"Maid In Pakistan"
  16  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اُس کا نام تو محمد اشرف ہے مگر گزشتہ دس برسوں سے میں اُسے اشرف المخلوقات کہہ کر ہی بُلاتا ہوں۔ وہ خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ بن کر اشرف المخلوقات کہلانے کا پورا پو حقدار ہے۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے ناراض بھی ہو جاتا ہے۔ جب وہ ناراض ہوتا ہے تو مجھے اُس وقت پتہ چلتا ہے کہ وہ مجھے کتنا عزیز ہے؟ کیوں کہ میری روح اُسے منانے کے لئے بے تاب ہو جاتی ہے۔ آج کل وہ پاکستان میں کم ہی رہتا ہے، دو تین ماہ بعد پاکستان آتا ہے۔ پھر کبھی ملائیشیا اور کبھی دوبئی، کبھی ہالینڈ، بس ملکوں ملکوں گھومتا رہتا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے اُس کی لوکیشن کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وہ مجھے اتنا ہی پیارا ہے جتنا کہ ایک باپ کو اپنا بیٹا پیارا ہوتا ہے۔ وہ پرسوں سے مجھ سے ناراض ہے۔۔۔ کل وہ ملائیشیا کے لئے اُڑان بھرے گا۔ اُس کی ناراضی کا سبب ایک بے سبب بات ہے۔ جسے وہ سمجھ جائے تو ناراض ہونے کے بجائے خوشی سے پھولا نہ سمائے۔ یہ واقعہ پرسوں میرے انتہائی قابل قدر دوست اور روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹر کوآرڈی نیشن صداقت عباسی کی موجودگی میں رونما ہوا۔ اشرف المخلوقات نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ پاکستان کی تعریف اگر ایک لفظ میں کرنی ہو تو کیسے کی جا سکتی ہے؟ میں نے اُسے بتایا کہ پاکستان کا دوسرا نام طیبہ ہے۔۔۔ اُس نے میرا جملہ اُچک لیا تھا۔۔۔اور حیرانی کے سمندر میں ڈوب کر وہ متجسس تھا اور مجھ سے بار بار پوچھ رہا تھا کہ کون سی طیبہ؟ وہ طیبہ کو ایک لڑکی، ایک بچی، ایک عورت، ایک خاتون سمجھ رہا تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ تُم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔ میں نے تمہارے سامنے کسی بچی، کسی لڑکی، کسی خاتون، کسی عورت کا نام نہیں رکھا۔ اُس نے پھر میری بات کاٹ ڈالی اور طنزیہ لہجے میں پوچھا تو کیا طیبہ کسی ریاست کا نام ہے؟ میں نے اُسے کہا کہ نہیں اگرچہ یہ ریاست کا نام نہیں ہے۔ مگر یہ اُس ریاست کا ایک نازک نفس کردار ضرور ہو سکتی ہے۔۔۔یہ طیبہ ایک جاگیر کا نام ہے۔ اُس نے پھر میری بات کاٹی۔۔۔کون سی جاگیر؟ کیسی جاگیر؟ یہ وہ موقع تھا جب میں نے انتہائی سخت لہجے میں اُسے ڈانٹ دیا۔ کہ سوال کیا ہے تو پھر جواب سننے کی ہمت اور حوصلہ بھی پیدا کرو۔۔۔بار بار بات کاٹنے سے تم کچی فصل کو کاٹ رہے ہو جس کے سبب تم بے نتیجہ اور بے سبب، غیر مکمل اور مبہم نتائج کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ بس یہی بات اُس کی ناراضی کا سبب بن گئی، اُس نے زبان دانتوں کے نیچے دبا لی اور پھر میں نے اُسے بتایا کہ طیبہ ایک جاگیر ہے جس کے کئی روپ ہیں اور کئی روپ نگر ہیں۔ کبھی یہ جاگیر دار کی باندی گردانی جاتی ہے تو کبھی زمیندار کی زمین، کبھی یہ طاقتور کی طاقت کہلاتی ہے تو کبھی سرمایہ دار کی دولت، کبھی تاجر کی تجارت بن جاتی ہے تو کبھی یہ سیاستدان کی مصلحت قرار پاتی ہے۔ کبھی اِسے افسروں کے جوتوں کی پالش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی اِسے شاہ کے تاج کا گرا ہوا ایک موتی سمجھ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے۔ کبھی یہ گداگر کے کشکول کا کھوٹا سکہ گردانی جاتی ہے تو کبھی صاحب کی میم کے صوفوں کو صاف کرنے والا ایک گندا تولیہ، کبھی اِسے باورچی خانے کے برتن مانجھنے پڑتے ہیں تو کبھی نیلے پیلے فرشوں پر جمے ہوئے امارت کے داغ دھونے کے لئے مفلسی کے لباس کو اتارنا پڑ جاتا ہے۔ یہ سردیوں میں گرم کپڑوں اور گرم کمروں سے محروم، گرمیوں میں ٹھنڈے پانی سے اور ٹھنڈی ہوا سے بے خبر ہو کر اپنے کام میں مگن رہتی ہے۔ اِس کی شکل، صورت، رہن،سہن، تہذیب، تمدن، معاشرت اور معیشت کی حالت بالکل پاکستان جیسی ہے۔ یہ پاکستان کا علامتی نشان ہے۔ اِسے گھریلو خادمہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور نوکرانی کے لقب سے بھی ملقب کیا جاتا ہے، یہ کم عمر ہو تو ایک غریب باپ کی بیٹی کہلاتی ہے۔ اُس غریب کی بیٹی جس کی کُل جاگیر اِسی بیٹی کی آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کی لڑی ہوتی ہے۔ یہ اپنے بابا کی جاگیر، یہ غریب بھائیوں کی ہمشیر، یہ غریب ماں کی دِل گیر، یہ افلاس کی تقصیر، جب تشہیر کے جُھولے پر بیٹھتی ہے تو طیبہ بن کر زبانِ زد عام ہو جاتی ہے۔ اِس کی کہانی کے کرداروں کو ظالم قرار دیا جاتا ہے اور اِس کے متن کو دل دوزی کی بصارتوں کے ہینگروں پر لٹکایا جاتا ہے۔ ہر گام اِس کے فسانے کو پڑھا جاتا ہے۔ راجا خرم علی خان ایڈیشنل سیشن جج۔۔۔ ایک منصف کے گھر کی خادمہ۔۔۔ایک نوکرانی ۔۔۔ایک ملازمہ۔۔۔ ایک غریب باپ کی بیٹی۔۔۔ایک مجبور اور بیمار ماں کے جگر کا ٹکڑا۔۔۔بچپن کی رعنائیوں سے بے خبر ایک ننھی منی بچی ۔۔۔ ماہین ظفر نامی خاتون۔۔۔ راجا خرم علی خان ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ظلم، سفاکی، بربریت اور جبر کا نشانہ بنتی ہے۔ اُس کی خواہشوں کی چوڑیاں توڑی جاتی ہیں۔ اُس کے نرم و نازک چہرے کو زخمی کیا جاتا ہے۔ اُس کے پُھول بدن کو روندا جاتا ہے۔ اُس کی محنت کے عوض اس کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ اُس کی سسکیاں ایک منصف کے گھر کی چار دیواری کے اندر دفن کر دی جاتی ہیں۔ یہ طیبہ کبھی اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتی نظر آتی ہے تو کبھی قالین بافی کے کارخانوں میں، کبھی کوئلے کی کانوں میں، کبھی کپاس کی چنائی کرنے کے لئے کھیتوں میں آبلہ پا ہو کر پھرتی ہے۔ تو کبھی چوڑیوں کے کارخانوں میں حسرتوں کی چوڑیاں اپنی ہی کلائیوں میں پہننے سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ کبھی یہ چمڑے ، آلات جراحی کی فیکٹریوں، شوگر ملوں، گندم کی بوائی، کٹائی، گوداموں، اور پاناموں میں نازک ہتھیلیوں سے قسمت کی لکیروں کو مٹتا ہوا دیکھتی ہے۔ غریب باپ کی جاگیر کو بڑے لوگوں کی ظالم ترین بیگمات زبان کولوچ دے کر میڈ (Maid) کے لفظ سے پکارتی ہیں۔ انگریزی زبان کے اِس لفظ کا اُردو ترجمہ گھریلو ملازمہ ہی بنتا ہے مگر حقیقت میں یہ میڈ (Maid) پاکستان کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ میرے پیارے وطن پاکستان کا حال بھی اِس طیبہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، بالکل یہ طیبہ پاکستان کی عملی تصویر اور پاکستان طیبہ کی تصویر کشی کر رہا ہے۔ 70 برسوں میں نہ جانے کتنی مرتبہ اِس پاکستان کی آواز اقتدار کے جاگیر داروں نے اُونچی دیواروں سے باہر نہیں آنے دی۔ منصفوں نے کب کب اپنی اپنی زوجاؤں کے ذریعے اِس کے گال زخمی کئے ہیں۔ اِس کو اپنی جاگیر ، باپ کا مال سمجھ کر اِس وطن کی عزت کو نیلام کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں چھوڑا یہ پاکستان طیبہ بن کر کبھی منصفوں کے گھروں میں بے بسی کی سینری کا نظارہ پیش کرتا رہا ہے تو کبھی سرمایہ داروں کے قدموں میں بے دریغ دولت کی طرح پاؤں پکڑتا ہوا دکھائی دیتا رہا ہے اور کبھی جاگیرداروں نے اِسے اپنے کھیتوں میں ہانکنے والے بیل سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ کبھی اِس پاکستان کو غریب کی بیٹی سمجھ کر لوٹا گیا ہے تو کبھی مفلس کی قبا سمجھ کر تار تار کیا گیا ہے۔ ظلم و ستم کی یہ داستان 70 برس پرانی ہے۔ آج 21 ویں صدی کے 17 ویں برس میں عدلیہ کا ستارہ عروج پر دِکھائی دے رہا ہے۔ جس طرح عدلیہ نے ایک منصف کی زوجہ کے ہاتھوں ظلم کا شکار بننے والی طیبہ کو انصاف دلانے کے لئے اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اے کاش کہ آج عدلیہ اِس پاکستان کو بھی انصاف دِلا کر تاریخ میں اپنا لاثانی کردار رقم کر دے۔ تا کہ مجھ سے اشرف المخلوقات کی ناراضی ختم ہو سکے اور اُسے پتہ چل سکے کہ طیبہ اور پاکستان میں اب کے بار ایک نمایاں فرق آ چکا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اب اسے ضرور سمجھ آ گئی ہو گی کہ پاکستان اور طیبہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کی عملی تصویر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِن دونوں کو ظالموں سے نجات بخشے (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved