لہو کے نقشے
  11  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) متحدہ عرب امارات کا تیل والا سارا علاقہ عرب شیعہ ریاست کو دیکر صرف کویت ، دبئی اور قطر کو قائم رکھا جائے ، ترکی سے کرد علاقہ چھین کر اسے کچھ نہیں دیا جائے گا ،البتہ اس نقشہ میں شام اور فلسطین نام کی کسی ریاست کا وجود نہیں ملتا کیونکہ یہ سارا علاقہ گریٹر لبنان کو دیا جا رہا ہے ، حزب اللہ کی شام میں مداخلت اور علاقوں پر قبضہ اسی منصوبے پر عمل در آمد کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ نقشہ 2006اپریل میںسامنے آیا ۔ جس وقت صرف افغانستان اور عراق کے سوا ہر جگہ امن تھا یہاں تک کہ پاکستان میں فاٹا اور بلوچستان بھی پر امن دکھائی دے رہے تھے اور اس کے فوراً بعد ہر اس جگہ آگ بھڑک اٹھی جہاں جہاں تبدیلیاں کرنا امریکہ کا منصوبہ تھا۔ عالمی حالات کا جائزہ اور امریکی دفاعی اداروں کے میڈیا مباحث کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہی نان آفیشل دستاویزات ہی امریکہ کی پالیسی ہے، اور اس پر اتنی سنجیدگی سے عمل ہورہا ہے کہ ایک اصطلاح کے پٹ جانے پر اس کی متبادل اور قابل قبول اصطلاح سامنے لائی جاتی ہے ، جیسے پہلے ورلڈ آرڈر تھا اس کے بعد گریٹر مڈل ایسٹ آیا اور اس کے فورا ً بعد کانڈولیزا رائس نے تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیو مڈل ایسٹ کی اصطلاح استعمال کردی ۔ اسی طرح حکمت عملی اور اقدامات بھی تیزی سے تبدیل کئے جارہے ہیں۔ مجوزہ خاکہ سامنے رکھتے ہوئے حالات کو دیکھا جائے تو 2006میں حزب اللہ سے فرینڈلی جنگ میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مکمل انفرا سٹرکچر کی تباہی اس سے قبل افغانستان اور عراق میں امریکی فوجوں کی جارحیت پاکستان پر ثقافتی اور سماجی یلغار۔ فاٹا اوربلوچستان میں گڑبڑ اور اب یمن اور شام کی صورتحال کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے۔ عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویہ ان کے اس یقین کا گواہ ہے کہ عالم اسلام آزاد رہے یا غلامی کا طوق گلے میں ڈال دیا جائے ان کی حکمرانیاں، ان کرسیاں قائم رہیں گی۔ انہیں موجودہ حالات میں کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ ان کے مہربہ لب رہنے کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ جو بولا اس کا اقتدار خطرے میں نہ پڑے جائے۔اور خاموشی پر ممکن ہے کچھ نقد بھی مل جائے ۔ عالم اسلام کے حکمران یقینا اس بڑے امریکی باڑے کی بھیڑیں بننے کیلئے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہیں۔ لیکن کیا عوام اپنی آزادی کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔ یہ سوال جواب چاہتا ہے اور موجودہ سیاسی قیادت کی بصیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ مگر افسوس کہ دور دور تک ایسی قیادت کہیں نظر نہیں آتی جس کی بنا پر خوش فہمی قائم کی جا سکے کہ بقاء کی اس جنگ میں فتح عالم اسلام کی ہوگی۔ البتہ عوام میں موجود جذبہ کی بنا پر یہ خواب دیکھا جا سکتا ہے کہ گریٹر مڈل ایسٹ کا امریکی خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے تو شائد نہ روکا جا سکے۔ کہ 54 اسلامی ممالک میں سے کسی ایک کی حکومت بھی خطرے کے ادراک اور بقا کی خواہش رکھتی نظر نہیں آتی۔ یہ تمام کاسہ لیسان قصر ابیض صرف اپنی مرصع کرسیوں اور عیاشیوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ جو انہیں یقینا حاصل رہے گا۔ مگر ایک حقیقت جو ڈھارس بندھاتی ہے کہ جن آشفتہ سروں نے حکمرانوں کے سرنڈر کے با وجودپہلے 2008اورپھر 2015تک امریکی خواب کو تعبیر کی شکل اختیار نہیں کرنے دی وہ آئندہ بھی بروئے کار رہیںگے ۔ لیکن اس صبح نشور تک کتنا خون دینا پڑے گا۔ کتنی جانیں لٹانا پڑیں گی کون جانے ؟لیکن بہرحال امت یہ قیمت ادا کرے گے۔ پیچھے نہیں ہٹے گی۔ رہا یہ سوال کہ دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ نے جب اپنے منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 2008مقرر کی تو وہ ناکام کیوں ہوا ، پھر دوسری ڈیڈ لائن 2015بھی ناکامی کا ہی پیغام لائی ؟ ایسا کس طرح سے ممکن ہوا مزاحمت کس نے کی اور اب کیا ہورہا ہے ؟ حقائق بتاتے ہیں کہ امریکی کی پہلی ترجیح پاکستان اور عراق سے آغاز کی تھی ، جسے اس صدی کے سب سے بڑے عسکری دانشور جنرل حمید گل اس طرح بیان کرتے تھے کہ ''9/11بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان اصل نشانہ ہے ''۔ یہی بات اپنے ٹھیک وقت سے کچھ تاخیر سے سہی مگر افواج پاکستان کو بھی سمجھ آگئی اور ان کی پالیسی میں بھی در آئی، یہی سبب ہے کہ 2010میں ایسی وار گیمز بھی کی گئیں جن میں مشرق میں بھارت اور مغرب میں امریکہ کو بیک وقت حملہ آور تصور کرکے اپنی حکمت عملی ترتیب دی گئی۔، دشمن کا تعین اور حقائق کا ادراک آدھی جنگ جتوا دیتا ہے ، یہی ہوا اور 2011میں بلوچستان کو دشمن سے آزاد کروانے کے عمل کا آغاز ہوا ، اور بات بڑھتے بڑھتے ضرب عضب تک پہنچی ۔کاش کوئی یہ ساری داستاں رقم کرے تو گمنام ہیروز کا بھی تذکرہ آئیگا جن میں میجر جنرل (ر) آصف خٹک صف اول میں دکھائی دیتے ہیں، اور ان کے ساتھ سویلینز میں سے کون کون تھا ۔۔سر دست نام لینا مناسب نہیں مگر یہ سب سیلیوٹ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سپر طاقت کے منصوبوں کے لئے ناکامی کی بنیاد رکھی ۔ 2008کی ڈیڈ لائن اس لئے ناکام رہی کہ طالبان نے تابڑ توڑ حملوں سے بے حال کردیا اور دوسری جانب عراق میں شیعہ سنی اتحاد کا امریکیوں کے پاس کوئی توڑ نا تھا ۔ 2015کی ڈیڈ لائن بلوچستان اور فاٹا میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنے بوٹوں تلے روند ڈالی اور اپنے پاک لہو سے ملک کی سالمیت کا تحفظ کیا ۔ امریکی پاکستان کی حد تک ناکام ہوئے ،مگر عراق میں انہیں ان کے پرانے نظریاتی اتحادی ایران کو اس کا مطلوبہ حصہ دیکر ساتھ ملانے پر کامیابی ملی ،جس نے اس سارے منصوبہ کی ترتیب بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اور تقسیم اور تباہی کے اس منصوبہ کو پہلے عرب خطہ سے شروع کرنے پر اتفاق ہوا ۔ ایران امریکہ مفاداتحاد کو اگر کسی کی عقل میں نہ آئے تو وہ امریکی وار آن ٹیرر کی سفارتی بریگیڈ کے اہم ترین رکن، پاکستان ،لبنان ، شام اور افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر ریان سی کروکر کے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضامین پڑھ لے یقینا آفاقہ ہوگا ۔ پاکستان ابھی منصوبہ سے خارج نہیں ہوا بلکہ ترتیب بدلی ہے ، میدان جنگ میں شکست فاش کے بعد اب یہاںامریکی راتب خور میڈیا پرسنز، سیاستدانوں اور این جی اوز کے ذریعہ سے مایوسی اور انتشار پھیلا کر ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، افغانیہ جیسی اصطلاحات اور پاک سعودی تعلقات کے خلاف با جماعت ہرزہ سرائی سے لیکر عسکری اداروں کے خلاف زہریلے پراپگنڈہ تک اسی سلسلہ کی ایک کڑیاںہیں۔ امریکی جو ہدف اپنے مسلح ایجنٹو ں کے ذریعہ سے حاصل نہیں کر سکے اب وہ سیاسی طور پر حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔۔۔(جاری ہے)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved