کس خطاکی ہے یہ سزا
  11  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ہزاروں برس قدیمی،ثقافت وروایات،انسانی تہذیب وتمدن اورتاریخی واقعات کاامین شام کابدنصیب شہرحلب اس دورکے درندہ صفت فراعین کی جدیدترین فضائیہ،دیوہیکل اور بارود برساتے ٹینک ،بھاری توپیں اورموت بانٹتی وحشی ملیشیا ؤںکے نرغے میں آچکاہے۔شام پرمسلط بشارالاسداوراس کے سرپرستوں نے اس شہرکے باسیوں سے انتقام لینے کیلئے حالیہ بدترین جنگی کاروائیوں کاآغازماہ نومبرمیں کیاتھا جسے دسمبرکے وسط میں کافی حدتک مکمل کرلیاگیاہے۔اس سہ ملکی تعاون اورکیل کانٹے سے سرہونی والی مہم کے نتیجے میں حلب کے سیکڑوں شہریوں کی تڑپ تڑپ کرجان دینے اورہزاروں کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔تقریباًچھ سال سے حلب شہرکے باسی بشارحکومت کے ان ظلم وستم اورجبروتسلط کی وجہ سے باغی ہوچکے ہیں۔ دنیاکے قدیم شہرہونے کے ناطے حلب والوں کو اپنی شاندارتاریخ اورروایات پرنازاں ہونے کاپوراحق ہے۔صدیوں سے اس شہرکی اسلام کے ساتھ والہانہ وابستگی بھی مسلمہ رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ تقریباً٣٢لاکھ کی آبادی کے حامل اس شہرکی ٠٩٪سنی مسلمانوں کی آبادی بشارالاسدکے متعصبانہ طرزِ حکمرانی کیلئے ناقابل برداشت ہوگئی اوراب وہ انہیں سزادینے کیلئے بے چین تھی۔باربار حزب اللہ اورایران نوازملیشیاؤں کے عملی تعاون سے حلب پرقبضے کی کوشش کی گئی لیکن ہربار ناکامی ہوتی رہی لیکن بشارالاسدکی ظلم وجبرکی عادی حکومت نے اپنے بیرونی مددگاروں کی مددسے وقفے وقفے سے شہرمیں پاؤں جمانے کی حکمت عملی جاری رکھی۔اس دوران اہل حلب کے خلاف ہرطرح کاجنگی جنون پوری طاقت اوربیدری کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ان پرکبھی موت اورکبھی شدیدترین بھوک مسلط کی گئی اورنہ صرف ان کی خواراک کی رسدمکمل طورپربندکردی گئی بلکہ پانی بجلی،ادویات اورعلاج معالجے کی سہولیات سے محروم کرکے ان کو شدیداذیت میں مبتلاکرکے شہرچھوڑنے پرمجبورکیاگیا۔اس کے نتیجے میں شہرسے ایک نہیں بلکہ کئی مرتبہ نقل مکانی کی جاتی رہی۔ماہ نومبرکے اواخرمیں بشارالاسدنے اپنے بیرونی آقاؤں کی ہرطرح کی مددسے ایک بھرپوراورخوفناک جنگ شروع کی اورپچھلے تین چارہفتوں سے روسی اورشامی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے براہِ راست مسجدوں کے میناروں،اسپتالوں،تعلیمی اداروں اورنہتے شہریوں کے گھروں کوتاک تاک کر نشانہ بناکرموت تقسیم کی۔ سچی بات یہ ہے کہ اہل شام کی لاشوں پرحکومت کرنے کے عادی ہوجانے والے بشارالاسدکیلئے یہ ملک کاسب سے بڑاچیلنج ہے جس کادوسرابڑاشہراس کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑاہواہے۔دوسرے شہروں کی طرح اس شہرمیں بھی بیک وقت مختلف باغی گروپ سرگرم عمل رہے ہیں۔ نتیجتاً پچھلے چھ برسوں کے دوران کہیں شامی حکومت کوعالمی حمائت یافتہ آزادشامی فوج اورکہیں النصرہ فرنٹ،کہیں القاعدہ ، اورکہیں داعش سے پالاہے۔حلب کے مضافاتی حصے شیخ سعیدیامشرقی حلب میں بھی سرکاری فضائیہ نے روسی جنگی طیاروں کی مددسے داعش پربمباری کے کورمیں ہی اپنے بے گناہ شہریوں پربارودکی برسات کی ہے۔ بشارالاسدگزشتہ کئی سال سے اپنی حکومت کوقائم رکھنے کی کوشش میں دوسرے شہروں اورقصبوں میں بھی بمباری اورگولہ باری سے اب تک لاکھوں شامیوں کے خون سے ہولی کھیل چکا ہے۔اس سارے خونی کھیل میں اپنے پڑوسی اورقریبی اتحادی ایران کے علاوہ روس کی بھی مسلسل پشت پناہی اور ہرطرح کی مددبھی اسے حاصل ہے۔ لبنان سے تعلق رکھنے والی ایران نوازملیشیابھی اس سارے عرصے میں بشارالاسدکے ساتھ اہل شام کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے،شائدیہ پہلی مثال ہوکہ اپنے ہی عوام کودمشق سے چندکلومیٹرکے فاصلے پر الفوطہ کے باسیوں کو١٢/اگست ٣١٠٢ء میں کیمیائی ہتھیاروں سے لگ بھگ ڈیڑھ ہزارکی تعدادمیں موت سے دوچارکردیاگیااوراس سانحہ کے بعدہی شامی حکومت کواپنے تمام ترسرپرستوں کے باوجودکیمیائی ہتھیاروں سے ہاتھ دھوناپڑے تھے۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کااس سے پہلے مختلف ملکوں پرالزام لگتارہالیکن یہ اپنے عوام کے خلاف استعمال کرنے کاہرگزنہیں تھا۔اب تین سال کاعرصہ گزرنے کے بعدحلب کے شہریوں کوبھی الفوطہ کے شہریوں کی طرح سیکڑوں کی تعدادمیں موت کی نیندسلانے کے جنگی منصوبہ میں اپنے ہی ایک شہرکی فتح کااعلان کیاگیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق بشاری،ایرانی اورروسی جنگی حکمت کاروں نے ماہ جولائی میں ہی حلب کامحاصرہ شروع کردیاتھاتاکہ اہل شہرپرخوراک،پانی اورادویات کی ترسیل کے سارے راستے بندکرکے انہیں سرنڈرکرنے پرمجبورکیاجاسکے لیکن پچھلے چھ سال سے وقفے وقفے سے اس خونی تثلیث کامقابلہ کرنے والے اہل حلب نے اس بار بھی کمال صبروہمت کا مظاہرہ کیااگرچہ نظرآرہاتھاکہ جنگی جنون میں مبتلایہ تثلیث فضائی اورزمینی جنگ کی اندھادھندتیاری کے ساتھ آرہی تھی اس کے باوجودماہِ نومبرکے آخری عشرے سے دسمبر کے وسط تک حلب کے باسیوں نے بھوک اورپیاس کاڈٹ کرمقابلہ کیا۔ان شہریوں کے بھوک اورپیاس کے ساتھ اپنے گھروں میں پرامن رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جنگی تثلیث نے شہرکابری طرح محاصرہ کررکھاتھااورشہرسے نکلنے کی کوشش کرنے والے خاندانوں کونہ صرف لوٹ مارکانشانہ بنایاجاتاتھابلکہ انہیں شہیدبھی کردیاجاتاتھا۔ (جاری ہے) دسمبرکے دوسرے ہفتے کے آغازکے ساتھ ہی شہرپرخوفناک بمباری تیزکردی گئی اورشہرمیں چاروں اطراف سے ٹینکوں اوربھاری بھرکم اسلحے کے ساتھ نہتے شہریوں کومشاق نشانہ بازوں کو نشانہ بناناکیلئے کھلاچھوڑدیاگیا۔نہتے شہری بمبارطیاروں اورٹینکوں کامقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہرگزنہ تھے۔ اس خطرناک حالت میں گھروں میں ہی بوڑھے ،بچے ، خواتین اورجوان بلاتمیزشہیدکردیئے گئے اورجنہوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی انہیں زمینی فورسزنے نشانہ بناناشروع کردیاجس سے ان گنت زخمیوں نے کھلے عام سڑکوں پرتڑپ تڑپ کرجان دے دی۔ہزاروں کی تعدادمیںشکست و ریخت کاشکارہونے والوں کوان کے گھروں نے اپنے اندرہی ہمیشہ کیلئے چھپالیا۔زخموں سے چوروالدین اپنے جاں بلب جگرگوشوں کوبے بسی کی تصویربنے ان کے پرخچے اڑتے ہوئے چیخ وچلا رہے تھے لیکن کوئی ان کی فریادپرکان دھرنے اوران کوایسے کرب ناک مناظر سے بچانے کیلئے موجودنہیں تھا۔عجیب قیامت کامنظرتھاکہ ماں باپ اپنے بچوں،بھائی اپنے بھائی اورماں باپ کواپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے ہوئے مرتادیکھ رہے تھے،ہاں یہ فرق ضروررہاکہ کچھ مرکرتہہ خاک ہورہے تھے اورکچھ زندہ ہی اندھی بمباری اورفورسزکی ظالمانہ فائرنگ کے باعث گلیوں،بازاروں اورگھروں کے ملبے کے ڈھیربن رہے تھے اورموت سے بچ نکلنے کی کوشش کرنے والوں کیلئے عسکری ملیشیاکے مشاق نشانہ بازراستہ روک کربراہِ راست ان کے سروں کانشانہ لیکرگولی داغ دیتے تھے۔سفاکانہ عمل تویہ ہے کہ اسی شام کوایک سفاک ملیشیا کاظالم بڑے فخرسے اپنے ساتھیوں کوبتارہاتھاکہ اس نے آج بلاتمیز ٣٩١/افرادکونہ صرف گولیوں کانشانہ بنایابلکہ یادگارریکارڈکومحفوظ رکھنے کیلئے اکثرتڑپتی لاشوں کی فلمبندی بھی محفوظ کی ہے....الامان الحفیظ! ٹینکوں کی مددسے شہروں کوتاراج کرنے کیلئے فوجی دستے الگ سے کام کررہے تھے جوبمباری کے باوجود بچ جانے والوں کوخوفزدہ کرنے کیلئے بھی گلیوں اوربازاروں میں دندناتے پھررہے تھے تاکہ کوئی زندہ آدمی نظرآجائے تواسے ٹینکوں کے نیچاکچلاجاسکے۔واقع یہ ہے کہ شامی اورروسی فضائیہ کے طیاروں نے پورے شہرکوکھنڈرات میں تبدیل کرنے کاتہیہ کر رکھاتھاکہ کہیں چھت توکیاکوئی اوٹ بھی سلامت نہ رہ سکے۔اس مقصدکیلئے ایرانی ملیشیاکے ارکان کوپہلے شہرکے تمام نقشے بھی فراہم کردیئے گئے تھے تاکہ پورے شہرکوخون میں نہلانے میں کوئی کسرباقی نہ رہے۔ایک اطلاع کے مطابق ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی چنددن کیلئے حلب میں دیکھاگیا۔کیایہ ایرانی جرنیل اپنی ملیشیا کی رہنمائی کیلئے موجودتھا،ملیشیاکاحوصلہ بڑھانے آیاتھایابراہِ راست کمان کافریضہ سرانجام دے رہاتھا؟ابھی اس معاملے کامنظرواضح نہیں ہے تاہم یہ ضرورمعلوم ہواہے کہ پہلے عراق اوراب شام میں دیکھاجانے والایہ ایرانی جرنیل اب مستندشواہدکے ساتھ اقوام متحدہ کے اجلاسوں کاموضوع بننے والاہے کہ حلب کی تباہی کے وقت وہاں کیاکرنے گیا تھا ؟ اقوام متحدہ اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچے یانہیں لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران نوازملیشیاکنٹرول سے باہرہوچکی ہے اوراب اس ملیشیاکی کاروائیاں عراق ،شام اوریمن کے علاوہ کہیںاور ہونااب شائدزیادہ دورکی بات نہیں ہے خصوصاً ایسے ماحول میں ایران نے اپنی القدس فورس کے نام پرکھڑی کی جانے والی فوج کواپنے ہمسایہ ملکوں کے عوام کے خلاف بھی استعمال کرناشروع کررکھاہے۔عالمی میڈیابارہاجنرل قاسم سلیمانی کی تصاویرعراق اورشام کے حوالے سے سامنے لاچکاہے لیکن اس کے باوجودایران کے اپنے ہمسایوں کے بارے میں عزائم کی کمی کافیصلہ نہیں کیاگیا،بلاشبہ یہ اوآئی سی کیلئے قابل غوراورباعث تحقیق طلب ضرور ہے۔ آخری اطلاعات تک حلب شہرکا٠٩فیصدحصہ خالی ہوچکاہے لیکن اپنے گھروں کے ملبے میں اپنے پیاروں کی لاشوں کودبے چھوڑکرجانے والے بے خانماں اہل حلب کوخالی ہاتھ بھی شہرسے نکلنے میں سخت دشوری کاسامناکرناپڑرہاہے۔وہ شہرمیں رکیں توگھروں ،گلیوں اوربازاروں میں پڑی لاشیں اوران سے پیداہونے والے مسائل کاسامناہے اوربچے کھچے اہل خانہ کولیکرنکلیں توجنگی جنون میں مبتلاشامی فوج اوراس کی مددگارایران نوازملیشیاان کونشانہ بنانے کیلئے موجود۔ان حالات میں روس اورایران کوعالمی سطح سے جس عوامی غم وغصے کاسامناکرناپڑرہاہے وہ سب کے سامنے ہے۔اس غم وغصے کی فضاسے عالمی استعماری طاقتیں غلط فائدہ اٹھانے کی بھی پوری کوشش کرسکتی ہیں جیساکہ ترکی میں روسی سفیرکے قتل کا واقعہ اسی طرف اشارہ کرتاہے۔خودروس کی طرف سے بھی نیٹو ممالک کاہی نام لیاگیاہے۔اس صورتحال میں ایران نے بھی اپنے سفارتکاروں کوترکی سے نکالنے کااعلان کردیاہے لیکن سوال یہ ہے کہ روس اورایران کی شام کے عوام کے خلاف جنگی پالیسیوں کے تدارک کیلئے یہ کافی ہے؟ ہوناتویہ چاہئے کہ عالم اسلام کی قیادت اپنی پالیسیوں کوازسرنودیکھے، دوسرے ملکوں میں موت بانٹنے کی کوشش کرنے والاامریکا،روس یاایران ہو،اس کوکوئی بھی قابل تعریف نہیں کہہ سکتا لیکن عالم اسلام کاباہمی نفاق ہی ایسی خطاہے جس کی یہ سزاہے کہ ان ممالک کے سربراہ اپنے اقتدار کے دوام کیلئے انہی استعماری طاقتوں کے آلہ کاربنے ہوئے ہیں۔اب خدشہ ہے کہ ترکی کوامریکااوراس کے اتحادی انتقام کانشانہ بنانے اور بدامنی سے دوچارکرنے کیلئے اردگردلگی آگ کوترکی کے اندرلانے کی سازش کریں ۔امت مسلمہ کواس نئی سازش سے خبرداررہناہوگا ۔ٹرمپ کی زیرقیادت امریکااورمودی کے زیرقیادت بھارت مسلم دنیامیں باہمی مسائل سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرسکتے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved