جنرل راحیل شریف فرقہ وارانہ ذہنیت کے نشانے پر
  12  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
نہایت افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ… موم بتی مارکہ این جی اوز اور فرقہ وارانہ ذہن رکھنے والے چند مخصوص ا ینکرنیوں اور ا ینکرز نے … محض ایک مفروضے کی بنیاد پر پاک فوج' اس سے منسلک خفیہ ایجنسیوں بالخصوص سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خلاف … انگلش میڈیا ' ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر اک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے … سول سوسائٹی کے نام پر سیکولر شدت پسند ریاستی اداروں کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکال رہے ہیں۔ ''مفروضہ یہ ہے کہ (ر) جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والے 39 اسلامی ملکوں کی فوج کی سربراہی سنبھال لی ہے''… حالانکہ اس بات کی ابھی تک نہ حکومت پاکستان اور نہ ہی سعودب عرب نے کسی قسم کی کوئی تصدیق کی ہے اور نہ خود راحیل شریف نے اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر پاک فوج اور جنرل راحیل شریف کے خلاف گھٹیا کمپیئن چلانا … اس بات کابین ثبوت ہے کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے … سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف کو ریالوں کے بدلے بکنے کے طعنے دیئے جارہے ہیں … حالانکہ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو … جنرل راحیل شریف کو یہ طعنے دینے والے … خود صرف ایرانی ''تومان'' کے ہی نہیں … بلکہ امریکی ڈالروں کے بھی بھوکے ہیں' ایران کے خوف کو ذہن میں رکھ کر سعودی عرب جیسے پاکستان کے دوست ملک کے خلاف کمپیئن چلانا پراکسی وار کی شدت بڑھانے کے مترادف ہے … ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے جنرل راحیل شریف سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہوگئی ہے جس کی وجہ سے مخصوص سیاپا گروپ ان پر چڑھ دوڑا ہے۔ ایسے موقع پر حکومت اور تحفظ حرمین شریفین کے نام پر … مہنگے ترین ہوٹلوں میں بار بار کانفرنسیں کرنے والی مذہبی تنظیموں کی ذمہ داری تھی کہ … وہ آگے بڑھ کر سیاپا گروپ کی لن ترانیوں کے خلاف میڈیا میں آواز اٹھاتے … مگر حکومتی وزراء ہوں یا مذہبی جماعتوں کے قائدین سب خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں … نہ پروفیسر ساجد میر' نہعلی محمد ابو تراب' نہ حافظ محمد سعید' نہ مولانا سمیع الحق' نہ قاری زوار بہادر' نہ شاہ اویس نورانی' ہاں البتہ مولانا فضل الرحمن خلیل کا ایک بیان اخبارات میں ضرور چھپا کہ جس میں انہوں نے نہ صرف جنرل راحیل شریف کے اسلامی فوج کے سربراہ بننے کو خوش آئند قرار دیا … بلکہ ان کے خلاف کمپیئن چلانے والوں کی بھی مذمت کی' رہ گئے مولانا فضل الرحمن وہ تو ویسے ہی صاحب فراش ہوکر پندرہ دن کی چھٹی پر ہیں'اسلام آباد میں سعودی عرب کا سفارت خانہ بھی موجود ہے اور ایران کا سفارت خانہ بھی … لیکن یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ یہ ایرانی سفارت خانے کی ''ہنرمندی'' کا کرشمہ ہے کہ آج سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا … کہ ہر طرف سعودی عرب کی زیرقیادت بننے والے 39 اسلامی ملکوں کے اتحاد کے مخالف ایران کے پاکستان دوستی کے چرچے عام ہیں ' حالانکہ 70 سالوں میں سعودی عرب کی سرزمین پاکستان کے خلاف ایک دن استعمال کی کوئی ایک بھی شہادت موجود نہیں … جبکہ انڈین ''را'' کے آفیسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور ایرانی سرزمین چاہ بہار کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی کہانی ابھی کل ہی کی تو بات ہے' ثبوت اس کے علاوہ بھی بہت سے ہیں مگر چونکہ یہ موضوع نہیں … اس لئے مکرر یہ لکھنا پڑے گا کہ ایرانی سفارت خانے کی یہ نمایاں کامیابی ہے کہ آج سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والے 39 اسلامی ملکوں کے اتحاد کو پاکستانی قوم میں متنازعہ بنایا جارہا ہے' حالانکہ اس اتحاد کا پاکستان بھی حصہ ہے ' دسمبر2015 ء میں بننے والے اس اسلامی اتحاد میں ابتداء میں 34 اسلامی ممالک شامل ہوئے … بعد ازاں ان کی تعداد39 ہوگئی' اس اتحاد میں ترکی' مصر' قطر' متحدہ عرب امارات' ملائیشیا سمیت دیگر کئی ممالک شامل ہیں … حیر ت کی بات ہے کہ ترکی اور ملائیشیا سمیت دیگر37 ملکوں کی حکومتوں اور وہاں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو تو یہ شک بھی نہیں گزرا کہ 39 ملکی اسلامی اتحاد کا مقصد ''ایران'' کو فتح کرنا ہے … ہاں البتہ یہ پاکستان ہی ہے کہ جہاں میڈیا پر قابض ایک مخصوص گروہ کے دانشوروں اور سیاست دانوں پر راتوں رات یہ ''الہام''(نعوذ باللہ) ہوا کہ اسلامی ممالک کے اتحاد کا مقصد ایران دشمنی ہے۔ یہ وہی مخصوص نظریات کا حامل گروہ ہے کہ جو کل تک حکومت کو طعنے دے رہا تھا کہ اس کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوچکا ہے … جب کہ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے 39 اسلامی ممالک ایک پاکستانی(ر) جنرل کو مشترکہ اسلامی فوج کا سربراہ بنانا چاہتے ہیں … اور پاکستان کو تنہائی کے طعنے دینے والا مخصوص گروہ محض ''مفروضے'' کی بنیاد پر … نہ صرف39 ملکوں کے اتحاد کو مسترد کررہا ہے … بلکہ پاکستانی قوم کے ''ہیرو'' جنرل راحیل شریف کو بھی سوکنوں والے طعنے دے رہا ہے ' چھوٹے ' چھوٹے مفادات کے لئے نظریات بیچنے والے ' ہلکے اور بھاری لفافوں کے عوض الفاظ کا مینا بازار سجانے والے کیا (ر) جنرل راحیل شریف سے زیادہ ملکی مفاد کو جانتے ہیں؟کیا کوئی یہ بات سوچ بھی سکتا ہے کہ اس پاک وطن کا بیٹا جنرل راحیل شریف محض ریالوں کے لالچ یا اپنے ذاتی مفادات کے لئے … پاکستان کے مفادات کو پس پش ڈال دے گا؟ کرائے کے لکھاریوں نے کیا راحیل شریف جیسے نامور پاکستانی جرنیل کو بھی کرائے کا سمجھ لیا ہے؟ دنیا میں کل ملا کر تقریباً57 اسلامی ملک بنتے ہیں … 57 اسلامی ملکوں میں سے 39 اسلامی ملکوں نے اگر ہمارے جرنیل پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے … تو اس عالمی اعزاز پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوجانا چاہیے۔ اگر اس اسلامی اتحاد میں اٹھارہ اسلامی ملک ابھی شامل نہیں ہوئے … تو امید رکھنی چاہیے کہ آگے چل کر وہ بھی شامل ہو جائیں گے … لیکن یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ اگر چند ملک شامل نہیں ہوئے … تو اس کی وجہ سے 39 ملکی اتحاد کو ہی ختم کر دی جائے؟ فرقہ پرور وہ ہیں جو مسلمانوں کے اس عالمی اتحاد پر سنگ باری کررہے ہیں' فرقہ وارانہ ذہنیت ان کی ہے کہ جو مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے مخالف ہیں … یقینا سعودی عرب اور ایران میں کافی دوریاں موجود ہیں … مگر اگر راحیل شریف جیسے کہنہ مشق جرنیل نے مسلمہ فوج کی قیادت سنبھال لی … تو ہمیں امید ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران کو نزدیک کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے … اللہ نہ کرے کہ کبھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان ٹکرائو ہو۔ شاید فرقہ وارانہ ذہن رکھنے والایہ سیاپا گروپ نہیں جانتا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان برف پگھلنا شروع ہوچکی ہے … اور خبر یہ ہے کہ سعودی عرب نے پہل کرتے ہوئے ایرانی حکومت کو ایک دعوت نامہ ارسال کیاہے' خبر کے مطابق … نئے سال کے آغاز پر سعودی حکام نے باضابطہ طور پر ایران کو حج کی دعوت دی تھی… جس کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کر دی ہے' سعودی عرب کے وزیر حج2017 ء کیلئے حج کے انتظامات کے حوالے سے ایران سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد کی سربراہی اگر پاکستان کے (ر) جرنیل کے حصے میں آرہی ہے … تو اس کی مخالفت امریکی صیہونی ایجنڈے کا حصہ ہی ہوسکتی ہے ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
86%
ٹھیک ہے
14%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved