فوجی عدالتیں، الطاف حسین کی واپسی اور مُرغِ بادنما
  11  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭نئے سرے سے فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ پھر سامنے آگیا ہے۔ حکومت اس بارے میں قانون بنانا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے سِول معاملات کے لئے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی ہے۔ اس موضوع پر قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے تمام پارلیمانی پارٹیوںکے رہنماؤں کا اجلاس بلالیا۔ اس میں اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرے اس کے بعد اپوزیشن اپنامؤقف دے گی۔ آئندہ اجلاس 17 جنوری ہوگا۔ بات سیدھی سی ہے۔دوسال قبل فاٹا اوردوسرے علاقوں میں دہشت گردی بہت زوروں پر تھی۔ ملک میں ہرطرف دہشت گردی کا خوف اعصاب پر چھا چکا تھا۔ اس عالم میں فاٹا میں ضرب عضب شروع ہوچکی تھی۔ حکومت نے دو سال قبل مؤقف اختیار کیا تھا کہ عام عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں بہت دیر لگ جاتی ہے جب کہ فوجی عدالتیں جلد فیصلے کردیتی ہیں، اس لئے دہشت گردوں سے فوری طورپر نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں سے کام لیاجاناچاہئے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حالات کی سنگینی کے مدنظرفوجی عدالتوں کے قیام کی حمائت کردی ۔اس کے ساتھ ہی اپنے تحفظات بھی بیان کردیئے۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بیان دیا کہ میں آنسوؤں کے ساتھ اس اقدام کی منظوری دے رہا ہوں۔ دوسال کے بعد اب حالت بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ فوجی اور سول ترجمانوں کے مطابق فاٹا کے علاقے میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کردیاگیا ہے۔ وہاں سے عارضی طورپر نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندان واپس جاچکے ہیں۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی دہشت گردی کم ہوگئی ہے اور اب پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور کھیلوں کے مقابلوں کے لیے غیر ملکی ٹیموں کی آمد کی باتیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ملک میں اب خوف وہراس بہت کم ہو گئی ہے اور فوجی عدالتوں کے قیام کی وہ ہنگامی ضرورت باقی نہیں رہی۔ فوجی عدالتوں نے بلاشبہ اپنے فرائض نہایت تندہی اور تیزی کے ساتھ انجام دیئے ہیں اوردہشت گردی کے جال کو توڑنے کے بارے میں اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں عدلیہ کا بہت وسیع اوربڑا نظام موجود ہونے کے باوجودفوجی عدالتوں کے قیام کاواضح مطلب یہ ہے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں ججوں اور مجسٹریٹوں کااتنا بڑا نظام قابل اعتماد نہیں رہا ! یہ صریحاً اس نظام کی توہین ہے۔ اس نظام کو بہتر اور مؤثر بنانے کی بجائے فوجی عدالتوں کا سہارا لیا جارہاہے ! اس بار حکومت شائد اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ٭بعض ''محب وطن'' دانش وروں نے اخباری کالموں اور ٹیلی ویژنوں کے ٹاک شوز کے ذریعے مہم شروع کردی ہے کہ پاکستان کے کھلے دشمن الطاف حسین کی غلطیوں اور پاکستان دشمن ہرزہ سرائیوں کو نظرانداز کرکے اسے معذرت کرنے اور پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ملک وقوم کی خدمت کرسکے! ان بزعم خود ''دانش وروں'' کی اس مہم کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہ تو آنے والے وقت پرظاہر ہو جائے گا مگر اس مہم کا اصل مقصد کیاہے؟کیا بھارت کے پاکستان دشمن ادارے 'را' نے کوئی نئی انگڑائی لی ہے؟ کیا ملک میں بدامنی اور شورش پھیلانے کا کوئی نیا جال تیار کیاہے؟ کیا سانپ اور بچھو کبھی انسان دوست ہوسکتے ہیں؟ 22اگست کو اس شخص نے جس انداز میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف زہر اگلنے اور نعرے لگانے کے علاوہ اپنے پشت پناہ آقا بھارت اور اس کے پاکستان دشمن ادارے ''را'' کو مدد کے لیے پکارا ، اس نے تو خود اس کی اپنی قائم کردہ ایم کیو ایم کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ تنظیم اس وقت چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے، صرف لندن والا مختصر گروہ الطاف حسین کا نام کاراگ الاپ رہاہے۔ یوں لگتا ہے کہ برطانیہ کی حکومت تنگ آکر اس سے جان چھڑاناچاہتی ہے اوراسے ملک سے نکالنے کے منصوبہ کا ابتدائی کام شروع کرادیاگیاہے۔ سانپ کو جتنامرضی دودھ پلاتے رہیں کیا وہ ڈنک مارنے سے باز آجائے گا؟ ٭بھارتی صوبہ بنگال کی ایک علاقے کی ٹیپو سلطان مسجد کے امام نور الدین نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص وزیراعظم نریندر مودی کی داڑھی 'مونڈ' کر اس کامنہ کالا کردے اور اس کے سر کے بال اتار کر اس کی ٹِنڈ کردے، اسے25 لاکھ روپے انعام دیاجائے گا۔ اس پیش کش کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مودی نے مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ بڑے کرنسی نوٹ منسوخ کرکے کروڑوں بھارتیوں کو جان لیوا عذاب میں ڈال دیا ہے۔مولانا نور الدین کا یہ اعلان رسمی قسم کا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ مودی کی مختلف پالیسیوں نے تقریباً ڈیڑھ ارب بھارتی عوام کاناطقہ بند کردیا ہے۔ اس کی سکیورٹی پہلے سے زیادہ سخت کردی گئی ہے۔ اس کے اعصاب پر آج کل چِین سوار ہے، جواس کی پاکستان کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنارہاہے اور جس کی فوج بھی سرحدی علاقوں میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سے نٹمنے کے لیے بھارتی فوج میں90 ہزارفوجیوں کا نیا ڈویژن قائم کیا گیا ہے جو صرف چین سے نمٹے گا! ٭ایک قار ی نے پوچھا ہے کہ مُرغِ بادنما کیا ہوتا ہے؟ ایک مثال سے بات سمجھ میں آجائے گی۔ پنجاب کے ایک روزانہ کچھ نہ کچھ بولنے والے وزیر رانا ثناء اللہ نے فوجی عدالتوں پر سخت نکتہ چینی کردی۔ اس پر اس کے سرکاری باس ناراض ہوگئے اور اس کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کردی۔ اس پر اگلے ہی روز موصوف نے فوجی عدالتوں کی اتنی تعریف کردی کہ ان کے ولی نعمت سیاسی و سرکاری آقا حیران رہ گئے! مزید وضاحت یوں ہے کہ بعض عمارتوں میں ہوا کارخ جاننے کے لیے ہلکے لوہے یا ٹین کا ایک گھومنے والا مرغ کی شکل کا پرندہ ایک سلاخ پر لگادیاجاتا ہے۔ وہ ہوا کے رخ پر گھومتا رہتاہے! ہوا جس رخ پر چلتی ہے وہ ادھر منہ موڑ لیتا ہے۔ مثالیں تو اور بھی بہت سی ہیں۔ آج اس حکومت میں، کل دوسری حکومت میں، جو بھی حکومت آئے اچھل کراس کے دستر خوان پر! بہت سے نام ہیں۔ مگر بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ قارئین خود بہت کچھ جانتے ہیں۔ ٭ان کالموں کے ذریعے15نہائت غریب بچیوں کی باعزت 'رخصتی' ہوچکی ہے۔ اندرون وبیرون ملک بہت سے اہل دل حضرات تعاون کرتے ہیں۔ اب ایک ذرا مختلف معاملہ جومیرے لئے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ مجھے ایک نہائت غریب عیسائی بچی کی رخصتی میں مدد دینی ہے۔ باپ کبھی گلیوں میںخاکروب تھا۔ عرصہ سے بیمار اور معذور ہے، بھائی کوئی نہیں۔ ماں اور دو بیٹیاں گھروں میں صفائی وغیرہ کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک بچی کی اگلے ماہ رخصتی طے ہے۔ اس کی غریب ماں آنسوؤں کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ وہ بہت سے 'اپنوں' کے پاس جاچکی ہے مگر کسی نے سہارانہیں دیا۔ اب وہ میرے پاس آئی ہے کہ کم ازکم بارات کے کھانے اور چند جوڑے کپڑوں کاانتظام ہوجائے۔ میں اس کی اپیل چھاپ رہا ہوں۔ اس بچی کامذہب جوبھی ہے، وہ پاکستان کی ہی بیٹی ہے۔ میرے نمبر(0333-4148962) کے ذریعے اس غریب گھرانے کے ساتھ تعاون کیاجاسکتا ہے! ٭ایس ایم ایس: ہمارے گاؤں ملوٹ (MALLOT) تحصیل دھیر کوٹ آزاد کشمیر کی سڑک برف باری سے بند ہوچکی ہے۔ ہمیں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔محکمہ شاہرات کے نام اپیل چھاپ دیں کہ ہمارا مسئلہ حل کردیں۔ رضوان راجا ملوٹ تحصیل دھیر کوٹ، ضلع باغ (0343-5388097)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved