تعلیمی اداروں میں منشیات
  11  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
اس سے شرمناک خبر اور کیا ہوگی؟ کہ وفاقی دارالحکومت کی قائداعظم یونیورسٹی میں موت بانٹنے والوں کی حکمرانی ہے … خبر کے مطابق … ''شراب' کوکین' چرس ' بوٹی' سمیت ہر قسم کا نشہ قائداعظم یونیورسٹی میں انتہائی آسانی سے دستیاب ہے … قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے مطابق … یونیورسٹی کے اندر اور یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں منشیات کی آسان فراہمی کی وجہ سے متعدد طلباء و طالبات منشیات کے عادی بن چکے ہیں '' یہ صرف ایک قائداعظم یونیورسٹی کا مسئلہ ہی نہیں … بلکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی گزشتہ سے پیوستہ مہینے یہ رپورٹ دے چکی ہے کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے 53 فیصد بچے بچیاں نشے کے عادی بن چکے ہیں … حکومت اور سیاسی جماعتوں کو پانامہ کیس سے ہی فرصت نہیں … رہ گئی عدلیہ' تو دنیا میں اور بھی غم ہیں منشیات کے علاوہ ' سینٹ کے چیئرمین کو اس بات کی تو فکر ہے کہ جنرل راحیل شریف مسلم فوجی اتحاد کے سربراہ کیسے بن گئے … انہوں نے سربراہ بننے کی اجازت کس سے لی؟ کاش کہ انہیں یہ فکر بھی ہوتی اور وہ حکومت سے جواب طلب کرتے کہ قائداعظم یونیورسٹی … منشیات فروشوں کی جنت کیسے بن گئی؟ وہ یہ سوال بھی کرتے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے 53 فیصد بچوں کو نشے کا عادی بنانے والے مکروہ چہروں کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا ؟ … مگر افسوس کہ اس کی فرصت ان کے یپاس کہاں؟ اس لئے یہ فریضہ ہم ادا کیے لیتے ہیں … قائداعظم یونیوسٹی مذہبی شدت پسندی نہیں بلکہ سیکولر شدت پسندی کا مرکز تصور ہوتی ہے … یونیورسٹی پر نہ تو کسی مولوی کا کنٹرول ہے اور نہ ہی کسی جہادی کا … بلکہ سنا ہے کہ یونیورسٹی پر ڈاکٹر پرویز ہود اور فرزانہ باری جیسے سیکولر شدت پسندوں کا گہرا اثر ہے … سیکولر شدت پسندی کے زیر اثر یونیورسٹی پر موت کے سوداگروں کا راج ' یہ بات سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ جو دیسی لبرلز اور سیکولر عناصر اپنے زیر اثر چھوٹی سی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو ہیروئن' شراب اور کوکین کو گلے لگاکر خودکشی کرنے سے نہیں روک سکتے … اگر ان سیکولر پسندت پسندوں کے ہتھے پورا ملک چڑھ گیا … تو پھر یہ اس کا کیا حشر نشر کریں گے؟ جیکٹ پہن کر خودکش حملے کرنے والوں اور معصوم طلباء و طالبات میں منشیات کی لعنت عام کرکے انہیں اور ان کے خاندانوں کو خودکشی پر مجبور کرنے والوں میں کیا فرق ہے؟ مجھے اسلام آباد پولیس سے کوئی توقع نہیں ہے ' اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نامور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سپرد یہ کیس کرنا چاہیے… کیوں کہ یہ قوم کے معماروں کے مستقبل کا مسئلہ ہے … خفیہ ایجنسی اس بات کا کھوج لگاکر ان بے غیرت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے کہ … جو قائداعظم یونیورسٹی کے طلباء و طالبات میں منشیات کی موت بانٹ رہے ہیں۔ ذرائع یہ بات بھی زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر فرزانہ باری قائداعظم یونیورسٹی میں اپنے اپنے شعبوں کے ہیڈ ہیں … یہ دونوں وہ معروف شخصیات ہیں کہ جو مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بیٹھ کر اسلام سے متصادم خیالات کا اظہار کرنا' نظریہ پاکستان کو جھٹلانا اپنے لئے لازم سمجھتے ہیں … قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو بدنام زمانہ قادیانی ڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کرکے حکومت نے بھی حال ہی میں قادنیت نوازی کا ثبوت فراہم کیا ہے ' کیا ڈاکٹر عبدالسلام جیسے قادیانی کے نام سے شعبہ فزکس کو منسوب کرنے سے قائداعظم یونیورسٹی سے منشیات کی لعنت کم ہو جائے گی؟ افسوس صد افسوس ہمارے تعلیمی ادارے منشیات فروشوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں … قوم کے بچے اور بچیاں نشے کی عادت میں گرفتار ہورہی ہیں … اور سیکولرشدت پسند ملک کے آئین سے ''اسلامی'' شقیں نکلوانے کے لئے مرے جارہے ہیں … سیکولر انتہا پسند ملک کو سیکولر لادینیت کے گڑھے میں دھکیلنے پر تلے بیٹھے ہیں … ہماری سیاسی جماعتیں امریکہ کی طرف سے ملنے والے ایجنڈے کے تحت مذہب اسلام کے احکامات کے پیچھے تو ہاتھ دھوکر پڑی رہتی ہیں … انہیں مدارس کے نصاب تعلیم کو بدلنے کی تو بہت فکر ہے … لیکن نہ پیپلز پارٹی ' نہ تحریک انصاف ' نہ ایم کیو ایم ' نہ اے این پی ' کسی نے بھی تو جرات نہیں کی … کہ وہ اس بات پر آواز اٹھاتے کہ … آخر اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء و طالبات کو منشیات کے زہر کی طرف کون لے کر جارہا ہے؟ … گستاخان رسول کی حمایت میں موم بتیاں جلانے والی مافیا … ڈالر خور این جی اوز کا ایک پورا نیٹ ورک یہاں موجود ہے … مگر کسی این جی او نے جرات نہیں کی کہ وہ تعلیمی اداروں کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کسی واک کا اہتما م کرکے منشیات کی لعنت کے خلاف موم بتی مارکہ جلوس ہی نکالنے کی کوشش کرے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیکولر مافیا نے یونیورسٹیوں اور کالجوں کو سیکولر شدت پسندی کی نرسریوں میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے مگر انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ … اپنے بچوں اور بچیوں کی کڑی نگرانی کریں … اور یہ جاننے کی کوشش بھی کریں کہ ان کے بچے اور بچیاں نصاب تعلیم کے علاوہ … اور کن مشاغل میں پڑے ہوئے ہیں ؟ کہیں منشیات کی لت میں تو مبتلا نہیں ہوچکے؟ والدین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ان کے اساتذہ کے حوالے سے ڈسکشن ضرور کیا کریں … کہیں یہ نہ ہو کہ ڈاکٹر' سائنس دان اور انجینئر بنانے کے چکر میں آپ کا بچہ سیکولر شدت پسند ہی نہ بن جائے؟ اور آپ ساری عمر روتے ہی رہ جائیں' سیکولر شدت پسندی میں مبتلا چاہے کوئی ڈاکٹر ہو' انجینئر ہو ' سائنس دان ہو یا سیاست دان یا صحافی' اس سے خیر کی توقع رکھنا عبث ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved