دفاعی اتحاد کی سربراہی' مبارک راحیل شریف
  11  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے ''انما المومنون اخوة'' تمام مومن بھائی بھائی ہیں لیکن بعض احباب کو یہ اخوت گوارا نہیں ہے۔ انہیں نجانے کیوں اس تصور سے ہی چڑ ہے ۔ نیٹو جیسے دفاعی اتحادوں سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن جیسے ہی مسلمان ملکوں کے دفاعی اتحاد کی بات سامنے آتی ہے یہ لوگ امہ کے تصور کو سنے لگتے ہیں ۔ مغربی ملکوں کے عوام نے سولہویں صدی عیسوی میں مذہب سے بغاوت کی اور مذہبوں پروہتوں سے نجات پا کر اپنے آپ کو گوشہ عافیت میں محسوس کیا' مغرب کی تھیوری ہے کہ کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ ہم مسلمانوں میں سے ایک گروہ ان کا ہمنوا ہے اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اصل معاملہ کیا ہے وہ مغربی تہذیب اور نیشنلزم کے ان کے تصور کو انسانی فلاح کے لئے ناگزیر گردان رہا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مغرب نے پروئسٹنٹ تحریک کے ذریعے مذہب سے نجات پا کر اپنے آپ کو جس مغربی تہذیب کے سپرد کیا اہلیان مغرب اسلام کو اس کا بدترین دشمن سمجھتے ہیں۔ آج سارا جھگڑا مغربی تہذیب کی برتری کا ہے۔ کل تک کمیونزم ان کے لئے خطرے کا باعث تھا۔ لہٰذا تمام توپوں کا رخ اس کی طرف تھا۔ جبکہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسلامی تہذیب اہل مغرب کے نشانے پر ہے۔ نوے کی دہائی میں سیموئیل ہٹنگٹن نے ''تہذیبوں کے درمیان تصادم'' نامی کتاب یونہی نہیں لکھی درحقیقت یورپ اور امریکی ایوان اقتدار میں اس وقت یہ منصوبہ بندی ہو رہی تھی کہ اسلام کو کائونٹر کیسے کرنا ہے۔مغربی ممالک کے سربراہان جھولے چوکے کہہ جائیں تو اور بات ہے مگر وہ یہ کہتے ہوئے حد درجہ احتیاط کرتے ہیں کہ ان کی اصل لڑائی اسلام کے ساتھ ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ جملہ ادا کرنے کا مطلب کھلی لڑائی ہوگا اور شاید پھر وہ مقاصد انہیں حاصل نہ ہوسکیں گے جس کے لئے تمام تانے بانے بنے گئے ہیں ہم لوگ اس بات کا ادراک نہیں کر پا رہے کہ اچھے برے مسلمانوں کی تمیز کا کیا مطلب ہے؟ ہم سارے مسلمان اخلاق و اعمال کی جس ''اعلیٰ مسند'' پر فائز ہیں اس کا ہمیں بخوبی علم ہے چنانچہ ہم میں سے ایک فریق کو دہشت گرد قرار دے کر اسے مارنا دراصل اس منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے ان راکھ کے ڈھیروں سے کسی کو کیا غرض ہوسکتی تھی اور ہے درحقیقت مغربی تہذیب کے نام لیوائوں کو اسلام سے خطرہ محسوس ہوتا ہے لہٰذ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے اسلام کی ایسی شکل پیش کی جائے کہ غیر کیا اپنے بھی اس کا نام سن کر منہ پھیر لیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈول ڈالا گیا محب اسلام قوتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کہ اسلامو فوبیا کا شکار ہو کر مغرب جارحیت کی جس پالیسی پر عمل پیرا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری جانب اسلام سے محبت رکھنے والے دل و دماغ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک اپنی صفوں سے ایسے لوگوں کو خود سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا۔ جو اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے خفیہ طاقتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں تب تک بیرونی دنیا کے سامنے اسلام کا دفاع کرنا بہت مشکل کام ہوگا۔ اس مقصد کوپانے کیلئے مختلف مسلمان ممالک میں انفرادی سطح کی کوششیں ہو رہی تھیں مگر سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلیمان نے 34مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کی صورت گری کرکے ان کوششوں کو خوبصورت اجتماعی شکل دے دی ہے۔ آج دہشت گردی کے خلاف مسلمان ممالک کا یہ اتحاد 39ممالک پر مشتمل ہے اور بحیثیت پاکستانی میرے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی افواج کے سابق سپہ سالار 39ممالک کی افواج کے سربراہ مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن ضرب عضب کرنے والے جنرل راحیل شریف کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف تھا چنانچہ مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کا سربراہ بننے کے لئے ان سے بہتر کوئی اور شخصیت کیسے ہوسکتی تھی۔ جنرل راحیل شریف کا ترکی' مصر' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فوجی قیادت کے ساتھ خصوصی طور پر زبردست رابطہ رہا ہے چنانچہ ان کی تعیناتی سے نہ صرف مسلمان ممالک کے فوجی اتحاد کو تقویت ملے گی بلکہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ بھی بہتر کوآرڈینیشن رہے گی۔ میں ان کالموں میں لکھتا آرہا ہوں کہ دنیا کے معروضی حالات میں مسلمان جب تک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہونگے ان کی مشکلات کا خاتمہ نہ ہوسکے گا۔ میرے پیش نظر ہمیشہ یہ بات رہہی ہے کہ مسلمانوں کی حالت زار باہمی اتحاد کے بغیر اس لئے ٹھیک نہیں ہوسکتی چونکہ بیرونی دنیا انہیں مسلمان سمجھ کر معاملہ کرتی ہے یہ بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ہماری منفعت اور ہمارا نقصان ایک ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ معاشی اتحاد کے حوالے سے یورپی یونین کی طرز پر مسلمان ممالک کا ایک زبردست معاشی بلاک وجود میں آنے کا پوٹینشل موجود ہے مگر باہمی ریشہ دوانیاں اس خواب کی تعبیر میں رکاوٹ بنتی آرہی ہیں۔ اللہ کرے کہ مستقبل قریب میں یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو لیکن خوشی یہ ہے کہ حالات کے جبر نے مسلمان ممالک کو دفاعی اتحاد کی زنجیر میں باندھ دیا ہے اور اس کا کریڈٹ بلاشبہ خادم الحرمین شریفین کی سوچ اور انیشٹیٹو کے سر ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے اس دفاعی اتحاد کے طفیل مسلمان ممالک ملک کر دہشت گردی کے عفریت پر نہ صرف قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ان سازشوں کا بھی قلع قمع کرنے میں کامیابی ہوگی جن کی منصوبہ بندی مسلمان ممالک میں انتشار پھیلانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ نیشن سٹیٹ کے تصور کے تحت زندگی جیو جبکہ مغربی دنیا ہم سے ''مسلمان ملک'' کے حساب سے ڈیل کرتی ہے۔ جن مسلمان ممالک نے سیکولر ازم کو اپنایا انہیں بالآخر کیا ملا؟ ترکی کی مثال سامنے ہے۔ مجھے مشہور برطانوی مورخ ٹائن بی کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو انہوں نے پچاس کی دہائی میں ترکی کے حوالے سے ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ترکی کو کہتے رہے کہ اپنا مذہب ترک کر دے اور جب اس نے ایسا کر دیا تو ہمارے پاس سوائے توہین کے اسے دنیے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہ ہے ہماری اصل حقیقت جس کو بعض نادان دوست سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آج ترکی سیکولر ازم کی راہ چھوڑ کر دوبارہ اسلام اور اسلامی دنیا سے اپنا رشتہ جوڑ رہا ہے تو داعش جیسی مغرب کی پیدا کردہ دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے وہاں دہشت گردی کا بازار گرم کیا جارہا ہے۔ مسلمان ممالک کے لئے بیرونی سپانسرڈ دہشت گرد تنظیموں کا خطرہ دراصل بڑا وہ خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ خدا کرے کہ یہ دفاعی اتحاد مستقل بنیادوں پر قائم رہے تاکہ اس اتحاد کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان ملک کو بیرونی قوتیں اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ نہ چڑھا سکیں جیسا کہ افغانستان' عراق' لیبیا اور شام کو تاخت و تاراج کرنے کے لئے آگ و خون کا کھیل کھیلا گیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بڑے کام کے لئے چن لیا ہے۔ امید ہے کہ وہ اس منصب کو بھی نئی شان بخشیں گے اور ہم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کریں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved