ملتانیو! آپ کو میٹرو بس سروس مبارک ہو
  2  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سرائیکی وسیب کا مرکزی شہر اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ملتان ہی کو پورا جنوبی پنجاب سمجھے رکھا اور خود سرائیکی وسیب کی اہم شخصیت ہونے کے باوجود سرائیکیوں کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہے اور تمام تر ترقیاتی فنڈز کو ملتان شہر تک محدود رکھا مگر اس کے باوجود بھی ملتانیوں نے سید زادے سے وفا نہ کی۔ اب شاید موجودہ حکمرانوں کے رویوں کے باعث گیلانی خاندان کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کا ارادہ کرلیں کیونکہ گزشتہ دور میں جتنا فنڈز ملتان کی ترقی میں خرچ ہوا حالانکہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پنجاب میں موجودہ حکمران ہی حکومت کر رہے تھے مگر ان کی عدم توجہی اور مرکز کی نوازشات کے باعث مستقبل میں ایسا کبھی بھی ہونے کی توقع اور امید نہیں ہے اور اب مسلم لیگ نواز کی حکومت بھی جنوبی پنجاب ملتان کو ہی سمجھتی ہے۔ سرائیکی وسیب کے لوگوں کو مبارک ہو کہ اب وہ سینہ تان کر اور فخر سے لاہور اور اسلام آباد والوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی آپ لوگوں کی طرح میٹرو بس کے مزے لے رہے ہیں۔ اب ملتان بھی لاہور اور اسلام آباد' راولپنڈی کے برابر آن کھڑا ہواہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ جنوبی پنجاب کا علاقہ بہت پسماندہ ہے تو مسلم لیگ (ن) کے متوالے انہیں یہ کہہ کر چپ کراسکتے ہیں کہ جس شہر میں میٹرو بسی چلتی ہو وہ علاقہ پسماندہ کیسے ہوسکتا ہے۔ میں اب ان لمحات کو یاد کرتا ہوں اور سکون محسوس کرتا ہوں کہ جب ملتانی لوگ خوبصورت میٹرو بسوں میں سفر کرتے ہوئے چند لمحوں کے لئے خود کو ترقی یافتہ قوم سمجھتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہوں گے۔ لاہور شہر کی بتیاں دیکھنے کی آس اور امید لگانے والے سرائیکی دیدہ زیب میٹرو اسٹیشن کے خوبصورت قمقموں سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ جب سے ملتان میں میٹرو بس سروس کا افتتاح خود وزیراعظم کے مبارک ہاتھوں سے ہوا ہے ایسے لگتا ہے کہ سرائیکیوں کے سارے دکھ بل گئے ہیں۔ اب ان کی پریشانیوں کے دن گزر گئے ہیں۔ ظاہر ہے 28 ارب روپے کی خطیر رقم سرائیکی وسیب میں میٹرو بس کی صورت میں خرچ ہوچکی ہے۔ سرائیکی وسیب کے لوگ خوشی سے پاگل ہوئے جارہے ہیں۔ خوشی سے جھوم رہے ہیں' ناچ رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے اب جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں سے لوگ سینکڑوں روپے خرچ کرکے میٹرو بس کے مزے لینے ملتان آیا کریں گے۔ وہ بے چارے ویسے بھی بے روزگار ہیں۔ روزگار کے وسائل جنوبی پنجاب میں ملتے ہی نہیں۔ ان فراغت کے لمحات کو انجوائے کرنے کا بہترین حل میٹرو بس کی سیر ہے۔ کہتے ہیں ہسپتالوں میں مریض گنجائش سے زیادہ ہیں۔ وسائل نہیں' علاج درست انداز میں نہیں ہوتا' ڈاکٹر توجہ سے مریض کا معائنہ نہیں کرتے' لیبارٹریاں ٹھیک کام نہیں کررہیں۔ دوائیاں دستیاب نہیں ہیں۔ پورے ملتان میں نہیں بلکہ جنوبی پنجاب یا یوں کہیں کہ آدھے پنجاب کے لئے محض دو ہسپتال نشتر ہسپتال اور بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور ہیں۔ ان کی حالت بھی بیان کے قابل نہیں۔ یہ محض الزام ہے۔ ناقدین کا کام ہی الزام عائد کرنا اور حکمرانوں کے کارناموں کو گھٹا کر پیش کرنا ہے حالانکہ یہ صورتحال محض جنوبی پنجاب کی نہیں بلکہ سارے پنجاب کے ہر ایک شہر کی ہے۔ اس لئے سرائیکی وسیب کے لوگوں کو ناقدین کی ان باتوں پر توجہ دینے کی قعطاً ضرورت نہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ 28 ارب روپے کی خطیر رقم میٹرو بس پر خرچ کرنے کی بجائے مزید ہسپتال بنانے یا مزید تعلیمی اداروں کی تعمیر یا لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خرچ کرتے تو زیادہ مناسب تھا۔ لوگوں کی صحت اور تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈھانچہ جات کی تعمیر ثانونی حیثیت کی حا مل ہے مگر انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ سرائیکیوں کی بھولی اور معصوم قوم میٹرو بس کے عجوبے کو اپنے شہر میں دیکھ کر زیادہ خوش ہوتی ہے۔ حکمران بھی عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ہم نے عوام کو کیسے خوش رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں سرائیکی پٹی کے ووٹ سے جھولیاں بھرنے کے لئے حکمرانوں نے ملتان کو میٹرو بس کا تحفہ دیا ہے۔ ہاں البتہ کچھ عرصہ بعد جب میٹرو کا خمار لوگوں کے ذہنوں سے اترے گا اور انہیں علم ہوگا کہ ہمارے ساتھ حکمران ہاتھ کرگئے ہیں تو پھر ووٹ دینے کے لئے اپنے اذہان بھی تبدیل کریںگے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میٹرو بس کا تحفہ دینے کی بجائے سرائیکی وسیب کی تمام کچی سڑکوں کو پختہ اور تنگ سڑکوں کو کشادہ یا دو رویہ بنا دیا جاتا تو پھر بھی کل 28 ارب روپے کی رقم سے کم خرچ ہوتی اور حادثات کا تناسب بہت حد تک کم ہو جاتا۔ اس طرح انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا کیونکہ اس وقت پورے ملک میں سڑک کے حادثات سب سے زیادہ جنوبی پنجاب میں ہو رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ بھاری ٹریفک کے لئے بھی تنگ سڑکیں ہیں جہاں موٹر سائیکل' سائیکل' گدھا گاڑی' کار ' ٹرک اور ٹرالر سبھی نے سفر کرنا ہے اور سڑک کے تنگ ہونے کے باعث حادثات نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا؟ مگر ان ناقدین کو کون سمجھائے کہ حکمرانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ شہرت بھی لینی ہے نام بھی کمانا ہے' ووٹ بھی لینے ہیں' تاریخ میں نام بھی لکھوانا ہے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سمجھدار قوم میٹرو بس جیسی ٹرانسپورٹ کی پرتعیش سروس کو ترجیحات میں پانچویں چھٹے نمبر پر گردانتی ہے۔ تعلیم' صحت' خوراک' روزگار' رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی مکمل فراہمی کے بعد ہی اچھے حکمران میٹرو بس جیسی سروس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ملتانیو! آپ کو میٹرو بس سروس مبارک ہو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved