وہ جو قرض تھا میرے قلم پر وہ آج میں نے چکا دیا
  6  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
’’وہ جو قرض تھا میرے قلم پر وہ آج میں نے چکا دیا‘‘ یہ محض ایک عنوان ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ یہ وہ قرض ہے جو ساری زندگی بھی لکھتا رہوں تو چکایا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ یہ ایک گمنام ولی اللہ کی داستانِ زندگی ہے۔ جس نے اپنی زیست کا مقصد ہی سیرت نبویؐ کی پیروی کرنے کو بنا رکھا تھا۔ یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ سوچ کا خوگر ذہن سمندر سے زیادہ وسعت کا حامل ہوتا ہے۔ ہمہ وقت سوچوں کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن لوگ رفعتِ افلاک کو سرنگوں ہو جانے پر مجبور کر دیتے ہیں اور انہی عمیق سوچوں کی بنا پر روحانیت کی فضاؤں میں محو پرواز وہ لوگ علم و ادب سے خالی حسین ترین نظاروں کو بھی اپنی نگاہ میں پست محسوس کرتے ہیں۔ سوچ سمندر میں چلنے والے علم و ادب کے اِن ملاحوں سے بے علمی اور بے ادبی کے طوفان بھی پریشان ہو جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ایسے عظیم الشان لوگوں کے قلم کی جنبش سے وقت کے سلطان کا مہربان ہونا بھی لازم ٹھہرتا ہے۔ اُن کی زبان سے جاری ہونے والے توحید کے نعروں سے دہریت کے بھگوان بھی کانپنے لگتے ہیں۔ اِسی خُو، بُو کا حامل، ولائت کی نگری کا ایک سپوت، ایک عظیم سپوت، لفظ جس کے قلم کے محتاج اور معانی اُس کے افکار کے مرہون منت ہیں۔ وہ اعلیٰ پائے کا مربّی، وہ عظیم خوبیوں کا مالک مبلغ اسلام، وہ شعلہ بیان مقرر، وہ سچا عاشق رسولؐ، ایک اُستاد، ایک سنجیدہ ناقد، غیر جانبدار محقق اور ہر دل عزیز مدرس تھا۔ اُس کا شجرہ نسب چلتے چلتے حضرت آدم علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ وہ ابن آدم جس کے گھر کی دہلیز پر لفظ اپنے منصب کو پہچاننے کے لئے سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے باپ کا بیٹا جس کی زبان پر نثر، نظم میں بدل جانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ وہ معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے اور لفظوں سے معانی کو ہم آہنگ کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور کے نواحی قصبے کا ستی وال کی مسجد کے امام اور خطیب میاں محمد شریف کے ہاں کم و بیش 95 برس قبل اللہ تعالیٰ نے ایک فرزند پیدا کیا۔ میاں محمد شریف چونکہ ایک نیک سیرت اِنسان تھے۔ ضلع گورداسپور میں اُنہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بڑے بڑے علماء کرام اُن کی تبحر علمی کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ شرعی اور فقہی مسائل میں اُلجھے ہوئے بڑے بڑے علماء اُن سے راہ نمائی حاصل کرتے تھے۔ جب اہل علاقہ کو پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ایک بیٹے سے نوازا ہے تو لوگ جوق در جوق اُن کو مبارکباد دینے کے لئے آئے۔ بچے کا نام محمد حنیف رکھا گیا۔ باپ امام مسجد ہو تو ہمہ وقت بچے کی تربیت اسلامی ماحول میں ہونے لگتی ہے۔ قرآن مجید و فرقان حمید کی خوش الحان تلاوتوں نے اُس بچے کو قرآن کا عاشق صادق بنا دیا۔ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا اُس کے معمول کا حصہ بن گیا۔ وہ زندگی کی راہ گزر پر مومنانہ شان کے ساتھ آگے بڑھنے لگا۔ محمد حنیف نے ابتدائی تعلیم ضلع گورداسپور سے ہی حاصل کی۔ ایام شباب کو پہنچے تو اُن کی دستار کی نسبت ایک نیک سیرت لڑکی رضیہ بی بی کے آنچل سے قائم کر دی گئی۔ محمد حنیف نے شباب کی دہلیز پر قدم رکھا تو تبلیغ کو اپنی زندگی کا اوّلین مقصد قرار دے لیا۔ اُنہیں اِس امر کا ادراک بہت چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ پیار سے پھیلا ہے۔ چنانچہ محمد حنیف نے اپنے لہجے کو چاشنی کی حلاوت میں گوندھ لیا۔ اور پھر نگر، نگر، قریہ، قریہ، گاؤں، گاؤں توحید کا پرچم ہاتھ میں پکڑ کر حضرتِ اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اُن لوگوں تک پہنچانے لگے جو لوگ اسلام اور بانیؐ اسلام کے نام سے ناآشنا تھے۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تومحمد حنیف اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ اُن کے والد نے ضلع فیصل آباد کے قریب ستیانہ شہر کے نواح میں واقع گاؤں 37 گ ب میں پڑاؤ کیا۔ کچھ عرصہ بعد محمد حنیف اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ضلع فیصل آباد کے ایک اور معروف شہر جڑانوالہ کے نواحی گاؤں چک نمبر -55 گ۔ ب میں آ کر آباد ہو گئے۔ اور وہاں دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے قرآن کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔ محمد حنیف نے چک نمبر-55 گ۔ ب میں اسلام اور بانیؐ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ایک ایک فرد تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ وہ مذکورہ گاؤں کی مسجد میں امام اور خطیب کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ بہ ظاہر وہ محض ایک عالم دین، ایک مولوی، ایک امام مسجد، ایک خطیب معلوم ہوتے ہوں گے۔ مگر حقیقت میں وہ ایک ولی اللہ تھے۔ کیونکہ اُنہوں نے کبھی اپنے دینی و دنیاوی علم پر ناز نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ انسان کا خدا سے رِشتہ قائم کرنے کے لئے تربیت کی غرض سے تبلیغ جاری رکھتے تھے۔ اُنہوں نے غیر مسلموں کے دِل بھی جیتے اور مسلمانوں کے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مسلک کے فرد سے انتہائی شگفتہ مزاجی، اور محبت کے ساتھ اعلیٰ ترین سلوک کیا۔ اُن کی طبیعت میں انتہائی منکسر المزاجی پائی جاتی تھی یہاں تک کہ اُنہوں نے کبھی اپنی اہلیہ کی بھی دلآزاری نہ کی تھی۔ اُنہوں نے کبھی کسی مذہب کے ماننے والوں کی دلاآزاری نہیں کی۔ کسی دوسرے مسلک کے تحت نظریات و عقائد کے حامل افراد پر کبھی کُفر کا فتویٰ نہیں لگایا وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے نبیؐ نے دِلوں کو فتح کیا تھا حتیٰ کہ ایک دِن مکہ فتح ہو گیا تھا، وہ اِس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ ایک دِن محمدؐ کے غلام دِلوں کو فتح کرتے کرتے پوری دنیا کو فتح کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ وہ یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شباب ڈھلتا چلا جا رہا تھا۔ ضعف کے سائے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ 2010ء میں اُن کی اہلیہ رضیہ بی بی جو ایک عظیم پارسا خاتون تھیں اِس جہان فانی سے رخصت ہو گئیں۔ وہ ساری زندگی اپنے عظیم شوہر کی خدمت پر محض اِس بات پر مامور رہیں کہ وہ جانتی تھیں کہ اُن کا شوہر کوئی عام اِنسان نہیں ہے اور وہ ایک عظیم دینی فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ اہلیہ کی وفات کے دُکھ نے اُنہیں اور ضعف کا شکار کر دیا اور وہ اپنی اہلیہ کی وفات کے تین برس بعد قریباً 90 بہاروں پر مبنی زیست کی راہ گزر عبور کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گئے۔ اُن کی وفات پر ضلع فیصل آباد ایک عظیم مبلغ اسلام سے محروم ہو گیا۔ صرف فیصل آباد ہی نہیں بلکہ صوبہ پنجاب، نہیں نہیں صوبہ پنجاب ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان محمد مصطفیؐ کے غلام سے محروم ہو گیا۔ پاکستان تو کیا پوری دنیا ایک عظیم ولی اللہ سے فیض نہ حاصل کر سکی اور وہ چپکے چپکے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے اِس عارضی دنیا سے اپنا رشتہ توڑ کر ابدی دنیا کی طرف چل دیا۔آپ حیران ہوں گے کہ میں نے اُسے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا۔ میری ظاہری آنکھ نے کبھی اُس کی صورت نہیں دیکھی۔ مگر میری روح نے سینکڑوں مرتبہ اُس کے مشفقانہ ہاتھ کو اپنے سر پر محسوس کیا ہے۔ وہ درجنوں مرتبہ مجھے خواب میں مل چکے ہیں۔ اوربیسیوں مرتبہ میرا اُن سے روحانی رابطہ ہو چکا ہے۔ میرا اور اُن کا تعارف میاں بلال ساجد کے ذریعہ سے ہوا تھا۔ ایک لمبا عرصہ اُن کی باتیں سن سن کر اُس اجنبی سے مجھے ایسا اُنس ہوا کہ ہم زمین و زمان کی قید سے آزاد ہو کر ایک دوسرے سے آشنا ہونے لگے۔ میں نے بی بی جان اور میاں محمد حنیف کو چشم تصور میں جنت کے مکین پایا، اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا ہے کہ وہ اُن عظیم روحوں کے درجات بلند کرتا چلا جائے اور اُن کی نسلوں کو محمد عربیؐ کی غلامی میں اسلام اور بانیؐ اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved