراچی آزاد ہو اور باقی بچا کھچا علاقہ پاکستان قرار پائے ۔ 2006میں یہ منصوبہ آیا ۔ اور اسی برس بلوچ علیحدگی کی تحریک اٹھی اواس کے بعد ہی ٹی ٹی پی منظم ہوئی کیلنڈر کا یہ اتفاق بھی اہل خرد کے لئے بہت سی نشانیاں لئے ہوئے ہے ۔ رالف پیٹر کہتا ہے کہ افغانستان سے اس کا صوبہ ہرات اور دیگر ہزارہ وال کے علاقے لیکر ایران کو دئے جائیں ، تاکہ اس سے بلوچستان اور کرد ریاست کے لئے لی گئی زمین کا ازالہ ہوسکے ، دوسرے یہ کہ ایران کو ماضی کے فارس کی حدود عطا کردی جائیں۔ ( جاری ہے ) امارات کا تیل والا سارا علاقہ عرب شیعہ ریاست کو دیکر صرف کویت ، دبئی اور قطر کو قائم رکھا جائے ، ترکی سے کرد علاقہ چھین کر اسے کچھ نہیں دیا جائے گا ،البتہ اس نقشہ میں شام اور فلسطین نام کی کسی ریاست کا وجود نہیں ملتا کیونکہ یہ سارا علاقہ گریٹر لبنان کو دیا جا رہا ہے ، حزب اللہ کی شام میں مداخلت اور علاقوں پر قبضہ اسی منصوبے پر عمل در آمد کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ نقشہ 2006اپریل میںسامنے آیا ۔ جس وقت صرف افغانستان اور عراق کے سوا ہر جگہ امن تھا یہاں تک کہ پاکستان میں فاٹا اور بلوچستان بھی پر امن دکھائی دے رہے تھے اور اس کے فوراً بعد ہر اس جگہ آگ بھڑک اٹھی جہاں جہاں تبدیلیاں کرنا امریکہ کا منصوبہ تھا۔ عالمی حالات کا جائزہ اور امریکی دفاعی اداروں کے میڈیا مباحث کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہی نان آفیشل دستاویزات ہی امریکہ کی پالیسی ہے، اور اس پر انتنی سنجیدگی سے عمل ہورہا ہے کہ ایک اصطلاح کے پٹ جانے پر اس کی متبادل اصطلاح سامنے لائی جاتی ہے ، جیسے پہلے ورلڈ آرڈر تھا اس کے بعد گریٹر مڈل ایسٹ آیا اور اس کے فورا ً بعد کانڈولیزا رائس نے تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیو مڈل ایسٹ کی اصطلاح استعمال کردی ۔ اسی طرح حکمت عملی اور اقدامات بھی تیزی سے تبدیل کئے جارہے ہیں۔ مجوزہ خاکہ سامنے رکھتے ہوئے حالات کو دیکھا جائے تو 2006میں حزب اللہ سے فرینڈلی جنگ میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مکمل انفرا سٹرکچر کی تباہی اس سے قبل افغانستان اور عراق میں امریکی فوجوں کی جارحیت پاکستان پر ثقافتی اور سماجی یلغار۔ فاٹا اوربلوچستان میں گڑبڑ اور اب یمن اور شام کی صورتحال کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے۔ عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویہ ان کے اس یقین کا گواہ ہے کہ عالم اسلام آزاد رہے یا غلامی کا طوق گلے میں ڈال دیا جائے ان کی حکمرانیاں، ان کرسیاں قائم رہیں گی۔ انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ ان کے مہربہ لب رہنے کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ جو بولا اس کا اقتدار خطرے میں نہ پڑے جائے۔اور خاموشی پر ممکن ہے کچھ نقد بھی مل جائے ۔ عالم اسلام کے حکمران یقینا اس بڑے امریکی باڑے کی بھیڑیں بننے کیلئے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہیں۔ لیکن کیا عوام اپنی آزادی کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔ یہ سوال جواب چاہتا ہے اور موجودہ سیاسی قیادت کی بصیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ مگر افسوس کہ دور دور تک ایسی قیادت کہیں نظر نہیں آتی جس کی بنا پر خوش فہمی قائم کی جا سکے کہ بقاء کی اس جنگ میں فتح عالم اسلام کی ہوگی۔ البتہ عوام میں موجود جذبہ کی بنا پر یہ خواب دیکھا جا سکتا ہے کہ گریٹر مڈل ایسٹ کا امریکی خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے تو شائد نہ روکا جا سکے۔ کہ 54 اسلامی ممالک میں سے کسی ایک کی حکومت بھی خطرے کے ادراک اور بقا کی خواہش رکھتی نظر نہیں آتی۔ یہ تمام کاسہ لیسان قصر ابیض صرف اپنی مرصع کرسیوں اور عیاشیوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ جو انہیں یقینا حاصل رہے گا۔ مگر ایک حقیقت جو ڈھارس بندھاتی ہے کہ جن آشفتہ سروں نے حکمرانوں کے سرنڈر کے با وجودپہلے 2008اورپھر2015تک امریکی خواب کو تعبیر کی شکل اختیار نہیں کرنے دی وہ آئندہ بھی بروئے کار رہیںگے ۔ لیکن اس صبح نشور تک کتنا خون دینا پڑے گا۔ کتنی جانیں لٹانا پڑیں گی کون جانے۔ لیکن بہرحال امت یہ قیمت ادا کرے گے۔ پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس پر بات کل ہوگی کہ دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ نے جب اپنے منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 2008مقرر کی تو وہ ناکام کیوں ہوا ، پھر دوسری ڈیڈ لائن 2015بھی ناکامی کا ہی پیغام لائی ؟ ایسا کس طرح سے ممکن ہوا مزاحمت کس نے کی اور اب کیا ہورہا ہے ؟ )جاری ہے(

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved