مہتاب خان کی والدہ کا انتقالِ پُرملال
  7  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
''ماں کی محبت کے بحرِ بے کراں میں…میں نے کراں تابہ کراں،اس کی آنکھوں کو ڈوبا ہوا پایااس کی چشم تر میں ماں کی عقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر یوں موج زن تھا جیسے چاند کی چودھویں رات کو مدوجزر کے نظارے اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ اس کے چہرے پر لکھی ہوئی ایک تحریر کو میں دیر تلک پڑھتا رہا۔ جبین ناز پر ابھرتے ہوئے تیور، رخِ روشن پر بل کھاتی ہوئی شکنیں ماں، ماں کی حسین صدائوں کا ابلاغ کر رہی تھیں۔ رخسار ماں کی تصویر بنے ہوئے تھے اور لب ماں کے قدموں تلے مچلتی جنت کے بوسے لے رہے تھے۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر مجھے ماں کی عظمت کے فسانے سنا رہا تھا۔ ترانے سنا رہا تھا۔ اس کی گفت گو کا لفظ لفظ عظمتِ مادر کی خوشبوئوں میں اٹا ہوا تھا۔ حرف حرف معطر تھا اور زیروزبر بوستانِ ادب کی ہوائوں میں گندھے ہوئے تھے۔ جب بھی اس کے ہونٹوں پر ماں کا لفظ مچلتا تو یقین جانئے اس کی آنکھوں میں ستارے ٹوٹنے لگتے۔ میں نے اسے ماں کے چہرے پر لکھی ہوئی سورہ جمال کی تلاوت کرتے ہوئے پایا! مجھے یوں لگ رہا تھا کہ ماں کی عظمت جیسے آج ہی مجھ پر آشکار ہو رہی ہو۔ یہ ایک آفیشل میٹنگ تھی، میں اس شخص کے سامنے کچھ اہم دفتری امور کے سلسلہ میں ہدایات لینے کے لئے بیٹھا تھا کہ گفت گو کے دوران وہ میٹنگ ماں کی محبت کے موضوع میں بدل گئی۔ میرے کام ادھورے رہ گئے مگر اس دِن میں تکمیل کے مراحل میں داخل ہو گیا۔ میری زیست کی مسافتیں منزل بن کر میرے پائوں سے لپٹ گئیں اور میری زندگانی کے اہداف بدل گئے۔ اس شخص نے مجھ پر ماں کی عظمت کے نئے نئے در وا کئے۔ وہ یوں گویا ہوا کہ میری زندگی کی تمام تر کامیابیاں میری ماں کی دعائوں کے طفیل ہیں۔ ماں کی عظمت و رفعت افلاک کی وسعتوں سے بڑھ کر ہے۔ اس کے پائوں کی دھول میں پھول اُگتے ہیں،کلیاں مسکراتی ہیں۔ ماں ایسا راگ ہے جس کی لے اور لوری زخموں کی چبھن کو چُن لیتی ہے۔ ایک ایسا چمن ہے جس کے پھولوں کی رنگت کبھی ماند نہیں پڑتی، ماں کی پیشانی میں نور، اس کی آنکھوں میں ٹھنڈک، اس کی باتوں میں محبت اس کے لہجے میں چاشنی۔ اس کے دِل میں رحمت، اس کے ہاتھوں میں شفقت۔ اس کی آغوش میں سکون اور اس کے پیروں میں جنت ہے۔ وہ سلسلہ کلام بڑھاتا چلا جا رہا تھا اور کہتا چلا جا رہا تھا کہ ماں کی عظمت کا اعتراف خالق نے مخلوق سے اِس طرح کروایا کہ خدا کی بندگی اور رسولۖ کی پیروی کے بعد اطاعت و فرماں برداری اور خدمت گزاری کا سب سے بڑا درجہ کسی کو حاصل ہے تو وہ ماں ہے جس کو صرف محبت بھری نظر سے دیکھ لینے سے حج مبرور کا ثواب مل جاتا ہے۔ وہ کوزے سے سمندر کی موجیں نکال نکال کر میرے سامنے رکھ رہا تھا اور میں انہی موجوں سے لپٹ لپٹ کر خود کو محظوظ کر رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ اگر ساری دنیا کی مائوں کو اِس شخص جیسے بیٹے عطا ہو جائیں تو اِس دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے۔ میں نے اس دِن یہ فیصلہ کیا کہ اب کے بار جب مائوں کی عظمت کا عالمی دِن منایا جائے گا تو میں اس شخص کے خیالات و نظریات کو ضرور طشت ازبام کروں گا۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ ماں سے محبت کے اظہار کے لئے کسی ایک دِن کو مختص نہیں کیا جا سکتا۔ سال میں ایک دِن منا لینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اِسلام تو ہر دِن اور ہر لمحہ ماں کی عظمت کے گُن گانے کا درس دیتا ہے۔ اور ماں کی خدمت کو ثواب قرار دیتا ہے۔ اس شخص نے اس دِن مجھے یہ بھی بتلایا کہ ماں زمین پر خدا کی محبت کا چلتا پھرتا روپ ہے۔ اس شخص نے مجھ پر یہ راز بھی آشکار کیا کہ جہاں ماں کا ذکر آ جائے! سمجھ لینا کہ ادب کا مقام آ گیا ہے۔ قارئین! ماں کی عظمت کا یہ درس مجھے جس شخص نے دیا اس شخص کا نام مہتاب خان ہے۔ جو روزنامہ اوصاف کے مدیراعلی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ساری دنیا کی مائوں کو مہتاب خان جیسے بیٹے عطا کرے اور ساری دنیا کے بیٹوں کو مہتاب خان کی ماں جیسی ماں عطا کرے۔ جس کی آغوش میں پل کر جواں ہونے والے بچے کوبہ کو ماں کی عظمت کے ترانے گاتے ہوئے پائے جائیں۔ نکلیں پھر ان کی گود سے پل کر وہ نوجواں جن کو خدا پہ ناز ہو، جن پر خدا کو ناز مگر میں نے مہتاب خان کے لبوں پر ہمیشہ یہ الفاظ مچلتے ہوئے محسوس کئے ہیں کہ۔ تو جب بھی پکارے گا، جاں تجھ پہ واروں گا لیکن! میرے مولا! میری ماں کو سلامت رکھنا!'' قارئین کرام! میری یہ تحریر 8 مئی 2016ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ آج آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہیں 7 فروری 2017ء کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ آج وہ بیٹا ماں کے سایہ سے محروم ہو چکا ہے۔ اُس کے لبوں پر ماں کی سلامتی کے لئے جاری دُعائیں اب ماں کے درجات کی بلندی کے لئے بدل چُکی ہیں۔ خدائے خالق کے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہے۔ گزشتہ روز مہتاب خان کی والدہ ماجدہ اِس دُنیائے فانی سے ناطہ توڑ کرہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے آسمانی آقا کے حضور پیش ہو گئیں۔ اِس غمزدہ خبر نے فضا کو سوگوار کر دیا۔ رنجیدہ آنکھیں اشکبار ہوئیں ماں کا سایہ سر سے جُدا ہوا تو عدم تحفظ کا احساس دامن گیر ہو گیا۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ مہتاب خان صاحب کی تمام تر کامیابیوں اور کامرانیوں کا اصل سرچشمہ اُن کی والدہ کی وہ مضطرب دُعائیں تھیں جو وہ اپنے بیٹے کے لئے بارگاہ ایزدی میں تڑپ تڑپ کر کیا کرتی تھیں۔ آج عالم یہ ہے کہ مہتاب خان سے اُن کی ماں بچھڑ گئی ہے۔وہ دُعا بچھڑ گئی ہے۔ایک ایسی دُعا کہ جب وہ وقت کے عظیم الشان نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بچھڑی تھی تو کوہِ طور کی چٹان چڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو خبردار کیا تھا کہ اے موسیٰ! آج ذرا دھیان سے چڑھنا۔ آج تمہارے ساتھ تمہاری ماں کی دُعا نہیں ہے۔ ماں کی دُعا ایک عظیم الشان نعمتِ الٰہی ہے۔ اِسی لئے ماں کو خدا کا رُوپ قرار دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ مہتاب خان صاحب کی والدہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) لوگوں نے تو ایک جنازہ اُٹھتے دیکھا میں نے اُس کے گھر سے جاتے رب کو دیکھا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved