دعوت ولیمہ سے (ر)جنرل راحیل کے نئے عہدے تک!
  10  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
تحریک دفاع پاکستان کے چیئرمین زاہد بختاوری کے بیٹے بلال زاہد بختاوری کی دعوت ولیمہ میں مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات کی کثرت دیکھ کر سیاسی' پلس مذہبی اجتماع کا گمان ہوتا تھا... وہاں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری' مولانا فضل الرحمن خلیل' مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی' ڈاکٹر جمال ناصر' سردار عتیق احمد' طارق فضل چوہدی کے علاوہ کئی ایم این ایز' ایم پی ایز' سینیٹرز' راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کرام کے علاوہ ممتاز تاجر شخصیات اور صحافیوں نے بھی بھرپور انداز میں شرکت کی۔ سیاسی' مذہبی' تجارتی اور صحافتی شخصیات جب ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوں تو پھر شگوفے بھی پھوٹتے ہیں... اور نئے نئے موضوعات کا بھی جنم ہوتا ہے 'اور پھر جناب زاہد بختاوری کی اپنی شخصیت میں دوریش کے ساتھ ساتھ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بے پناہ ہمدردی کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے... اس لئے ولیمہ میں شریک بعض اکابرین سے اسی تناظر میں سیر حاصل گفتگو کرنے کا موقع ملا... لہو' لہو شام' بھی گفتگو کا موضوع بنا' افغانستان' پاک انڈیا تعلقات پر بھی بحث ہوئی' اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا 39ملکی اسلامی اتحادی فوج کا سربراہ بننا بھی زیر بحث رہا۔ کالعدم جہادی تنظیموں کے ساتھ روا رکھے جانے والا امتیازی سلوک بھی موضوع سخن بنا رہا... مگر ان تمام موضوعات کا ''ہیرو'' جنرل راحیل شریف کا اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ بننے کے موضوع کو قرار دے دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا... مطلب یہ کہ کل تین گھنٹوں میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک یہی ''موضوع'' ڈسکس ہوتا رہا۔ ایک نمائیاں سیاسی حکومتی شخضیت نے نام نہ شائع کرنے کی یقین دہانی پر لب کشائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ''جنرل راحیل شریف کا 39اسلامی ممالک کی فوج کا سربراہ بننا اچھی بات ہے ... مگر وہ نہ بنتے تو زیادہ اچھی بات ہوتی... اس خاکسار نے حیرت سے پوچھا کہ نہ بننا بھی اچھی بات اور بن جانا بھی اچھی بات... میں کچھ سمجھا نہیں... انہوں نے بکرے کی روسٹ ٹانگ سے گوشت نوچتے کے بعد منہ میں ڈالا اور دانتوں سے چباتے ہوئے فرمایا کہ ''جنرل'' کا یہ عہدہ ایران اور اس کے ہمنوائوں کو کبھی ہضم نہیں ہوگا... جس کی وجہ سے پاکستان میں کئی قسم کی مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں... میں نے ادب سے عرض کیا کہ ''سرہ'' جس جنرل راحیل شریف کی دیانتداری' کٹمنٹ اور خلوص نیت پر امریکہ سے لے کر اسلام آباد تک کبھی کسی نے آج تک انگلی نہیں اٹھائی۔ جس جنرل راحیل شریف کی تعریفیں پاکستان کے شیعہ ہوں' سنی ہوں' وہابی ہوں' حتیٰ کہ غیر مسلم بھی کیوں نہ ہوں' سب ہی کرتے نہیں تھکتے تھے' جس جنرل راحیل شریف کے لئے... پاکستانی گلیوں اور بازاروں میں بینرز آویزاں کئے جاتے رہے کہ خدا کے لئے ''اب تو نہ جائو!'' ''اب تو آجائو'' پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں جس راحیل شریف کو سلام عقیدت پیش کرتی رہیں... اس جنرل راحیل شریف کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنے تین سالہ دور میں پاکستان سے دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی سے لے کر وزیرستان تک...بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک... انہوں نے دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی... اگر جنرل راحیل شریف پاکستان سے دہشت گردی کم کر سکتے ہیں... تو وہ 39اسلامی ملکوں کی فوج کا سربراہ بن کر ایران اور سعودی عرب میں جاری کشیدگی کو کم کروانے میں اپنا کردار کیوں ادا نہیں کر سکتے؟ جنرل راحیل شریف پر عالم اسلام کے اعتماد کا عالم تو یہ ہے کہ 39اسلامی ملکوں نے انہیں اسلامی فوج کا سربراہ منتخب کرلیا... اور جنرل راحیل شریف پر تنقید کے نشتر چلانے والے تو وہ ''بونے'' ہیں کہ جن کی بات اپنے گھر میں سننے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ کیا اب کوئی یہ چاہتا ہے کہ (ر) جنرل راحیل شریف کسی انگلش اخبار یا مخصوص فرقہ وارانہ ذہن رکھنے والے گروہ سے اجازت لے کر اپنی زندگی کے فیصلے کیا کریں۔ ہمارے ہاں ہر چیز کو متنازعہ بنانا اک فن کا درجہ حاصل کر چکا ہے جب تجزیہ کار اور میڈیا کے بقراط! مخصوص فرقہ وارانہ ذہنیت رکھ کر تجزئیے پیش کریں گے تو اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ ملک اور قوم کے لئے ''اعزاز'' کی بات بھی انہیں متنازعہ لگے گی۔ ابھی گفتگو کی یہ ہنڈیا پک ہی رہی تھی کہ سابق معروف جہادی قائد مولانا فضل الرحمن خلیل بھی دوسرے مہمانوں سے ملتے ملاتے ہماری ٹیبل پر آن پہنچے... انہیں جب موضوع کا پتہ چلا تو وہ مسکرائے اور گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کو امن کا تحفہ دینے والا جنرل راحیل شریف اگر مشرق وسطیٰ کی تقسیم کی امریکی سازشوں کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ پاکستان کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوگی۔ سعودی عر ب کی زیر قیادت 39اسلامی ملکوں کا اتحاد کوئی معمولی بات نہیں ہے... اور اس عظیم اتحاد کی مشترکہ فوج کا سربراہ بن جانا جنرل راحیل شریف کی عنداللہ مقبولیت کی علامت ہے... یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ مکرمہ کی طرف میزائل داغ کر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی صہیونی طاقتوں کا نشانہ حرمین الشریفین کی مقدس سرزمین ہے... اگر پاکستان کے ایک سابق آرمی چیف سے اللہ پاک حرمین شریفین سمیت 39 اسلامی ملکوں کی حفاظت کا کام لینا چاہتے ہیں تو اس پر تنقید کرنے کی بجائے... پوری قوم کو جنرل راحیل شریف کی استقامت کے لئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
80%
ٹھیک ہے
20%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved