جھگڑالو ٹرمپ کا امریکہ
  23  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
باراک اوباما تبدیلی کے نعرے پر امریکی کے صدر بنے اور جاتے جاتے وہائٹ ہاؤس کو ایسا صدر دے گئے ہیں جو نجانے کتنی عظیم اور انجان تبدیلیوں محور قرار پائیگا۔ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کیلئے حیران کن تھی، شاید انکا دور صدارت اس سے بھی کہیں زیادہ حیران کن ثابت ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے خطاب نے ثابت کر دیا کہ انکے موقف میں کوئی خاص تبدیلی نہیں بس زبان کا استعمال ذرا مہذب کیا گیا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نگاہیں امریکہ پر لگی ہیں جہاں ایک غیر روایتی بلکہ غیر سیاسی شخصیت وائٹ ہاؤس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا امیج ایک جھگڑالو، بدزبان، تنازعات سے بھرپور اور لاابالی شخص کا ہے، اپنی جماعت ریپبلکن میں انکی سنگین مخالفت موجود ہے، اپنی منتخب کردہ کابینہ میں سخت گیر پالسیوں کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہو چکی ہے۔ حلف اٹھانے سے پہلے ہی ٹرمپ مضبوط ترین ادارے سی آئی اے سے ٹکر لے چکے ہیں۔ اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو بھی خوب لتاڑا اور میڈیا سے کبھی انکی بنی نہیں۔ حلف برداری پر ہونیوالے مظاہرے بھی امریکی معاشرے میں ایک اجنبی تبدیلی کا مظہر ہیں تو دوسری جانب نسلی تعصب پر مبنی نعرے سب سے پہلے امریکہ کے سحر میں گرفتار گوری اکثریت کو ان سے عظیم توقعات وابستہ ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بلند بانگ اور کسی حد تک غیر حقیقی وعدے ان کا سب سے کڑا امتحان ثابت ہونگے۔ ٹرمپ حامیوں کی توقعات ہیں کہ امریکہ تارکین وطن سے پاک جائیگا، میکسیکو کے سرحد پر خاردار دیوار قائم کی جائیگی، بیرون ملک قائم کی گئی امریکی صنعتوں کو واپس لایا جائیگا، روزگار کے مواقع وسیع کیے جائینگے، صحت پالیسی میں ذھنی اور دماغی امراض کو بھی شامل کیا جائیگا، اسلحہ رکھنے والے شہریوں کو مزید بااختیار بنایا جائیگا، ٹیکس میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جس طرح اوباما کے منتخب ہونے پر سیاہ فام نوجوان بہت پرجوش تھے، اسی طرح گوری اکثریت صدر ٹرمپ سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ ٹرمپ نے سیاہ فاموں، مسلمانوں، خواتین، تارکین وطن سمیت سنجیدہ حلقوں کو متعصب نظریات سے ناراض کر چکے ہیں، بہرکیف دانشوروں، قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ امریکی خزانہ پرکشش انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کی کتنی سکت رکھتا ہے، یہ انکی صلاحیت کا پہلا امتحان ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ بیرونی محاذ پر بھی بھرپور جنگ کے اشارے دے چکے ہیں۔ دیرینہ حریف روس سے بہتر رشتہ استوار کرنے کیساتھ چین کو معاشی طور پر ناپسندیدہ ملک قرار دینے کی خواہشات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر چینی مصنوعات پر 45 فیصد ڈیوٹی عائد کرنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے پروگرام کے فنڈز روکنے کے علاوہ بحرالکاہل پار تجارتی شراکتوں کو الوداع کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ شمالی امریکہ کی آزادانہ تجارت کے معاہدے کو بھی دوبارہ طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ٹرمپ کی ان پالیسیوں پر یورپی یونین میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی اور ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے پر نظر ثانی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اندورنی اور بیرونی محاذوں پر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی چومکھی جنگ چھیڑ چکے ہیں۔ یہ حقیقت اب کسی سے چھپی نہیں کہ چین معاشی اور دفاعی طور پر نہایت مستحکم ملک بن چکا ہے، دنیا کی دوسری بڑی معشیت جو شاید آئندہ چار، پانچ سالوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ عالمی چوہدراہٹ کے باعث عظیم اخراجات پر مجبور ہے جبکہ چین کیلئے ایسی کوئی مجبوری نہیں۔ چین دوستانہ سفارتکاری اور آہستہ روی کیساتھ مستخکم متبادل عالمی قوت کا روپ دھار رہا ہے۔ ویسے بھی سی پیک کے ذریعے چین عالمی قوتوں کو اپنی جانب متوجہ کر چکا ہے، اسکے باوجود یہ حقیقت بہرحال مسلم ہے کہ امریکہ دنیا کے قائد کا کردار ادا کر رہا ہے، جسکی ڈرائیونگ سیٹ پر اب ڈونلڈ ٹرمپ براجمان ہیں۔ صدر ٹرمپ کا جھکاؤ اسرائیل اور بھارت کی جانب رہیگا، افغانستان میں بھارت کو آگے لایا جائیگا اور چین کے مقابل خطے میں تقویت دی جائیگی۔ پاکستان کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ٹرمپ دور میں پاکستان کو اہمیت ملنے کا امکان نہیں، خدا کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ یہ وہ وقت ہے کہ جب پاکستان کا امریکہ پر انحصار کمترین سطح پر ہے، پاکستان، چین کیساتھ خطے کے دیگر ممالک کی معاشی سرگرمیوں میں شامل ہو چکا ہے اور روس سے بھی تعلقات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ گویا خطے میں ایک نیا بلاک تشکیل پا رہا ہے، بہرحال پاکستان کو افغانستان میں اپنی حکمت عملی پر موثر نظر ثانی کی ضرورت پے تا کہ خطے میں بھارتی اثرورسوخ کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ وال اسٹریٹ جنرل کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت تقریبا 20 کھرب ڈالر کا مقروض ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران قرضوں میں 1.4 کھرب ڈالر کا اضافہ بھی ہوا ہے، بیروزگاری اور افراط زر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے باعث امریکی معشیت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ ایسے وقت میں امریکہ کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی فیصلے براہ راست دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اگر امریکی معشیت لڑکھڑائی تو یقینی طور پر پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اس کی لپیٹ میں آئینگے۔ امریکہ کے پینتالیسویں اور پہلے غیر روایتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونی اور بیرونی کٹھن چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور کابینہ اثر انداز تو ہو گی مگر ٹرمپ کی فطرت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس قدر منہ پھٹ، سفارتی آداب کو خاطر میں نہ لانے والے اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے عادی ہیں انہیں قابو میں رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ثابت ہو گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی آئین کے تحت صدر بے پناہ اختیارات کا مرکز ہوتا ہے اگرچہ کانگریس بعض صورتوں میں صدارتی فیصلوں کو مسترد کر سکتی ہے مگر ایسا ہر وقت نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کسی کی بھی پگڑی اچھالنے کے ماہر ہیں، خواہ حریف ہو یا حلیف ! حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں عروج سے زوال کا سفر شروع ہو سکتا ہے اور دنیا کو ایسا بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا جو غیر متوقع اورغیر روایتی ہو گا۔ ڈی ٹرمپ آرگنائزیشن کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت کا اندازہ تقریبا 4 ارب ڈالرز ہے۔ ایک غیر سنجیدہ قرار دیئے جانیوالا صدارتی امیدوار تمام سیاسی پنڈتوں اور حریفوں سے لڑتا بھڑتا وہائٹ ہاؤس پہنچ چکا ہے۔ گھمسان کی جنگ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ اعتماد میں بیحد اضافہ ہوا ہو گا جس کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کرینگے۔ بڈونلڈ ٹرمپ کو باراک اوباما کی نصیحت یاد رکھنی چاہیئے کہ وہائٹ ہاؤس کو خاندانی کاروبار کی طرز پر چلانے کی کوشش نہ کریں۔ مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نصیحت اور مشوروں کو سننے والے شخص ہیں؟ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved