کم سن بچی طیبہ کی سپریم کورٹ میں پیشی!
  12  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اسلام آباد کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے گھر میں ظالمانہ تشدد کی شکار بچی طیبہ کوسپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا۔فاضل چیف جسٹس نے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد بچی کو بچوں کے فلاحی ادارہ ''سویٹ ہومز'' میں بھیجنے اور اس کی پوری سکیورٹی کا حکم دے دیا۔ مزید سماعت18 جنوری کو ہوگی۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کررہاہے۔ فاضل عدالت میں لرزہ خیز میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی کہ طبی معائنہ سے بچی کے جسم پر تشدد کے22نشانات پائے گئے ہیں۔ جسم کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔قارئین کرام ! یہ بات لکھتے وقت قلم لرز رہاہے۔ میرے خدا! اسلامی جمہوریہ کے نام والے میرے ملک میں یہ ظلم! یہ ستم! ایسے ظالم والدین کہ چند پیسوں کی ہوس میں معصوم بچی کووحشی درندوں کے حوالے کردیا اور چھ ماہ تک اس کی خبر بھی نہ لی کہ وہ کہاں ہے؟کس حال میں ہے!؟ ایسے والدین کو غریب لوگوں کے کم سن بچوں کو ملازمتو ں کی آڑ میں اغوا کرکے بھاری معاوضے پر امیر گھرانوں میں ملازم رکھوانے والے مافیا کی رکن اس عورت نادرا کو اور بچی پر قیامت توڑنے والے افراداور اس بچی کو پانچ روز تک قانون اور عدالت سے چھپانے والے نام نہاد وکیل، سب کو سیدھے جیل میں ہوناچاہئے۔ بچی کانام نہاد باپ بتارہاہے کہ وکیل نے ایک کاغذ پر انگوٹھے لگوائے تھے یہ نہیں بتایا کہ اس پر کیا لکھاہے، صرف یہ کہا کہ اب تمہیں بچی مل جائے گی۔ اور اس بدبخت وکیل نے عدالت میں یہ کاغذ عدالت میں پیش کردیا کہ بچی کے والد اور اس پر ظلم کرنے والے افراد میں راضی نامہ ہوگیاہے اور بچی کے والد نے ایڈیشنل سیشن جج اور اس کی اہلیہ کو معاف کردیاہے۔ ان خبروں پر سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے ازخودنوٹس لے لیا۔ گزشتہ روز عدالت کے استغار پر بعض اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔بچی کے دعویدار والدین، اعظم اور نزہت، کے بیانات نے ابہام پیدا کردیا۔ پہلے کہا تھا کہ بچی کو جڑانوالہ سے فیصل آباد لے جایاگیا اب کہاکہ اسلام آباد لے جایا گیاتھا۔ اسے ان لوگوں کی پڑوسن نادرا ملازمت دلانے کے لیے لے گئی تھی۔ قیامت!! ظالم والدین نے چند پیسوں کے عوض 10سالہ بچی کو سینکڑوں کلومیٹر دور نامعلوم اندھیروں میں بھیج دیا۔ یہ لوگ ماں باپ ہونے کی بجائے بچی کی زندگی اور عزت وآبرو کے سوداگر بن گئے۔ ویسے بھی قانون کی رو سے14سال سے کم عمر کے بچوں سے ملازمت نہیں کرائی جاسکتی، ایسا کرناجرم ہے۔اس لحاظ سے بچی کے والدین ، اسے اسلام آباد پہنچانے والی عورت نادرا، ایڈیشنل سیشن جج خرم اور اس کی اہلیہ سب کے سب قانون کے مجرم ہیں جب کہ اس جج کی اہلیہ پر تو ایک معصوم بچی پر ظالمانہ تشدد کا جرم بھی عائد ہو تا ہے۔ میرا ذہن کھول رہاہے۔ آئے دن کسی نہ کسی معصوم بچے پر ظلم وستم کی داستان سامنے آجاتی ہے؟ کہاں ہے ملک کا آئین، قانون، عدالتیں!یہ ظالمانہ سلسلہ کیوں نہیںرکتا! کہاںہیں قانون کی عمل داری کی دعویدار وزارت داخلہ، لاکھوں روپے کی تنخواہیں لینے والے آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس پی قسم کے سینکڑوں بڑے بڑے پولیس افسر! ٭راولپنڈی کی لال حویلی کے فرزند شیخ رشید نے اعلان کیا ہے کہ اب دھرنا میری پارٹی ''عوامی مسلم لیگ '' دے گی اس کا اعلان اور انتظام میں خود کرونگا۔ فرزند جلیل نے یہ واضح نہیں کیا کہ چھ سات رکنی یہ پارٹی کہاں دھرنا دے گی؟کسی تھانہ کے باہر تودری بچھائی جاسکتی ہے، اسلام آباد کے بے شمار داخلی راستے اور سڑکیں ہیں، وہاں کیا انتظام ہوسکے گا، چلو اعلان کرنے میں کیا ہرج ہے؟ ٭عزیزی بلاول نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی قیامت تک عوام کے دلوں پر راج کرتی رہے گی! ہمارے بہت سے شاعروں نے قیامت کا باربار ذکر کیاہے۔ علامہ اقبال کے پورے کلام میں قیامت 9مرتبہ آیا ہے۔ بال جبریل میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ''حضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکائت کی کہ یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کرنہ دے برپا!'' ایک پرانے گیت میں شاعرنے کہا کہ ''میں انتظار کرونگا تیرا قیامت تک ،خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے!'' ۔مرزا غالب نے کہا کہ ''جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے، کیا خوب! گویا قیامت کا کوئی دن اور!'' پتہ نہیں برخوردار بلاول نے کون سی قیامت کا ذکر کیا ہے! چلو مذہبی شعائر کاکچھ تو پتہ چلا! ٭بیچ میں ایک خبر: لاہور میں ایک عدالت نے دو نوجوان کو خطرناک انداز میں موٹرسائیکل چلانے پر ایک ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان دونوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور موٹرسائیکلوں کے کاغذات بھی نہیں تھے۔ یہ دونوں نوجوان کسی کالج کے طالب علم ہیں۔ امکان ہے کہ بالآخر رہاہوجائیں گے مگر یہ سزا ضروری تو تھی مگر اصل میں یہ ان نوجوان کے والدین کو ملنی چاہئے تھی۔ انہوں نے ان بگڑے ہوئے لڑکوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت کیوں دی لاہور، بلکہ دوسرے شہروں میں بھی ایک پہئے پر موٹرسائیکل چلانا عام فیشن بن چکا ہے۔ بہت سے نوجوان اس مہلک کھیل تماشے کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر موت کا یہ وحشت ناک کھیل اسی طرح جاری ہے۔ ستم یہ ہے کہ اس جرم کی روک تھام کے لیے کوئی مخصوص قانون ہی موجود نہیں! ٭ایک عرصے سے راوی نامہ صرف سیاسی ہو کر رہ گیا ہے۔ ادبی باتوں کے لئے جگہ ہی نہیں بچتی۔ تبصرے کے لیے ادبی کتابوں کاڈھیر پڑا ہے۔ کوشش ہے کہ کبھی کبھار کسی کتاب کا ذکر ہوجایا کرے۔معروف اداکار اور گلوکار خان عدیل خان برکی کو علم وادب سے لگاؤ اور شاعرانہ مزاج خاندانی ورثہ کے طورپر ملا ہے۔ والدصاحب ایوب خان برکی41 کتابوں کے مصنف تھے۔ والدہ ممتاز ایوب صاحبہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، نانا احمد شیر خاں سنٹرل ماڈل سکول کے پرنسپل تھے، تین بہنیں ایک بھائی، سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ۔ عدیل کی سکول کے زمانے سے ہی شاعری اور موسیقی کے میدان میں پذیرائی شروع ہوگئی تھی۔ عدیل برکی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اُردو ادبیات میں ایم اے کیا اور اب پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔اعلیٰ درجے کی گلوکاری پرپرائڈآف پرفارمنس کا صدارتی ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ انہیں ایک بڑے نام والے ادیب و شاعر نے صحیح طورپر بانکا سجیلا ،خوبرو اور خوش گلوشاعر کاخطاب دیا ہے۔ شاعری میں سادگی اور تازہ گوئی اور گلوکاری میں خوبصورت سریلاپن! عدیل برکی شعر ی مجموعہ ''گستاخ نگاہی کا گلِہ'' سے کچھ اشعار دیکھئے:۔ جودیکھا آئینہ تو یاد آیا ملے خود سے زمانہ ہوگیا تھا ………… وہ آنکھوں کا سہارا چاہتا ہے سمندر میں کنارا چاہتا ہے ………… دو گام بھی وہ چل کے نہ آیا تھا پوچھنے ہم جس کے ساتھ ساتھ چلے کتنی دور تک ………… اس دسمبر کی ٹھٹھرتی رات میں چاندنی کی ذات پر ہم ہنس پڑے عدیل کا دوسرا شعری مجموعہ بھی آرہاہے۔ ''گستاخ نگاہی کا گلہ''نستعلیق مطبوعات غزنی سٹریٹ اُردو بازارلاہور نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved