لہو کے نقشے
  12  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
(گزشتہ سے پیوستہ) عراق میں کامیابی نے امریکیوں کو اپنے منصوبے کے لئے نہ صرف جری کردیا بلکہ انہیں ایران کی شکل میں فرنٹ لائن اتحادی بھی دے دیا جو اسرائیل ہی کی طرح اپنے ہم مسلک لوگوں کو دنیا بھر میں کرائے کے فوجی کے طور پر استعمال کرنے کا گر جانتا تھا اور ولائت فقیہہ کے پھندے سے شکار کا عادی بن چکا تھا ۔ یہ تمام سودے بازیاں اور منصوبہ بندیاں ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کے دور اقتدار میں ہوئیں اور اس کے بعد آنے والی حکومت نے انہی بنیادوں پر آگے قدم بڑھائے اورپاکستان میں ناکامی کے بعد سعودی عرب کو ہدف بنانے پر کام شروع کیا ۔ باوجود اس کے کہ شام میں انارکی اور اس کا بحیثیت ریاست وجود ختم کرنا ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے ، اور اس کی وجہ مسیحی اور اسلامی روایات کے مطابق یہاں سے اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کی پیشین گوئیاں ہیں،مزید تفصیلات کے لئے مسیحی اور یہودی مذاہب میں آرمیگڈان کے نظریہ کی تفصیلات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب سعودی عرب کا محاصرہ کیا جارہا ہے اور اس کے اندر بھی نقب لگابے کی کوشش مسلسل جاری ہے ، جو وقتاً فوقتاًدکھائی بھی دے رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران بظاہر شام میںایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں مگر دونوں کے عزائم ایک ہی ہیں،شام کا سقوط:اور بس ۔وہ اس میں کامیاب ہوچکے تھے ، مقامی جہادیوں کی یلغار کا بندوبست کرنے کی خاطر دونوں کی مشترکہ پراڈکٹ داعش ہی کافی تھی ، مگر اس کی دال گلتی دکھائی نہ دی تو جی ایٹ 2004میں گریٹ مڈل ایسٹ منصوبہ کے شریک کار روس کو بھی ساتھ ملالیا گیا اور مجاہدین کے ٹھکانوں پر بمباری اس کی ذمہ داری ٹھری ۔ کام مکمل ہی سمجھیں مگر اب ترکی درمیان میں آچکا ہے اور اس کے آنے سے منصوبے میں کافی ساری رکاوٹیں دکھائی دینے لگی ہیں۔ دوسری جانب امریکی ریموٹ پر چلنے والی داعش کے افغانستان میں روس کے لئے خطرہ بن جانے کے سبب روس اپنے مفادات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کی کوشش میں ہے اور اسی وجہ سے اب وہ شام سے ہاتھ کھینچنے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے ،اچانک روس کے شام کے میدان جنگ سے الگ ہونے کے اعلان نے بھی امریکی منصوبے کو دھچکا پہنچایا ہے ، مگر چونکہ وہاں زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اس لئے روس کے نکلنے اور ترکی کی مداخلت کے باوجود بازی پلٹنے کی امیدتو ہے مگر جلد کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے ۔ اب جبکہ سعودی عرب کا گھیرائو مکمل ہوچکا ہے ، ایران اس کے چاروں طرف بیٹھ چکا ہے ، یہ سب امریکہ کی مدد کے بغیرممکن نہیں تھا مگر سعودیوں کو اس کی سمجھ ہی دیر سے نہیں آئی بلکہ وہ اب بھی مطلوبہ تندہی کے بجائے ایران کے مقابلہ میں تھوک سے پکوڑے تلنے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں۔ نقشہ پر دیکھیں تو سعودی عرب کے شمال میںاردن اور عراق ہیں، عراق کی سعودی عرب سے ملحق 814کلومیٹر کی سرحد ایرانیوں کی دسترس میں ہے ،اردن کی 728کلومیٹر سرحد پر داعش سمیت ہمہ قسم کے تکفیری اور اردن کے مسلح قبائلی امریکی مدد کے ساتھ پوری طرح سے تیار ہیں اور ایک اشارے کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں کویت ہے جہاں ایران کے سلیپنگ سیلز کی موجودگی سے سعودی بھی انکار نہیںکرسکتے۔مشرق میںقطر ابھی تک اس کے لئے خطرہ نہیں لیکن بحرین میں ایرانیوں کی موجودگی بھرپور ہے اور وہ بحرینی حکومت کو ٹف ٹائم بھی دے رہے ہیں۔خلیج فارس کے ساحل بھی ایرانی بحریہ سے محفوظ نہیں ہیں،جنوب مشرق میں عمان ابھی تک سکون کی علامت کہا جا سکتا ہے ،لیکن تابی کئے؟۔جنوب میں یمن کا خطہ ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے اور ایرانی سپاہ وہاں اچھی خاصی تعداد میں موجود بھی ہیں۔ دوسری جانب مصر جسے سعودی اپنا دفاعی مورچہ خیال کرتے تھے وہ ایرانیوں کے اثر میں جاچکا ہے ، یوں اگر دیکھا جائے تو سعودی عرب کو چاروں طرف سے ایران نے اپنے فرقہ پرستوں کے ذریعہ سے گھیر لیا ہے اور اگلا ہدف اب سعودی عرب ہی دکھائی دیتا ہے ، اندرونی طور پر حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ یمن کی جانب سے مکہ پر میزائل حملہ کی خبر خود سعودیوں نے دی اور مدینہ میں خود کش حملہ اس سے بھی زیادہ خطرے کی بات ہے۔ باوجود اس کے کہ مجرم مارے جاچکے مگر یہ گستاخانہ جسارت ہی کم خطرناک نہیںہے ۔ سرحدوں کی اس دگر گوں صورتحال کے باوجود دنیا میں سعودی حکومت کا رویہ وہ دکھائی نہیں دیتا جو اس وقت ہونا چاہئے ، صرف پاکستان ہی کو دیکھ لیا جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کس قدر''مستعد ''ہیں۔ بیانات کی بات دوسری ہے مگر عالم یہ ہے کہ دو برس قبل عاصمة الحرب اور اب جنرل راحیل کے تقرر کے معاملہ پر پاکستان کے پاور کوریڈور ز میں سعودی تنہا دکھائی دیتے ہیں۔ دہایئوں سے جن اونٹوں کی ناز برداری وہ کرتے آئے ہیں وہ جذبات کو آگ لگا دینے والا قصیدہ تو ان کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں، مگر عملاً ان کی زبانیں تالو سے چپکی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ ایرانیوں کے مقاصد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ، مگر ان کی حکمت عملی اور سیاسی و سفارتی تحرک کی داد دینا پڑتی ہے ۔ پاکستانی میڈیا اور پارلیمنٹ میں آج ایران کا موقف گونج رہا ہے اور سعودی موقف اجنبی سمجھا جا رہا ہے ۔ ایرانی سفیر کی ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا سے ملاقاتوں کا ریکار ڈ ہی دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ ایک ماہ میں اتنی ملاقاتیں کررہے ہیں کہ جتنی یہ ایک برس میں بھی شائد نہ کرسکیں۔ سعودیوں کا اطمینان اور امریکہ و ایران کی تیز رفتار اور منطقی پیش رفت دیکھ کر خوف محسوس ہورہا ہے کہ شائد عالم اسلام کے دشمن اپنے مقاصد میں کم از کم عرب خطہ کی حد تک کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، راحیل شریف کے تقرر کی صورت امید کی ایک صورت دکھائی دے رہی ہے ، لیکن امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ بھارت بھی جس طرح سے اس کے خلاف میدان میں نکل آیا ہے اور ہماری مسلم لیگی حکومت اپنی روائتی کینہ پروری کا جس انداز میں مظاہرہ کر رہی ہے ، یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔مگر اس کی ذمہ داری کسی دوسرے سے زیادہ خود سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ پاکستان میں انہوں نے اپنے دوستوں کے انتخاب میں جو معیار مقرر کیا وہ کمزور ثابت ہورہا ہے ۔ اور یہ سفارتی کمزوری انہیں جنگ کے میدان میں بھی نقصان پہنچاسکتی ہے ۔ موجودہ حالات اپنی جگہ گھمبیر ہیں، مگر روشنی کی ایک کرن بھی ہے اور اس کا مرکز بھی پھر پاکستان اور افغانستان ہے ، نئی ہوتی ہوئی صف بندی میںایران پاکستان کے گروپ میں شمولیت کی خواہش رکھتا ہے تاکہ سی پیک سے استفادہ کرسکے ، اور خطہ میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھ سکے۔پاکستان کی بھی خواہش ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی دوریوں کو کم کیا جاسکے ، اگر جنرل راحیل کا راستہ نہیں روکا جاتا تو وہ اسی شرط پر اس عہدہ کے لئے رضامند ہوئے ہیں کہ انہیں ثالثی کا اختیار ہوگا ، یہ ثالثی اور افغانستان کی نئی صف بندی میں شمولیت ایران کی مجبوری ہے اور عرب خطہ میں امن و استحکام کی علامت بھی۔ (ختم شد)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved