کشمیریوں کے مجرم
  4  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
کیا مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں؟ کیا کشمیر میں بھارتی ریاست کے تمام ادارے داد رسی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں؟ کیا مقبوضہ کشمیر کا سیاسی سماجی اور مذہبی ڈھانچہ برقرار ہے؟ کیا پی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت کو عوامی اعتماد حاصل ہے؟کیا کشمیر ی نوجوانوں کو تعلیم اور با عزت اور روز گار کے مواقع دستیاب ہیں ؟ کیا بھارتی ریاستی اداروں کے شکنجے میں جکڑے کشمیری عوام کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ حاصل ہے؟ یقینا ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہی آئے گا۔ بھارتی ریاست کشمیریوں کی شہہ رگ پہ سات لاکھ سنگینیں رکھ کے سرحد پار دہشت گردی کا رونا رو رہی ہے۔ یہ منافقانہ طرزِ آخر عمل کب تک جاری رہے گا۔عشروں سے جاری غیر انسانی مظالم نے کشمیر میں بھارتی ریاست کے خلاف نفرت اور بغاوت کے ایسے بیج بوئے ہیں جن کی خارزار فصل کاٹتے کاٹتے کئی نسلیں اپنے ہی لہو میں غسل کریں گے ۔بھارتی ریاست کیلئے کشمیر زمین کے ایک ٹکڑے سے ذیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔دنیا میں رائج معروف جمہوری اُصول اور بنیادی انسانی حقوق اہل کشمیر کیلئے ساقط قرار پائے ہیں ۔معتصب بھارتی قیادت کیلئے کشمیر پہ قبضہ قائم رکھنا اس لیئے ضروری ہے کہ کہیں پاکستان کے آگے ناک نیچی نہ ہو جائے۔اس زہر آلود متعصبا نہ تکبر کی تسکین کیلئے بے گناہ نہتے کشمیریوں کا خون بہانا جائز ہے۔ یہ کیسی بے حس جمہوریہ ہے کہ جس میں گائے کا وجود تو مقدس ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کشمیر دو ریاستوں کے درمیان زمین کے ٹکڑے پہ قبضے کا تنازعہ نہیں ۔نہ ہی یہ کشمیر سے بہنے والے دریاؤں کے پانی پہ حق جتانے کا معاملہ ہے۔دراصل یہ لاکھوں انسانوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔مسلہ کشمیر آج ایک اندو ہناک انسانی المیئے کا روپ دھار چکا ہے ۔کشمیری نوجوان معمول کی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔کشمیر کے شہریوں کو امن ،ذہنی سکون اور آسودگی جیسے الفاظ کے معنی بھی معلوم نہیں۔کوئی شہر،قصبہ،گاؤں اور محلہ ایسا نہیں جہاں بھارتی ریاستی دھشت گردی کی کلیجہ چیر دینے والی داستانیں سنائی نہ دیں۔اب کشمیر کی فضاؤں میں امن و آشتی کے گیت سنائی نہیں دیتے بلکہ تاریک رات کے خوفناک اندھیروں میں بیواؤں ، یتیموں اور دکھیارے ماں باپ کی آہ وفغاںسنائی دیتی ہے۔سرسبز وشاداب وادی پہ موت کا سایہ ہے۔چشموں اور آبشاروں میں پانی کیساتھ مظلوم شہدا کاخون بہتا ہے۔آبادیاں اُجڑ رہی ہیںاور قبرستان پھیل رہے ہیں۔26جنوری کو یومِ جمہوریہ منانے والی بھارتی ریاست نے مظلوم کشمیریوں کو تشدد،ماورائے عدالت قتل، عصمت دری ، غیر قانونی گرفتاریوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پا مالی کی خونی سوغات دی ہے۔بے شرمی اور ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہوگی لیکن بھارتی ریاست کیلئے شائد یہ الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے۔وادی کشمیر کئی ماہ سے کرفیوکی زنجیروں میں جکڑی ہے تعلیمی ادارے بند ہے، معاشی سرگرمیاں معطل ہیں ،ریاستی مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے مظاہرین کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ سینکڑوں کشمیریوں کی بینائی ضائع ہو چکی ہے۔لیکن اس بے حس جمہوریہ پہ کوئی اثر نہیں ہوا۔تعصب ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ بھارت اپنے عمل سے ثابت کرکے دکھا رہا ہے۔پاکستان پہ جھوٹے الزامات عائد کرنے سے مسلہ حل نہیں ہوگا۔کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل کے وہاں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔مقبوضہ کشمیر کے حالات پاکستان کو براہ راست متاثر کرتے ہیں کشمیریوں کا وجود سرحد پار دھشت گردی سے نہیں بلکہ بھارتی ریاستی دھشت گردی سے لہو لہو ہو رہا ہے۔بھارتی جبر وتشدد پہ عالمی برادری کا ردِ عمل بھی عہدِ حاضر میں جاری منافقت کی شرمناک مثال ہے۔اپنے ریاستی مفادات کے مقابل انسانی حقوق کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔اس تلخ حقیقت کو ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی پیچیدگی کو ہمیں اپنے وسائل اور زورِ بازو سے ہی حل کرنا ہوگا۔ کشمیر عہدِ حاضر کے بھیانک انسانی المیے کا نام ہے ۔بھارت کے ریاستی جرائم نے کشمیر کی روح پہ جو گھائولگائے ہیں ۔وہ آسانی سے مندمل نہیں ہونگے۔عالمی برادری کی منافقانہ بے حسی کا بھی جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔لیکن بطورِ ریاست پاکستان کا طرزعمل بھی اطمینانِ بخشش نہیں۔ ہماری حکومتیں زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کے ٹھوس عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔ خارجی محاذ پہ ہم کشمیر کے مظلوموں کا مقدمہ درست انداز میں پیش نہیں کر پائے۔یومِ یکجہتئی کشمیر کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن تقریروں میں کئے گئے ذبانی دعوؤں کو عملی جامہ پہنائے بغیر مظلوم کشمیریوں کے داد رسی ممکن نہیں ۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کل جب مئورخ اہلِ کشمیر پہ ڈھائے گئے مظالم کی تاریخ مرتب کرے گا تو مجرموں کی فہرست میں بھارتی ریاست ، بے ضمیر عالمی برادری ، نام نہاد اسلامی اُمہ اورپاکستان کے مدہوش حکمرانوں کے نام ضرور شامل ہونگے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved