سال ہا سال سے بدلا نہیں سائے کا مقام
  12  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مہ و سال کے بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا،فقط کیلنڈر تبدیل ہوتا ہے حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ ن م راشد نے کہا تھا '' سال ہا سال سے بدلا نہیں سائے کا مقام '' منیر نیازی نے کہا '' منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز ترہے اور سفر آہستہ آہستہ '' اور سارے منظر ایک جیسے ، ساری باتیں ایک سی سارے دن ہیں ایک جیسے اور ساری راتیں ایک سی بے نتیجہ، بے ثمر، جنگ و جدل سود و زیاں ساری جیتیں ایک سی اور ساری ماتیں ایک سی شاعر کہے، فلسفی کہے، دانشور کہے،یا نفسیات دان ، سب رزق ہوا ہو جاتا ہے،کوئی نہیں سنتا، کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،ایک ہی روش ایک ہی سلسلہء روزو شب۔ پچاس کی دہائی میں شورش نے کہا تھا مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں ہم جسے جمہوریت کہتے ہیں وہ ملوکیت میں تبدیل ہوئی جاتی ہے ، ہم جسے انصاف کہتے ہیں بس ایک لفظ رہ گیا ہے اور یہ ایک الگ عنوان ہے،جس کے لئے کئی دفتر درکار ہیںکہ جسٹس منیر سے لیکر جسٹس انور ظہیر جمالی تک سب نے جو تاریخ رقم کی ہے وہ عدل کی کم عبرت کی زیادہ لگتی ہے۔الامان الحفیظ۔ جانے والے سال کی بھی عجب داستان ہے کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا بڑا صوبہ اور آبادی کے حساب سے ملک کا چھوٹا صوبہ لہو لہو رہا جس کی ابتدا ء سال کے پہلے مہینے کی تیرہ تاریخ سے ہوئی جب پولیو سنٹر پر خود کش حملہ میں تیرہ سکیوریٹی اہلکاروں سمیت سترہ جانیں نذر دہشت گردی ہوئیں۔اسی ماہ کی اٹھائیس کو شدت پسندوں نے چار پولیس اہل کاروں کی زندگی چھین لی،پھر فروری چڑھا تو چھٹے ہی روز ایف سی قافلے کے درجن اہل کار ساتھ لے گیا جو شہری لقمئہ اجل بنے وہ الگ،جون اٹھ لاشیں بلاچستان کو دے گیااور اگست میں تو قیامت ہی گزر گئی جب کوئٹہ بار کے صدر بلال انور کانسی کو بھری کچہری میں قتل کیا گیا تو احتجاج کرنے والے پچاس وکلا کو موقع پر ہی دہشت گردوں کی گولیوں نے نگل لیا ،بیس شہری الگ اس قیامت خیز میدان میں کام آئے اور پھر اکتوبر دوہزار آٹھ اورنومبر سات گودیں اجاڑتا ہوا گزرا، یہ داستان الم ملک کے چھوٹے صوبے کی ہے اور تین صوبوں پر کیا گزری یہ بیان کرنے کی سکت باقی نہیں۔ جب حکمرانوں کو لوٹ مار اور ارتکاز زر سے فرصت نہ ہو ،سیاستدانوں کو تخت گرانے سے فراغت نہ ہو تو لہو سستا اور انصاف مہنگا ہو جاتا ہے،بازار سونے اورقتل گاہیںآباد ہو جاتی ہیں،کتنی شرم ناک بات کہ اس ملک میں نئے سال کا جشن منایا جا رہا ہے جس میں جشن مرگ انبوہ منایا جانا چاہئے۔اسی لئے تو فیض احمدفیض سوال کر رہے ہیں۔ اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک با ت وہی آسماں بدلا ہے افسوس نہ بدلی ہے زمیں ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں اگلے برسوں کی طرح ہونگے قرینے تیرے کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوںنے دیکھے ہیں نئے سال کئی ابن ہشام کہتے ہیں کہ رسول ۖکے اصحاب ْْ نئے ماہ یا نئے سال کے شروع ہونے پر یہ دعا پڑھتے تھے۔ اے اللہ! اس سال کو ہمارے اوپر امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان سے بچائو اور رحمان کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما۔ کالم لکھتے لکھتے نئے سال کی مبارک بادی کے سینکڑوں پیغام آچکے ہیں ،شہر کے گلی محلوں میں آتش بازی جاری ہے اوپر دی گئی فیض کی نظم کراچی سے حسن سرمد نے بھیجی ہے اور نئے سال کی دعا ملتان سے انصر خان نے باقی جتنے پیغام ہیں سب بے مایہ، بے محل،بے مصرف و بے معنی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved