نوکری کی تلاش میں سرگرداں ایک بیٹی کی سرگزشت
  30  جنوری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
میں اُسے 1999ء سے جانتا ہوں۔ اُس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کر رہی تھی۔ لاہور کے پوش ترین علاقے میں رہائش پذیر اُس کاخاندان ایک پُرتعیش زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُس کے والد صاحب لاہور کے چند معروف اور امیر ترین آرکٹیکچرز میں شمار کئے جاتے تھے۔ کوٹھیاں، گاڑیاں، نوکر چاکر۔ وہ کسی بزرگ دوست کے حوالے سے میرے اخبار کے دفتر میں اپنا کالم شائع کروانے کی غرض سے آئی تھی۔ اُسے پڑھنے کا غیر معمولی شوق تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد اُس نے مجھے بتلایا کہ وہ صوبائی محکمہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہی ہے۔ اِس دوران بھی وہ پڑھتی رہی۔ سوشل سائنسز میں ایم اے سمیت نا جانے کون کون سی ڈگریاں اُس نے حاصل کیں۔۔۔دسمبر2005ء میں میرے آفس کے پتہ پر ایک شادی کارڈ موصول ہوا۔ اُس کی شادی طے پا گئی تھی۔ دولہا میاں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز تھے۔ شادی کی اِس تقریب میں مجھے اور میرے اُستادِ مکرم ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی صاحب کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ دُلہن کے والد اور والدہ نے بارات کے استقبال کی ذمہ داریاں مجھے تفویض کی تھیں وہ مجھے اپنا بیٹا گردانتے تھے۔ بالخصوص ماں جی تو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ رخصتی ہوئی تو میں اور ڈاکٹر ندیم گیلانی اپنے اپنے گھروں کو ہو لئے۔ وقت گزرتا رہا۔ دن ہفتے، مہینے اور سال پہ سال۔ شادی کے بعد سسرال نے لڑکی سے سرکاری ملازمت چھڑوا دی۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ دولہا کی ٹرانسفر لاہور سے اسلام آباد ہو گئی تو دلہن نے بھی اسلام آباد کو اپنا مسکن بنایا۔ ابھی شادی کو دو برس بھی نہ ہوئے تھے کہ یہ انکشاف ہوا کہ دولہا میاں پہلے سے شادی شدہ ہیں اور فریب کاری اور جھوٹ کی بنیاد پر دوسری شادی کی گئی ہے۔ وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی۔ دن بہ دن گھر کا ماحول دوزخ کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ بالآخر ایک دن وہ اپنے ننھے بیٹے کو گود میں لے کر لاہور اپنے والدین کے پاس چلی آئی۔ ماں باپ امیر تھے۔ گھر میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ تھی۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ اُنہوں نے بیٹی کے درد کو سمجھتے ہوئے اُسے دلاسہ دیا۔ تھوڑے عرصہ بعد اُس نے خلع لے لیا۔ بچہ ابھی چھوٹا تھا۔ اُس نے سوچا کہ ابھی یہ سکول جانے کے قابل ہو جائے تو وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے دوبارہ کوئی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں ملازمت اختیار کر لے گی۔ اُس کے بیٹے نے پاؤں پاؤں چلنا ہی شروع کیا تھا کہ ایک دِن اُس کی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ ہسپتال داخل کروا دیا گیا تو ڈاکٹروں نے سر سے آسمان اور پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔ مریضہ کو بلڈ کینسر بتایا گیا، بس پھر کیا تھا۔ ایک قیامت کا سماں تھا، گھر میں بھائی بڑے تھے۔ بہنیں چھوٹی تھیں۔ سارا بوجھ اُس کے سر پر آن پڑا۔ وہ اپنا مستقبل بھول گئی۔ حتیٰ کہ اُسے اپنے ننھے بیٹے کی پرواہ بھی نہ رہی۔ وہ ماں کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ گردانتے ہوئے صبح و شام ان کی تیمار داری میں مصروف ہو گئی۔ اُسے شوہر سے علیحدگی کا دُکھ بھی بُھول گیا۔ اُسے مستقبل کے خوابوں کو تعبیر کے گلے سے ہمکنار کرنے کا خیال بھی ہواؤں اور فضاؤں کی رفعتوں میں دُور اور بہت ہی دُور اُڑاتا ہوا دِکھائی دینے لگا۔ ماں کی زندگی موت کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی۔ دواؤں سے شفا اُٹھنے لگی۔ دُعاؤں سے تاثیر جاتی رہی۔ دواؤں اور دُعاؤں کی آزمائشوں کے درمیان دوڑتی بھاگتی بیٹی کے نصیبوں سے بالآخر 2009ء میں ماں کا سایہ جُدا ہو گیا۔ دو چھوٹی بہنیں روتیں تو وہ اُنہیں اپنے سینے سے لگا کر دلاسہ دیتی کہ میں تمہیں ماں کا پیار دوں گی، تم اپنی آنکھوں سے چھم چھم گرتے آنسوؤں کو تھام لو۔ماں کی وفات کے بعد گھر میں ایک بے سکونی سی رہنے لگی۔ برکت، فضیلت اور رحمت کے فرشتے خود کو اِس گھر سے دُور رکھنے لگے۔ ابھی یہ غمزدہ خاندان ماں کی جدائی کے دُکھ سہہ نہ پایا تھا کہ 2012ء میں والد بھی اچانک حرکت قلب بند ہونے سے اِس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ یہ وہ سانحہ تھا جو المیے میں بدل گیا، ابھی باپ کی وفات کو چند ماہ بھی نہ ہوئے تھے کہ بھائیوں نے اپنے تیور بدل لئے تینوں بہنوں کو گھر سے نکال کر کوٹھیوں، کاروں، گاڑیوں، پلاٹوں اور چوباروں پر قبضہ کر لیاگیا۔ یہ موصوفہ دونوں چھوٹی بہنوں اور ایک بیٹے کو لے کر کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئی۔ بھائیوں نے سوائے تن کے کپڑوں کے گھر سے کچھ بھی نہ اُٹھانے دیا۔ اُس نے بڑی بہادری اور جرأت کے ساتھ اپنی بہنوں کو ماں کا پیار بھی دیا اور باپ کی شفقت بھی۔ پڑھی لکھی تھی اُسے ایک این جی او میں ملازمت مل گئی مگر اُس ملازمت سے وہ اپنی بہنوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ اور اپنے بچے کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر تھی۔ نازونعم میں پلی ہوئی لڑکی اب مزدوروں کی طرح بھاگتی پھرتی اور رزق کی تلاش میں ہر صعوبت برداشت کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی۔ ایک دن اُس نے سوچا کہ دو تین ایم اے آج کے دور میں کوئی خاص تعلیمی قابلیت نہیں گردانے جاتے لہٰذا کیوں نہ بہنوں اور بیٹے کے سہانے مستقبل کے لئے ایم فل کر لیا جائے۔ چنانچہ اُسے لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ایم فل کیلئے داخلہ مل گیا۔ اُس نے کلاسیں لینا شروع کیں تو این جی او کی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ ایک دِن اُس کے پروفیسر نے اُس کے چہرے پر شکست و ریخت کے آثار دیکھے تو اُسے الگ کمرے میں ملنے کو کہا۔ وہ سمجھی کہ ایک رحیم انسان اپنی شاگرد کے لئے سراپا رحمت بن گیا ہے۔ اُس نے بند کمرے میں اُستاد کے سامنے اپنے سارے حالات و واقعات بیان کر دیئے۔ اُستاد نے اُسے دلاسہ دیا اور اگلے روز دوبارہ اُسے اُسی کمرے میں ملنے کو کہا۔ وہ خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی۔ اُس کے اُستاد نے اُسے لیکچرر شپ کے لئے جاب لیٹر آفر کیا تھا۔ اگلے روز سے اُس نے اُسی یونیورسٹی میں پڑھانے کے لئے آنا تھا۔ اُس نے روتی آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں سے اپنے اُستاد کا شکریہ ادا کیا تو اُستاد نے کہا کہ آج رات کا کھانا آپ میرے ساتھ لاہور کے ایک معروف فائیوسٹار ہوٹل میں کھائیں گی؟ اُس نے حامی بھر لی۔ اُستاد ایک قدم اور آگے بڑھا اور اُسے کہا کہ یہ عارضی نوکری مستقل ملازمت میں بھی بدل سکتی ہے بشرطیکہ تم آج رات کھانا کھانے کے بعد گھر جانے کے بجائے اُسی ہوٹل میں میرے ساتھ ہی شب بھر شب بسر کرو! اُستاد کی نیت کی وحشت اور آنکھوں کی دہشت سے اُس کا وجود کانپ کر رہ گیا۔ اُس نے عارضی ملازمت کا جاب لیٹر دو ٹکڑے کرتے ہوئے اُستاد کے قدموں میں رکھ دیا۔ اور روتی آنکھوں اور تھرکتے ہونٹوں سمیت لرزہ براندام بدن کو سمیٹتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لی۔ وہ جب گھر پہنچی تو شام کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ وہ رات بھر روتی رہی اور اپنی قسمت پر کفِ افسوس ملتی رہی۔ ہر طرف مایوسی وپریشانی، 10 برس کا بیٹا، فرسٹ ایئر کی طالبہ بہن دونوں کو سکول اور کالج سے اُٹھا لیا۔ اور اندھیرے میں روشنی کی کرن تلاش کرنے لگی۔ اُسے کتابوں کی الماری میں سے ایک پرانی ڈائری ملی۔ اُس نے ڈائری کے اوراق دیکھنے شروع کئے۔ کچھ پرانے ملنے والے۔ کچھ ماضی کے قصے۔ اُس ڈائری کے ورق ورق پر رقم تھے۔ اچانک اُس کی نظر میرے موبائل نمبر پر پڑی۔ اُس نے مجھے فون ملایا۔ 11 برسوں کے بعد۔۔۔میں اُس کی آواز نہ پہچان سکا۔ حتیٰ کہ جب اُس نے اپنا نام بتایا تو مجھے نام پہچاننے میں بھی مشکل درپیش آئی۔ یہاں تککہ اُسے اپنے سابقہ ادارے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا حوالہ دینا پڑا۔ حوالے دیتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مبشر صاحب! مجھے نوکری کی تلاش ہے۔ میرا ایم فل کا مقالہ مکمل ہو چکا ہے۔ اگلے مہینے ’’وائیوا‘‘ ہے۔ ایم اے انگلش، ایم اے سوشل سائنسز، ایم ایس مینجمنٹ، ماسٹر ہیومن ریسورس مینجمنٹ۔ جیسی ڈگریاں رکھتی ہوں۔ کسی این جی او، کسی یونیورسٹی، کسی کالج، کسی کارپوریٹ آفس میں عزت کی نوکری چاہئے۔ جس سے میں عزت اور آبرو کے ساتھ اپنی دو بہنوں اور ایک بیٹے کا پیٹ پال سکوں۔ وہ روئے جا رہی تھی۔ میں اُس کی سسکیوں کی تاب نہ لا سکا۔ میں نے کال کاٹ دی اور قرطاس ابیض پر قلم کی نوک سے اُس کی سرگزشت کا نوحہ لکھنے بیٹھ گیا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved