ایک محنت کش کی قابل تحسین فرض شناسی!
  10  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭بلاول زرداری کو پھر سے پیپلزپارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ اس میں نئی بات کیا ہے۔ وہ پہلے ہی چیئرمین تھا۔ پیپلزپارٹی تو خاندانی وراثت ہے،کبھی نانا، کبھی والدہ، کبھی باپ ،کبھی بیٹا! پوری پارٹی میں کوئی دوسرا قابل اوراہل امیدوار نہیں ملا ہو گا۔ گھر کی بات گھر میں ہی رہے تو اچھا ہے اور برخوردار چیئرمین کا اعلان تو آ ہی چکا ہے کہ 2018ء میں وہ وزیراعظم اور والد صاحب ملک کے صدر ہوں گے! چلیں ہاتھ کنگن کو آر سی کیا؟ کتنی دیر رہ گئی ہے 2018ء کے انتخابات میں! البتہ یہ کہ وزیراعظم بننے کے لئے قومی اسمبلی میں اکثریت، کم از کم 271 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ممکن ہے اتنے ووٹ صرف سندھ سے مل جائیں! بلاول نے ایسے ہی تو دعویٰ نہیں کیا ہو گا! ٭پولیس نے دوہفتے کا وقت مانگا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حکم دیا تو اسلام آباد کی پولیس نے تین دن کے لئے تشدد زدہ بچی طیبہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ بچی اسلام آباد کے نواح میں ہی کسی جگہ چھپائی گئی تھی۔ پولیس نے اسے چھپانے والے اس کے والدین کو بھی تحویل میں لے لیا ہے۔ بچی کو اب سپریم کورٹ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق اس سلسلے میں ایک وکیل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ہی بچی پر تشدد کے بارے میں بچی کے والد اورکیس میں ملوث ایڈیشنل سیشن جج کے درمیان راضی نامہ کرایا تھا۔ یہ غیرقانونی اقدام تھا۔ بچی اور والد دو الگ الگ انسانی اکائیاں ہیں۔ بچی پر تشدد اس کا ذاتی معاملہ ہے، باپ کیسے راضی نامہ کر سکتا ہے؟ یہ بات تو فاضل چیف جسٹس نے بھی کہی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی راضی نامہ نہیں ہو سکتا! یعنی مجرم کو اس کے جرم کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ کیا یہ قانونی نکتہ ایڈیشنل سیشن جج کو معلوم نہیں تھا؟ اس نے جانتے بوجھتے راضی نامہ کیا تو قانون کی خلاف ورزی کی اور اگر جج قانون سے تو بھی دونوں صورتوں میں یہ صاحب جج کے عہدہ پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔ خیرفیصلہ توسپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ ممکن ہے آج خبروں میں کوئی نئی پیش رفت سامنے آ جائے۔ ٭نیا آرڈی نینس نافذ ہو گیا کہ آئندہ نیب کا چیئرمین ازخود کسی کیس میں پلی بارگیننگ نہیں کر سکے گا، اب یہ کام عدالت کی اجازت سے ہوا کرے گا۔ گویا سودا کاری کا نظام تو وہی ہے، فیصلہ کرنے والی اتھارٹی تبدیل کر دی گئی ہے۔ پلی بار گیننگ اسی طرح ہوتی رہے گی۔ ایک نئی بات یہ کہ پلی بارگیننگ کرنے والا ملزم ہمیشہ کے لئے سرکاری ملازمت کے لئے نااہل قرار پائے گا۔ پہلے یہ سزا دس سال کے لئے تھی! اس سے کیا اثر پڑے گا۔ اربوں کی لوٹ مار کرنے والا شخص کسی بھی طریقے سے محض چند کروڑ کی پہلی بار گیننگ کے ذریعے پاک شفاف ہو جائے گا۔ تجوری میں اربوں پڑے ہوں تو کسی کو ملازمت کی کیا ضرورت ہو گی۔ سیدھا علاج یہ ہے کہ قومی سرمایہ لوٹنے والے شخص کو عمر قید دی جائے اور اس کی ساری جائیداد اور اثاثے ضبط کر لئے جائیں چاہے ان کی مالیت اصل لوٹ مار سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو! قومی مجرم کسی رعائت کے مستحق نہیں، پھر یہ پلی بار گیننگ کی رعائت کیوں؟ فرض کریں عدالت بھی پلی بار گیننگ کر لیتی ہے تو اس سے جرم تو ختم نہیں ہو جاتا، سزا تو پھر بھی واجب رہے گی۔ ٭شیخ رشید نے پھر سے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ پانامہ کیس عدالت میں ہے اور دھرنے کی دھمکی! چھوڑیئے، فضول باتوں پر جگہ اور وقت کیوں ضائع کیا جائے؟ ٭سندھ کے سابق وزیرشرجیل میمن کے ایک بارپھرناقابل ضمانت جاری کر دیئے گئے۔ شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے نقد نکلے تھے، وہ طویل عرصے سے ملک سے مفرور ہے اور سابق'اصل' وزیراعلیٰ اویس ٹپی کے ساتھ دبئی میں مقیم ہے۔ یہ ناقابل ضمانت وارنٹ بھی کیا مضحکہ خیز چیز ہیں۔ بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کے نام بار بار نکل رہے ہیں ان کا اثر یہ ہوتا ہے کہ حکومت خود ان لوگوں کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیتی ہے۔ ان افراد کا بار بار کیا نام لیا جائے؟ پولیس ہر پیشی پر کہہ دیتی ہے کہ ملزم مکان پر نہیں ملا اور عدالت ایک بار پھر برہمی کا اظہار کر دیتی ہے اور بس! انصاف پھر لنگڑا جاتا ہے، قانون منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ ٭ایک خبر: پاکستان کی ایک تنظیم نے پاکستان کی شہریت ترک کر کے بھارت کی شہریت اختیار کرنے اور پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے گلوکار اور اداکار عدنان سمیع کو پاکستان آ کر پرفارم کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس پر متعدد گلوکاروں اور اداکاروں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ فن کاروں نے اعلان کیا ہے کہ یہ یہ شخص پاکستان آیاتو انڈوں، ٹماٹروں اور جوتوں سے استقبال کیا جائے گا۔ ویسے پاکستان کے دشمنوں کی پاکستان میں پذیرائی کوئی انوکھی بات نہیں۔ الطاف حسین نے کھلے جلسے میں پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے اور اس کے چیلے چانٹے کراچی اور حیدرآباد میں اس کی حمائت میں ریلیاں نکال رہے ہیں، کوئی پابندی نہیں۔ عدنان سمیع کا معاملہ تو ایک شخص کی بات ہے، الطاف حسین تو کھلے عام ''را'' کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لئے پکارتا ہے اور بھارتی حکومت کو شرم دلاتا ہے کہ وہ اس کی پاکستان دشمن مہم میں مدد کیوں نہیں کر رہا۔ اور ہمارا عالم یہ کہ حکومت اس شخص کے خلاف برطانیہ میں ایک مقدمہ بھی درج نہ کرا سکی اور خود پاکستان میں بعض قانون دان (ایک خاتون وکیل سمیت) الطاف حسین کی حمایت میں عدالت میں پیش ہو رہی ہے! ٭جنرل (ر) راحیل شریف کو 39 اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ اس پر انہیں مبارکباددیں دی جا رہی ہیں۔ اس فوج کا مقصد ان ملکوں میں دہشت گردی کا انسداد بتایا گیا ہے۔ بظاہر یہ اہم کام ہے، مگر 39 ملکوں کا اتحاد کیسے چلے گا خود یہ ملک ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہیں! عالم اسلام 56 اسلامی ملکوں پر مشتمل ہے۔ باقی 17 ممالک اس اتحاد میں شامل ہی نہیں پھر دہشت گردی کس طرح ختم ہو گی؟ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گرد آ رہے ہیں۔ انہیں تو روکا نہیں جا سکا۔ جنرل (ر) راحیل کو اپنی فوج پر مکمل کمال حاصل تھی، دوسرے ملک کیسے اتنی سخت کمان قبول کریں گے۔ ٭ایس ایم ایس: راوی نامہ میں بیان چھپنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بنوں شہر سے مال منڈی باہر نکالنے کی ہدائت کر دی ہے۔ اس علاقے میں بہت سی ناجائز تجاوزات بھی ہیں۔ انہیں بھی ختم کیا جائے تا کہ ٹریفک کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔ دانیاز خاں۔ بنوں (0332-9771774) ٭میرا گھر مری کے گائوں دیول کی ڈھوک ٹانڈی میں ہے۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گیا۔ کچھ بااثر لوگ سارا پانی میرے گھر کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ ہم سخت پریشان ہیں۔ حکومت کو بار بار لکھا ہے کہ یہاں آب نکاسی کا انتظام کیاجائے مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی میری اپیل وزیراعلیٰ پنجاب تک پہنچا دیں۔ اس بارے میں ڈی سی او راولپنڈی بھی 22 ستمبر2015ء کو وزیراعلیٰ کو مراسلہ بھیج چکے ہیں۔ میرا گھر سخت خطرے میں ہے۔ حبیب النساء دیول، مری۔ ٭گلگت: سوشل ایکشن پروگرام کے ٹیچروں کو جولائی 2016ء سے اب تک تنخواہیں نہیں ملیں۔ ان کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں سجاد، ٹیچرگلگت بلتستان (0312-9741641) ٭تراڑکھل کے نواحی قریبی دیہات کو بجلی پہنچانے کے لئے دور دراز کے دیہات کے گرد گھما کر بجلی کے تار یہاں پہنچائے گئے ہیں۔ ذرا سی بارش سے دو تین دن تک بجلی بند رہتی ہے۔ تراڑ کھل سے براہ راست بجلی پہنچائی جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔ رابعہ، تراڑکھل۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved