کیا نواز شریف کو ایک دَور اور ملنا چاہئے؟
  6  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پورس کے ہاتھی کی طرح اپنے ہی ملک کی روایات۔ اقدار کو روندتے چلے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی معاملات پر گہری نظررکھنے والوں کے لیے ہر لمحہ بہت سی حیرتیں لارہا ہے۔ اب تک یہ تاثر بھی تھا اور تصوّر بھی کہ امریکی دو اڑھائی سو سال کے جمہوری تسلسل کے بعد ایک ایسا سسٹم(نظام) قائم اور مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ وہاں کوئی بھی صدر کوئی بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار آجائے وہاں کے قوانین اور آئین کی پاسداری امریکی شہریوں کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہیں ہونے دیتی۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ بہت طاقت ور ہے۔منتخب صدر کو اس کے تابع رہنا پڑتا ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ اور امریکی صدر میں جو تصادم اور مفادات کا ٹکراؤ نظر آرہا ہے۔ یہ حقیقت میں ایسا ہے یا وہاں کی نظر نہ آنے والی حکومت یعنی سی آئی اے نے ایسا کوئی ڈیزائن تیار کیا ہے۔ کیا ٹرمپ کو سی آئی اے پنٹاگون اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جان بوجھ کر یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ ایک منصوبہ طے شدہ ہے جس میں اس طرح کی کشاکش اور چپقلش اختراع کی گئی ہے ۔ کسی خاص مقصد کے لیے۔ ہماری یہ خواہش تو ہوسکتی ہے کہ امریکہ اندرونی تضادات کا شکار ہو۔ اس کا شیرازہ بکھر جائے لیکن یہ تحقیق طلب ہے کہ کیا امریکی معاشرہ واقعی اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ اس نے ایک بد مست ہاتھی کو اپنا صدر منتخب کرلیا ہے۔ کیا وہ امریکہ کے لیے گوربا چوف ثابت ہوگا۔ مسلم ممالک کو جس طرح ہدف بنایا جارہا ہے کیا یہ صرف ٹرمپ کی ذاتی پالیسی ہے۔یا امریکہ کے سب مقتدر ادارے اس نفرت کے پیچھے ہیں۔ ٹرمپ جب سارے اسلامی ممالک کے خلاف حکمتِ عملی مرتب کررہے ہیں ۔ باری باری سب کو للکار رہے ہیں۔ تو کیا مسلم ممالک متحد ہوکر ان امریکی پالیسیوں کا جواب دینے کے لیے سوچ رہے ہیں۔ یا پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرح دوسرے ممالک بھی اپنے عوام کو یقین دلارہے ہیں کہ امریکہ ہمارے شہریوں پر اپنے دروازے بند نہیں کررہا ہے۔ اس تناظر میں آپ کالعدم لشکر طیبہ موجودہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظر بندی کا جائزہ لیں کہ کیسے چپ چاپ امریکی حکم کی تعمیل کردی گئی ہے۔ ان کے خلاف پاکستان کی پولیس اسٹیشنوں اور عدالتوں میں کتنے مقدمات ہیں۔ کیا وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ کیا پاکستان کے سیکورٹی ادارے خود مختار نہیں ہیں کیا پاکستان کی پارلیمنٹ آزاد اور نمائندہ نہیں ہے۔ کیا یہ اسکے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا کہ اگر امریکہ یا اقوام متحدہ نے ایسا کوئی حکم دیا بھی ہے تو اس پر پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے بحث ہی نہ کریں۔ کیا اس سے یہ صاف صاف نظر نہیں آگیا کہ بھارت اپنا سفارتی دباؤ بڑھانے میں کامیاب رہا ہے پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہورہا ہے۔ اگر حافظ محمد سعید واقعی ایسی خطرناک سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ تو پاکستانی عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستانی قوانین کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں صرف اپنے دفاع کو ہی نہیں۔اپنی سفارت کاری کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کی مسلح افواج جس سرفروشی کے جذبے سے سرشار ہیں ان کی ایک اک رگ میں پاکستانیت خون کی طرح دوڑ رہی ہے۔ ہماری وزارت خارجہ۔ پارلیمنٹ اور دوسری وزارتوں۔ یونیورسٹیوں کو بھی اسی پاکستانیت کا مجسم مرقع بننا ہوگا۔ بھارت سے ہمارا مقابلہ تعلیم میں بھی ہے۔ تہذیب میں بھی۔ معیشت بھی۔ فنون لطیفہ میں بھی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو ہر شعبے میں مستحکم بنائیں۔ یونیورسٹیاں اپنا کردار ادا نہیں کررہی ہیں۔ میڈیا پاکستانیت نہیں اُبھار رہا ہے۔تذبذب اور انتشار پھیلارہا ہے۔ پاکستان میں مجموعی ترقی کی ضرورت ہے۔موٹر وے۔ شاہراہیں یقیناًبہت فائدہ مند ہیں۔ شاہراہیں ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن یہ شاہراہیں۔ جدید ترین علوم کی بھی ضروری ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترکی۔ ملائیشیا وغیرہ میں جو ترقی ہوئی ہے۔ اسکا ایک سبب منتخب حکمرانوں کو دو تین میعا دیں مسلسل ملنا ہے۔ مہاتیر محمد اور ادھر طیب اردگان اپنی قوم کو ترقی کی شاہراہ پر لے جانے میں کامیاب اسی لیے ہوئے تھے کہ وہ ایک سے زیادہ بار حکمرانی کرسکے تو کیا میاں نواز شریف کو 2018کے بعد ایک اور موقع ملنا چاہئے۔ لیکن کیا وہ میٹرو اور موٹر وے کے ساتھ ساتھ ترقی کے دوسرے راستے بھی اختیار کررہے ہیں۔ ہم نے ملتان والوں کو میٹرو کی مبارکباد دی۔ ملتان۔ لاہور۔ اور اسلام آباد پنڈی والوں سے پوچھا کہ میٹرو سے انہیں کتنی سہولت ملی ہے۔ سب نے کہا کہ سفر آرام دہ بھی ہوا ہے۔ اور وقت کی بچت بھی ہوئی ہے لیکن سب نے کہا ہے : اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ملتان سے ’اوصاف‘ کے مستقل قاری استاد اور قابل قدر دانشور جناب خادم ہاشمی نے زحمت کی اپنا تبصرہ عنایت کیا۔ میں یہاں آپ کے ملاحظے کے پیش کررہا ہوں۔ جو موجودہ حکومت کی صرف ایک سہولت پر سوئی اٹک جانے سے دیگر بڑے مسائل کو نظر انداز کیے جانے کی طرف توجہ دلارہا ہے ۔ شاہراہوں کی تعمیر بہت نیک کام ہے۔ لیکن اگر تعلیم ۔ صحت۔ ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اسی تناسب سے توجہ نہیں دی جارہی ہے تو اربوں روپے کی سڑکیں اور بسیں بیماریوں۔ پیاس اور بھوک کے دھوئیں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ خادم ہاشمی صاحب فرماتے ہیں: ’’اگر گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو اور صاحبِ خانہ قرض پر عمدہ کپڑے اہل و عیال کے لیے لائے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ پاکستان کا مسئلہ محض شاہراہیں، ٹرانسپورٹ اور دوسرے عظیم منصوبوں کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ ہے اور بغیر’’ منصوبہ سازی‘‘ کے بڑے بڑے منصوبے اور وہ بھی ادھار لے کر بنانا ہے۔ ٹرانسپورٹ ہی کو لیں۔ ملتان کی بیشتر تعلیمی درسگاہیں ایک ہی سڑک بوسن روڈ کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے کھلنے اور بند ہونے کے وقت بے پناہ ہجوم ہوتا ہے۔ اور باقی ماندہ بیشتر وقت یہ سڑک تقریباً خالی رہتی ہے۔اگر تعلیمی اداروں کا معیار یکساں ہو اور وہ شہر کے ہر حصے میں موجود ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ کہیں ٹریفک کا ہجوم نظر آئے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ شہر کے معروف کالج یا ہائی سکول سے اگر کوئی استاد شہر ہی میں کسی دوسرے ادارے میں تبدیل کیا جائے تو وہ جانے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ اس کا ’’سٹیٹس‘‘ کم تر ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔یہی صورتِ حال اسپتالوں کی ہے۔ اس شہر میں نشتر میڈیکل کالج میں دوردراز سے لو گ علاج کے لیے آتے ہیں۔ بعض معمولی امراض کے علاج کے لیے شہر اور بیرون شہر موجوداسپتالوں میں سہولتیں میسر ہوں تو مریض بڑے اسپتالوں کا رُخ کیوں کریں۔ اس شہر میں میٹرو بس بنا دی گئی ہے۔ حکومت کا شکریہ، مگر جس طرح اس بس کے راستے کے لیے سڑکیں کشادہ کی گئی ہیں، اگر اس سے کم کشادہ کی جاتیں اور خصوصاً بوسن روڈ کے متوازی کسی گلی کو چوڑا کرکے متبادل راستہ فراہم کیا جاتا اور شہر میں سو دو سو ڈبل ڈیکر بسیں چلادی جاتیں تو شاید میٹرو سے زیادہ سہولت میسر آتی۔ میری رائے میں جب ہمارے ملک کی بیوروکریسی کسی حکمران سے عاجز آجاتی ہے تو اُس سے چھٹکارا پانے کے لیے بھی اُلٹے سیدھے کارنامے اُن سے کراتی ہے۔ ایوب خان کی اپنی کارگزاری کی تشہیر کے لیے دس سالہ جشنِ حکومت ، منانا، ذوالفقار علی بھٹو سے قبل از وقت انتخابات کرانا اور اُسے اور اُس کے حواریوں کو بلا مقابلہ کامیاب کرانا، محمد خان جونیجو کو وزارتِ عظمیٰ سے برخواست کرانا، وغیرہ ایسے کارناموں کی مثالیں ہیں۔‘‘ آپ کا کیا خیال ہے ۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved