مشرف کے اسرائیل سے خفیہ روابط
  12  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
اب اس راز پر سے پردے اٹھتے جا رہے ہیں کہ پاکستان میں 2007 میں عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے دوران جب فوجی آمر ، پرویز مشرف کے اقتدار کی کشتی ڈگمگا رہی تھی تو اسرائیل کو اس قدر تشویش کیوں تھی اور اسرائیلی رہنما ، امریکا پر کیوں دبائو ڈال رہے تھے کہ مشرف کو بچانے کے لئے فی الفور کاروائی کی جائے۔ اسرائیلیوں کی تشویش کا انکشاف ،تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کے خفیہ پیغامات سے ہوتا ہے جو وکی لیکس میں افشا ہوئے ہیں۔ 17اگست 2007کو امریکا کے نائب وزیر خارجہ برنس کی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ مئیر داگان سے ملاقات کے بارے میں تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کے خفیہ تار میں کہا گیا تھا کہ داگان نے مشرق وسطیٰ میں پاکستان اور ترکی کے رول کے بارے میں تجزیہ پیش کیا تھا ۔ اس دوران داگان نے پرویز مشرف کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ مشرف کو سیاسی بحران اورشدت پسندوں کے سنگین مسئلہ کا سامنا ہے اور خطرہ ہے کہ مشرف کے بعد کہیں پاکستان کی جوہری تنصیبات شدت پسندوں کے قبضہ میں نہ چلی جائیں۔ داگان کا کہنا تھا کہ مشرف کے لئے صدر اور کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالنا مشکل ہوگا اور اگر مشرف فوج کے سربراہ کا عہدہ نہ سنبھال سکے تو انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل کے ساتھ پرویز مشرف کی پریت اور گہرے تعلقات خاطر کا سلسلہ دراصل 24 جون ، 2003کو کیمپ ڈیوڈ میں بش سے مشرف کی ملاقات کے بعد شروع ہوا تھا۔ کیمپ ڈیوڈ میں نہ جانے کیسا جادو ہے کہ جو بھی وہاں امریکی صدر سے ملاقات کرتا ہے ،اس کا ایسا گرویدہ ہو جاتا ہے کہ جو امریکی صدر کہتا ہے اس پر سر جھکا دیتا ہے۔جمی کارٹر نے یہیں ستمبر 1978میںمصر کے صدر سادات کی اسرائیل کے وزیر اعظم مناخن بیگن سے ملاقات کرائی تھی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان صلح کا سمجھوتہ طے پایا تھا۔ 2003میں کیمپ ڈیوڈ میں بش سے ملاقات کے بعد جس میں پاکستان کو ٢ ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا تھااور امریکا کو پاکستان پر ڈرون حملوں کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی، پرویز مشرف نے ، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے میڈیا پر زور دیا تھا کہ اس مسئلہ پر بحث کی جائے بلکہ وزارت خارجہ کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد اور مثبت پہلوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہی نہیں پرویز مشرف نے دو سال تک اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کے بعد 2005 میں اپنے وزیر خارجہ خورشید قصوری کو استنبول میں اسرائیل کے وزیر خارجہ سلون شولوم سے ملاقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے وزراخارجہ کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی لیکن لوگ یہ بھول گئے کہ 1953میں پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے اسرائیل کے وزیر خارجہ ابا ایبان سے نیویارک میں ملاقات کی تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی استواری کے امکانات کا جایزہ لیا تھا۔ قصوری۔شولوم ملاقات کے بعد بڑی تیزی سے پرویز مشرف اور اسرائیلیوں کے درمیان روابط کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔استنبول کی ملاقات کے دو ہفتے بعدہی ، نیویارک میں پرویز مشرف نے امریکی یہودیوںکی کانگریسAJCکے عشائیہ میں شرکت کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مسلم ملک کے سربراہ نے امریکی یہودیوں کی کانگریس کو خطاب کیا۔ پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں ۔ مشرف نے کانگریس کو یقین دلایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کی پیش رفت کے ساتھ، پاکستان ، اسرائیل سے رشتے استوار کرنے کے اقدامات کرے گا۔ عشایہ میں شرکت کرنے والوں نے کھڑے ہو کر مشرف کے خطاب پراپنی طمانیت کا اظہار کیا۔ اس عشایہ کے بعد AJC کے صدر جیک روزن کو مشرف نے اسلام آباد آنے کی دعوت دی تھی اور ان سے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار کرنے کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیاتھا۔ اس عشایہ کے تین روز بعد، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک استقبالیہ میں پرویز مشرف نے خود بڑھ کر اسرائیل کے وزیر اعظم ایریل شیرون سے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور اپنی بیگم کا شیرون سے تعارف کرایا۔صد حیف کہ اسی روز مغربی بیروت میں فلسطینیوں کے کیمپ صبرا شطیلاکے ہولناک قتل عام کی 23ویں برسی تھی۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس بہیمانہ قتل عام کا حکم ایریل شرون نے دیا تھا ۔ اس وقت وہ وزیر دفاع تھے ۔ شیرون کے یہی ہاتھ جن سے ، مشرف نے اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھ کر اپنے ہاتھ ملائے تھے ، سات ہزار چھ سو فلسطینیوں کے خون سے لت پت تھے، جن میں نہتے مرد بے گناہ عورتیں ، معصوم ننھے بچے اور عمر رسیدہ افراد ، سب ہی شامل تھے۔پاکستان کے صدر کے لئے اس والہانہ انداز سے فلسطینیوں کے قتل عام کے اس مجرم سے ہاتھ ملانا پوری پاکستانی قوم کے لئے باعث شرم تھا۔ 2012میں لندن میں اپنی خود ساختہ جلاوطنی کے دوران ، اسرائیلی روزنامہ حارث کی خاتون صحافی دانا ہرمن کے انٹرویو میں ، پرویز مشرف نے ایریل شیرون کو عظیم فوجی لیڈر قرار دیا تھااور کہا تھا کہ وہ ان دنوں ناول پڑھنے کے بجائے اسرائیل کی فوجی فتوحات کی تاریخ پڑھتے ہیں جن کا سہرا ایریل شیرون کے سر ہے۔ 2007 میں جب عدلیہ کی آزادی کی تحریک نے مشرف کو گھیرا تھاتو اس زمانے میں اسرائیل کے صدر شمون پریز نے اپنے ''دوست''پرویز مشرف کو بچانے کی کوشش کی تھی اور پیپلز پارٹی کی حکومت پر مختلف سفارتی راستوں سے دباو ڈالا تھا کہ مشرف کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ شمون پریز اور مشرف کی 2005میں داوس ،سویزر لینڈ میں ملاقات ہوئی تھی جب سے دونوں گہرے دوست بن گئے تھے ۔سیاسی گھاگ شمون پریز نے بھانپ لیا تھا کہ پاکستان کے اس ڈکٹیٹر کو امریکا کی مدد سے بہ آسانی رام کیا جا سکتا ہے اور اسرائیل کے مفاد کے لئے کام لیا جاسکتا ہے۔ 2007میں پرویز مشرف کے صدر منتخب ہونے پر شمون پریز نے مبارک باد کا نہایت جذباتی پیغام بھیجا تھا۔ اس وقت جب پرویز مشرف مواخذہ کے مطالبہ کے طوفان میں گھرے ہوئے تھے، شمون پریز نے پرویز مشرف کے بہ حفاظت پاکستان سے باہر لے جانے اور انہیں بیرون ملک سیکورٹی فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔ پرویز مشرف کی معزولی کے بعد جلاوطنی کے زمانہ میں شمون پریز بڑی باقاعدگی سے ان سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے۔ 2008میں جب مشرف کی معزولی ہوئی تو کینیڈا کے کینیڈین جویش نیوز نے لکھا تھا۔''یہودیوں کے عظیم دوست اور مغرب کے اتحادی کا دور ختم ہوا'' عربوں اوراسرائیل کے درمیان مصالحت کے لئے، اسرائیلی ، پرویز مشرف کی کوششوں کو بڑی وقعت اور تحسین کی نظر سے دیکھتے تھے اور انہیں اس پر ناز تھا کہ واحد جوہری مسلم ملک کا سربراہ ان کا حامی ہے ۔پرویز مشرف ، عرب اسرائیل تنازعہ حل کرنے کے لئے ، پاکستان، ترکی ، ملایشیا اور انڈونیشیا پر مشتمل مصالحتی گروپ بنانا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لئے اسرائیل جانے کے لئے بے تاب تھے ،لیکن انہیں اپنی اس خواہش اور کاوش کو عملی جامہ پہنانے کا موقعہ نہ مل سکا۔ ان ہی اقدامات اور عوامل کی بنیاد پر اسرائیل ، مشرف کو اپنا بے حدقریبی اور انتہائی معتبر دوست گردانتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ 2007میں جب مشرف کے اقتدار کی کشتی ڈگمگا رہی تھی تو اسرائیل کو مشرف کے بارے میں سخت تشویش تھی اور اسرائیلی رہنمائوں کی طرف سے انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
17%
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved