پانامہ لیکس' شکست کس کا مقدر بنے گی؟
  22  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسلام آباد کا موسم یخ ٹھنڈا ہے۔ پانی کو منجمد کر دینے والا درجہ حرارت چل رہا ہے۔ دارالحکومت کے قرب و جوارمیں واقع پہاڑوںپر برف ہی برف ہے۔ پہاڑ سفید ہوچکے ہیں۔ گھروں میں بھی ماحول ٹھنڈا ہے کیونکہ وفاقی دارلحکومت میں گیس نہ ہونے کے باعث لوگ حکومت کی اس بے اعتنائی پر صبرو شکر سے گزارا کررہے ہیں۔ ہر طرف ٹھنڈ ہی ٹھنڈ ہے۔ مگر سیاسی ماحول درجہ اُبال پر ہے۔ خاص طور پر شاہراہ دستور پر واقع سپریم کورٹ کی عمارت میں ہونے والی کارروائی کے باعث جہاں حکومتی ایوانوں میں بے چینی کے باعث ماحول گرم ہے وہاں پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی معاملے کو بہرصورت گرم رکھنے کی ٹھان رکھی ہے۔ جب سے سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس سے متعلق کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر سننے کا فیصلہ کیا ہے تب سے ریڈ زون میں واقع شاہراہ دستور پر سوموار تا جمعہ میلہ لگا رہتاہے۔ دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک روزانہ سماعت ہوتی ہے جبکہ جمعہ کے روز آدھا گھنٹہ قبل سماعت اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد دو روز کا وقفہ اور پھر سوموار سے دونوں پارٹیاں تازہ دم ہوکر میدان میں اترتی ہیں۔ وہاں عجیب منظر ہوتاہے۔ سپریم کورٹ کے احاطے سے باہر شاہراہ پر روزانہ صبح سویرے کیمرے فکس ہو جاتے ہیں۔ حکومتی وزراء اور پی ٹی آئی کی قیادت کی آمد کے مناظر براہ راست دکھائے جاتے ہیں۔ عوام بھی چسکے لے لے کر یہ مناظر دیکھتے ہیں گویا انہیں تفریح کا سامان میسر آگیا ہے میں بذات خود کارروائی سننے کبھی کبھی سپریم کورٹ کا رخ کرتا ہوں اور کارروائی کے دوران اور بعد ازاں وزراء کے چہروں پر نمایاں ہونے والے تاثرات کو دیکھتا رہتا ہوں۔ کیمروں کے سامنے بات کرتے ہوئے حکومتی وزراء بعض اوقات تصنع سے کام لیتے ہیں۔ ہنسنا نہیں چاہتے مگر مجبوراً مسکرانا پڑ جاتا ہے۔ ابھی وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل جاری ہیں شاید آج مکمل ہوگئے ہیں۔ ابھی اگلی باری بیٹوں کے وکلاء کی ہے۔ مخدوم صاحب کے بارے میں سنا تھا کہ وہ جب بولتے ہیں تو سب کو خاموش ہونا پڑتاہے مگر اب کی بار تو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے وزیراعظم کے وکیل پر ایسے ایسے سوالات کیے ہیں جن کے وہ جوا ب نہ دے سکے اور مکمل طور پر بے بس دکھائی دیئے۔ آج مجھے کیمروں کے سامنے بولنے سے پہلے ان وزراء اور مشیروں کے قریب ہونے کا موقع ملا۔ چہروں پر مایوسی اور ناامیدی کے نمایاں تاثرات اور وکلاء کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے مجھے نتیجہ نکالنے میں دقت نہیں ہوئی۔ پانامہ لیکس پر ہونے والی سماعت اور فریقین کے وکلاء کی طرف سے دیئے جانے والے دلائل کے بعد نتیجہ کیا برآمد ہوگا اس بارے میں تو ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ ظاہری طور پر ججز کے ریمارکس سے تو یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ حکومتی شکست واضح ہے مگر عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے اس بارے میں آنے والے دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ بہرحال عدالت جو بھی فیصلہ دے گی ' شریف خاندان کے حق یا مخالفت میں لیکن ایک طے ہے کہ اخلاقی طور پر حکمران شکست کھاچکے ہیں۔ عوام میں اب یہ سوچ پختہ ہوچکی ہے کہ معاملہ مشکوک ہے۔ شریف خاندان نے کرپشن کی ہے ' آئندہ آنے والے انتخابات میں پانامہ کیس اس خاندان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔2013 ء کے عام انتخابات پیپلز پارٹی کے لئے کڑا احتساب ثابت ہوئے۔ اسی طرح2018 ء کے عام انتخابات بھی موجودہ حکمرانوں پر بھاری ثابت ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات کو عوامی حمایت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا کسی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ حکمران جماعت ہمیشہ ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوتی رہتی ہے یہ ہماری تاریخ ہے۔ اصل مقابلہ اس وقت ہوگا جب موجودہ حکمرانوں میں سے کوئی بھی صاحب اقتدار نہیں ہوگا۔ عدالتی کارروائی کے بعد روزانہ بریفنگ کے نام پر جو تماشا لگایا جاتا ہے اس میں عوام کے لئے تفریحی سامان تو ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چندروز سے گالیوں اور گندی زبان کے استعمال کا تکلیف دہ عمل شروع ہوگیا ہے۔ طلال چوہدری سے اسی بارے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ ابھی تھوڑی دیر قبل سعد رفیق گالیوں کے تبادلے کے حوالے سے سیز فائر کا کہہ گئے ہیں مگر آپ کی ساتھی ایم این اے پھر اسی زبان کو استعمال کر رہی ہیں ؟ تو طلال چوہدری کا جواب بڑا دلچسپ تھا انہوں نے کہا کہ ''دراصل گالم گلوچ کا کلچر پی ٹی آئی نے متعارف کرایا ہے۔ پی ٹی آئی سے پہلے تو ہمارے ملک کی سیاست بہت ہی صاف ستھری تھی۔'' اس موقع پر میرا دل کہہ رہا تھا کہ ان صاحب سے پوچھوں کہ کیا آپ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وہ الفا ظ بھول چکے ہیں کہ جو انہوں نے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے بارے میں استعمال کیے تھے؟ کیا وہ صاف ستھری سیاست تھی؟ کیا بے نظیر بھٹو مرحومہ اور مرحومہ نصرت بھٹو پر تمہتیں اور گندی زبان پی ٹی آئی نے استعمال کی تھی؟ آج بالکل اسی طرح عمران خان اور شیخ رشید پر آوازے کسے جارہے ہیں۔ معاملہ چند روز قبل تک ٹھیک چل رہاتھا مگر جونہی مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہوئے اور معزز جج صاحبان نے ایسے ایسے چبھتے سوال کیے کہ جس سے شریف خاندان کے درجنوں ترجمانوں کا پسینے میں شرابور ہونا فطری عمل تھا۔ پس یہی وہ لمحہ تھا کہ جب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ معزز جج صاحبان کو تو وہ کچھ کہہ نہیں سکتے تھے بس جواباً عمران خان کو گالیاں پڑیں۔ عمران خان قریب ہی کھڑے سنتے رہتے ہیں مگر میں نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ سیاستدانوں کو کسی بھی لمحے اخلاقیات سے گری حرکتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ 20 کروڑ عوا م کی نمائندگی کرنے والے یہ سیاستدان غیر مہذب بدلحاظ اور غیر اخلاقی زبان استعمال کریں گے تو عوام بھی شعور رکھتے ہیں وہ بھی سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ گزشتہ چند روز کے دوران استعمال کی جانے والی زبان سے عوام کو اس بات کا اندازہ لگانے میں دقت نہیں ہوگی کہ شکست کس کا مقدر بننے والی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved