عالمی صف بندی اور ہم
  19  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
عالمی سطح پہ نئی صف بندی کے آثار بے حد واضح ہوتے جارہے ہیں۔امریکہ بہادر نے واحدسپر پاور ہونے کے زعم میں جسطرح عالمی امن کا بیڑہ غرق کیا اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے بحران اِ س تلخ حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔اگر طاقت کا توازن آپ کے حق میں ہے تو پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوئی بھی حربہ اختیار کرنا جائز ہے۔یہ اُصول آج کے بین الاقوامی منظرنامے کی تلخ ترین حقیقت ہے۔وسیع پیمانے پہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بنیاد بناکے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ۔ادویات پہ پابندی کے باعث لاکھوں عراقی بچےّ موت کے منہ میں چلے گئے لیکن نہ تو عالمی ضمیر جاگا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کسی کو یاد آئے۔برسوں بعد اقوام متحدہ کے سابق سکیرٹیری جنرل کوفی عنان کے لبوں پہ سچ آہی گیا اورموصوف نے اقرار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پہ داعش کا قیام امریکہ بہادر کی غلط حکمت ِ عملی کا نتیجہ ہے۔''ہائے اُس زور پیشماں کا پیشماں ہونا ''۔اسی حوالے سے برطانیہ میں سابقہ حکومت کے خلاف ہونے والی تاریخی تحقیقات میں کئی چشم کشاحقائق سامنے آئے ۔ وہ دن دور نہیں کہ جب شام ، فلسطین ، لیبیا اور افغانستان کی سرزمین پہ لاکھوں مظلوموں کے بہائے گئے خون سے متعلق حقائق بھی دنیا کے سامنے آئیں گے۔ روس کی پسپائی کے بعد دنیا کی واحد سپرّ پاور ہونے کے ناطے امریکہ نے عالمی امن کو شدید نقصان پہنچایا ۔روس اور امریکہ کی کشمکش نے پاکستان کو بھی عدم استحکام کا شکار کئے رکھا۔ ماضی میں افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف پاکستان نے امریکہ بہادر کا ہاتھ تھاما۔اس فیصلے کے حسن وقبح پہ بہت کچھ کہا جاسکتا ہے تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قومی مفادات کے حوالے سے ہر عہدمیں ہماری حکومتوں نے غیر ذمّہ داری کا مظاہرہ کیا ۔ماضی کے غلط فیصلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج وطنِ عزیز میں دہشت گردی کے خلاف انتہائی پیچیدہ جنگ جاری ہے۔افغانستان ایک حریف کی صورت بھارت کی گود میں جا بیٹھاہے۔افغان مجاہدین کا سابقہ ٹھیکدار امریکہ کسی صورت اپنے پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیتااور تمام ذمّہ داری پاکستان پہ عائد کر رہا ہے۔ بھارت کی پاکستان دُشمنی میں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہونا لازم ہے۔جب مودی جیسا انتہا پسند وزارت ِ عظمیٰ کی گدی پہ براجمان ہو تو بدامنی ، خون ریزی اورعدم استحکام میں اضافہ ہی تو ہوگا۔ یقیناََعلاقائی منظر نامہ ہمارے لئے سازگار نہیں ۔اِک لے دے کے چین رہ جاتا ہے جہاں سے ہمیں خیر کی خبر آتی ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ ایک روشنی کی کرن بن کے نمودار ہواہے۔خُدا خُدا کرکے اِس منصوبے پہ مثبت پیش رفت جاری ہے۔دہشت گردی کے خلاف ملنے والی کامیابیا ں بھی قوم کو بہتر مستقبل کی نوید دے رہی ہیں۔پاکستان دُشمن قوتوں کے بے پناہ پروپیگنڈے کے باوجود عالمی سطح پہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم وحوصلے اور کارکردگی کو سراہاجارہاہے۔ مثبت اور منفی واقعات کے جلومیں امکانات اور خدشات کا بحر بیکراں ہمارے فیصلہ سازوں کی اجتماعی دانش کا امتحان لینے کو موجیں ما ر رہاہے۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کوئی اتحادی آج کے فیصلوں کی بنیاد پہ مستقبل میں ہمارے مفادات کی ضمانت نہیں دے گا۔ محفوظ مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ آج فیصلے کرتے ہوئے تمام اہم پہلوئوں کو مدِ نظر رکھا جائے ۔ ماضی میں افغانستان کے حوالے سے جو کچھ ہم نے کیا اور نتیجتاََ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوااُس میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔عالمی سطح پہ نئی صف بندیاں ہورہی ہیں۔چین اور روس کے درمیان اشتراک عمل بڑھ رہاہے۔ سہ فریقی اتحاد کو نئی عالمی سپرّ پاور سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ روس اور چین کے ساتھ تیسرافریق پاکستان ہے۔متضاد نوعیت کے امکانات اور خدشات کی فہرست میںیہ ایک حیر ت انگیز خبر ہے۔اس خبر کا مثبت پہلو یہ ہے کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت اور کردار کو تسلیم کیا جارہاہے۔تاہم اس اہم معاملے سے کئی خدشات بھی وابستہ ہیں۔ اول، پاکستان کے چین اور روس سے بڑھتے ہوئے اشتراکِ عمل کو امریکہ غیر اعلانیہ جنگ تصوّر کرے گا۔دوئم، افغانستان میں طالبان کے ساتھ روس کے روابط کے صورت میں ایک مرتبہ پھر صورتحال ماضی کی طر ف نہ لوٹ جائے ۔سوئم ، خطے میں معاملات کو پُرامن طریقے سے آگے بڑھانے کیلئے جس سفارتی چابک دستی اور ،مہارت کی ہمیں ضرورت ہے وہ تاحال نظر نہیں آرہی ۔چہارم، بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی اور کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے حوالے سے حکومت وقت زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ پنجم، داخلی محاذ پہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تمام تر بوجھ فی الحال فو ج کے کندھوں پہ ہی دھرا ہے۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد میں کوئی خاص پیش رفت نہیں دکھاسکی ۔ قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی کے خاتمے کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود کو ئی قابل اطمینان صورت حال سامنے نہیں آرہی ۔ خارجی محاذ پہ انتہائی حساس معاملات کو طے کرنے کیلے اجتماعی دانش اور باہمی مشاورت کے ذریعے فیصلہ سازی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔اندرونی استحکام کے بغیر کوئی خارجی عنصر ہمیں ترقی کے راستے پہ گامزن نہیں کرسکتا ۔ بدقسمتی سے داخلی اور خارجی محاذوں پہ حکومت وقت کی کارکردگی قطعاََ اطمینان بخش نہیں ہے۔مثبت امکانات کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور منفی خدشات کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لئے ریاست کے تمام اداروں کے درمیان بہترین اشتراک عمل پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved