ویلکم۔۔۔۔۔۔محسن گورایہ۔۔۔ویلکم
  23  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
بدصورت چہرہ منفی سوچ سے بہتر ہوتا ہے اور خوبصورت لب و رخسار خوبصورت خیال سے زیادہ حسین وجمیل نہیں ہو سکتے۔ تتلیوں کے پروں پرلکھی رنگوں کی کہانیاں کوئی پڑھے نہ پڑھے دیدۂ بینا منقش اندام کے نین نقش پرنظروں کے نشتر چلا کر غیر تراشیدہ صورتوں کونئے آہنگ سے پڑھ ہی لیتا ہے۔ اسی کیفیت کواہل بصیرت حسن نظر کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اور جو بصیرت کے بام سے نیچے گرجائیں پھرانہیں بصارت بھی اندھا قراردے کر پاؤں کی ٹھوکرسے راستوں پر لڑھکتے پتھروں کا سا سلوک کرنے پرمجبور ہو جاتی ہے۔ مستقبل کے اُفق پر دور بین نگاہوں کے عدسے سے دیکھنے والی آنکھوں کے مالک اس بات کااظہار کرتے ہیں کہ انسانی زندگی کے ساتھ صحافت کا تعلق قیامت تک اُسی طرح قائم ودائم رہے گا جس طرح ابتدائے آفرینش میں اشاروں، کنایوں سے ہوتی ہوئی صحافت نے حرفوں کو لفظوں کے بدن دیس میں بسایا تھا۔ اسی دیس کا ایک باسی دشتِ صحافت کا مسافر بنا تو گرد راہ کو پہچان کی عظمت سے آشنا کرتاچلا گیا۔ وہ لاہور سے چند کلو میٹرز کے فاصلے پرآباد تاریخی شہر پتوکی سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ قومی شاہراہ این۔ 5۔ اسی شہرسے گزرتی ہے جو اس کو اسلام آباد، پشاور، کراچی اور لاہور سمیت پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے ملاتی ہے۔ پتوکی پاکستان کا واحد شہر ہے جس میں پھولوں کی عظیم الشان منڈی لگتی ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں خوشبوئیں کانٹوں سے تولی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس شہر کو ’’پھولوں کا شہر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی وضع، قطع، میل جول اور رکھ رکھاؤ سے واقعی کسی پھولوں کے شہر کا مکین دکھائی دیتا ہے۔ اس کی چال میں ایک ایسا وقار جھلکتا ہے کہ خوئے سلطانی اور شانِ فقیری بہ یک وقت اُس کے لہجوں کی غمازی کرتے ہوئے محسوس کی جاسکتی ہیں۔ گزشتہ 20برس سے ہم ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دور بلکہ دور دور بس رہے تھے۔ ایک شہر اور ایک ہی شہرمیں ۔۔۔ایک لہر اور بس اُسی لہر میں ہم کنارہ کنارہ ملتے رہتے تھے۔ ہمارے درمیان بہتی ہوئی ندیا کا فاصلہ تھا جسے تیر کر کسی بھی وقت پارکیا جاسکتا تھاامرٍ واقعہ یہ ہے کہ جب کنارے گلے ملنے کے لیے آگے بڑھیں تو ندیوں کاراستہ پانی سے کٹتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ پانی کی حفاظت پر مامور کنارے قربانی کی اولین مثال بن جایا کرتے ہیں۔ اسی مثال کو بالمثل قراردینے کے لیے تقدیر نے ہمیں ساتھ ساتھ بھی رکھااور دور دور بھی۔وہ مجھے ملا بھی تو اُس مقام پر ملا جہاں جذبات نے حالات کے بربط پر یہ شعر گنگنانا شروع کردیا کہ : زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بڑی دیر سے ملا ہے مجھے یہ سولہ جنوری کی ایک تازہ دم صبح تھی جب میری اور اس کی ملاقات روزنامہ اوصاف کی سیڑھیوں میں ہوئی۔وہ زینے پر قرینے سے قدم رکھتا ہوا بہ یک وقت رفعتِ کوہ اورپستئ کاہ کی مسافتوں کے سنگم پر محوِ خرام تھا۔وہ مجھے بڑی گرم جوشی سے ملا۔اُس کی آنکھوں میں اپنائیت تھی ۔لہجہ سرد ہونے کے باوجود پُرتمازت بھی تھا۔اگلے لمحے ہم دونوں ایڈیٹر اِن چیف جناب مہتاب خان کے رُو بہ رُو بیٹھے تھے۔ایڈیٹر اِنچیف اُس روز کسی ضروری کام کی غرض سے اچانک لاہور تشریف لائے تھے ۔اُن کی آنکھوں میں ایک تفاخرانہ چمک تھی۔وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔بیٹا! محسن گورایہ صاحب ! آپ کے بڑے بھائی ہیں۔اِن کی قابلیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔میں نے انہیں ایگزیکٹو ایڈیٹر کا قلمدان سونپا ہے ۔یہ عظیم الشان ذمہ داریاں اُن کے شانوں پر اس لئے ڈالی گئی ہیں تاکہ یہ مہتاب خان کے ویژن کو آگے بڑھا نے کے لئے مویّدو معاون ثابت ہوں۔اور قلم کا جو جہاد مہتاب خان نے آج سے 20برس پہلے شروع کیا تھا اُس جہاد میں ایک سالار ،ایک جرنیل کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں۔آپ نے اِن کے شانہ بشانہ چلنا ہے ۔اور قلم کی حرمت اور لفظوں کے تقدس کی پاسبانی کے اِس مشن کو آگے سے آگے بڑھانا ہے۔یہاں تک کہ ہم سب اپنی منزل سے جا ملیں اور تاریخ کے اوراق پر ہمارا نام اور ہمارا کام مُحمّد عربیؐ کے غلاموں در غلاموں کی صفوں میں مرقوم ہو جائے۔ چیف ایڈیٹر ہم دونوں کا ایک مختصرتعارف کروانے کے بعد اسلام آباد واپس روانہ ہو گئے ۔محسن گورایہ کی اوصاف میں بحیثیت ایگزیکٹو ایڈیٹر اپنی ذمہ داریوں کا قلم دان سنبھالنے کی خبر شہر بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔وزیراعلیٰ ہاؤس ،گورنر ہاؤس ،سول سیکرٹریٹ ،منسٹرز بلاک،کمشنر،ڈپٹی کمشنر ،لارڈ میئر آفس ،آئی ایس پی آر ،سیاسی ،سماجی حلقوں سے ٹیلی فون کالز کا ایک تانتا بندھ گیا ۔ہر طرف سے مبارک باد اورتحسین وآفرین کی صدائیں مواصلاتی لہروں کی لے پر رقص کرتی ہوئیں سماعت کے پردوں سے ٹکرانے لگیں ۔مجھے سب سے پہلی فون کال بلدیہ عظمیٰ لاہور کے ڈائریکٹر پبلک ریلشنزڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی کی موصول ہوئی۔اُنہوں نے فرطِ جذبات سے مجھے استفہامیہ انداز میں پوچھا کہ کیا محسن گورایہ صاحب نے بحیثیت ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ اوصاف کو جائن کر لیا ہے؟میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ فون پر ہی شادماں دکھائی دینے لگے۔اس کے بعد لارڈ میئر لاہور کرنل مبشر جاوید ،آئی ایس پی آرکے ڈائریکٹربریگیڈیئر شاہد کرمانی ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر،صوبائی وزرأ،ممبران قومی اسمبلی ،ممبران صوبائی اسمبلی ،وفاقی وزرأ،بیوروکریٹس ،پولیس کے اعلیٰ افسران ،سماجی شخصیات ،اینکرز، تاجربرادری ،مارکیٹوں کے صدور ،مذہبی راہ نماؤں کی ایک کثیر تعداد مجھ سے رابطہ کر کے محسن گورایہ صاحب کو مبارک باد پیش کرتی رہی۔اور یہ سلسلہ تادم تحریر جاری وساری ہے۔روزانہ درجنوں معتبر شخصیات محسن گورایہ صاحب کو مبارکباد دینے کے لئے دفترمیں بہ نفس نفیس حاضر ہو کر اپنے دِلی جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔محسن گورایہ صاحب کی اوصاف کے ساتھ نسبت قائم ہوئی تو روزنامہ اوصاف کے دفتر کا سماں ہی بدل گیا۔ان چند دِنوں میں محسن گورایہ صاحب نے فوری طور پر اوصاف کی رپورٹنگ ٹیم اور نیوز روم سے تفصیلی اور سیر حاصل میٹنگز کیں۔جس کے نتیجے میں اخبار کی لے آؤٹ ،خبروں کے معیار اور ایڈیشنز کی خوبصورتی میں ایک نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔اُنہوں نے فرداًفرداً سٹاف کے ساتھ بڑی محبت کے ساتھ بالمشافہ ملاقات بھی کی ۔ابھی اُنہیں ایگزیکٹو ایڈیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے چند روزہی ہوئے ہیں کہ اوصاف لاہور کے سٹاف کا مورال بلند دکھائی دے رہا ہے ۔محسن گورایہ صاحب کی پیشہ وارانہ صاحیتوں سے بلاشبہ رپورٹنگ ٹیم اور نیوز روم کے سینئرنیوز ایڈیٹرز استعفادہ کرتے ہوئے اپنی کاوشوں کو جلابخش رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ حامد میر کے بعد اگر اوصاف کو کوئی واقعی پیشہ وارانہ صاحیتوں کا مالک ایگزیکٹوایڈیٹر ملا ہے تو وہ محسن گورایہ صاحب ہی ہیں جو پاکستان کے کثیر الاشاعت اخبارات میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں حتیّ کہ پاکستان ٹیلی ویژن میں ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز کے عہدے پر بھی متمکن رہ چکے ہیں،محسن گورایہ بعض بڑے نشریاتی اداروں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔روزنامہ اوصاف سے اُن کا منسلک ہونا بلاشبہ ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔لہٰذا ہم سب اُنہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔اور بارگاہ ایزدی میں دُعا کرتے ہیں کہ یہ ساتھ طویل عرصے تک قائم رہے۔اور ہم مل جُل کر اُس قلمی جہاد کے اُس شجر کی سر سبز شاخیں بن جائیں جس شجر کابیج مہتاب خان صاحب نے آج سے20برس پہلے بویا تھا۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved