راجہ گدھ اور پرجا
  13  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک راجہ گدھ کا کیا رونا یہاں تو ہر طرف حرام پر پلنے والے گدھوں کی یلغار ہے اور ہر گدھ راجہ، پھر بھی نجانے بھولے لوگ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک مذہبی اور جمہوری ملک ہے۔ جہاں غربت انصاف کی دہلیز پر سسکتی اور امارت روندتی چلی جاتی ہو، پانی آلودہ اور کھانے کی اشیا زھریلی ملاوٹ کا شاہکار ہوں، شہری معمول کے علاج کو ترسیں، امرا کے معمولی امراض کا علاج یورپ اور امریکہ میں ہو۔ ارباب اختیار کی نسلیں اعلی ترین عالمی درسگاہوں میں پڑھیں اور عام پاکستانی بچہ چٹائیوں پر بھی تعلیم سے محروم ہو۔ عصمتیں لٹتی ہو، بچوں سے بدسلوکی کی جاتی ہو، دن دھاڑے لوگ غائب ہو جاتے ہو، مظلوم تڑپتا رہے ظالم آزاد ہو تو بھلا ایسی ریاست کو مذھبی یا جمہوری قرار دینا بھولپن کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ مذہب کی بنیاد انسانیت اور جمہوریت کی اساس عوام ہوتے ہیں، اگر یہی دونوں صفات غائب ہوں تو صرف منافقت باقی رہ جاتی ہے۔ ذرا اطراف میں نظر ڈالیے ہر کوئی پاکستان کی برائی کرتا نظر آئیگا مگر کوئی اپنے گریبان میں جھانکنے کیلئے تیار نہیں۔ پاکستان نے تو وہ سب کچھ دیا جو شاید تصور میں بھی نہ تھا مگر ہم نے سب برباد کر ڈالا اور پھر رونا بھی پاکستان کا، کیا خوب بات ہے۔ اپنی خرابیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا عام چلن بن چکا ہے، حکومت ہو یا ادارے، عوام ہوں یا خواص، سب اسی عادت کے اسیر ہیں۔ مذھب اور جمہوریت کے نام پر عوام الناس کا استحصال بھی کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ بانو آپا کے راجہ گدھ کی بنیاد حرام اور حلال پر تھی، حقیقت تو یہ ہے کہ حرام اور حلال کا معاملہ صرف انسان تک محدود نہیں بلکہ نسلوں تک جاتا ہے۔ شاید اس سے بڑی بات یہ بھی ہے کہ حرام اور حلال کا فلسفہ کھانے پینے تک ہی محدود نہیں بلکہ حرام سوچ اور عمل بھی پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ جہاں ٹریفک سگنل توڑنے کو حلال سمجھا جاتا ہو، جھوٹ، غیبت اور دوسرے کی کاٹ کرنا اسمارٹنس کی نشانی ہو۔ رشوت لینا حرام اور دینا حلال ہو۔ استظاعت کے باوجود کسی مجبور کی امداد، مظلوم کا ساتھ نہ دینا اور میرٹ، حق اور حقوق العباد کا خیال نہ رکھنے کو حرام نہ سمجھا جاتا ہو، تو پھر یہی کچھ ہو گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود جو چاہیں کریں مگر دوسرا کرے تو برا، حلال اور حرام پر فتوے تو ہر آدمی دیتا نظر آئیگا مگر خود احتسابی سے مبرا، قانون پر کوئی عمل کرنا نہیں چاہتا اور قانون شکنی کا رونا بھی روتا ہے۔ نماز، روزہ بھی کرتے ہیں اور حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے کو بھی درست جانتے ہیں۔ جس کو جہاں جتنا موقع ملتا ہے ہیرا پھیری، قانون شکنی، کرپشن، اقربا پروری اور غریب کا استحصال کرتا ہے ساتھ ہی دوسروں کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا درس بھی دیتا ہے۔ خود کو قانون، احتساب اور اخلاقیات سے بالاتر سمجھنے کی سوچ نے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر ڈالا۔ جہاں سیاستداں این آر او میں گنگا اشنان کرتے ہوں، معاہدوں کو قران و حدیث نہ قرار دیکر دھوکہ دہی کرتے ہوں، پارلمینٹ کے خطاب کو سیاسی قرار دیکر حقیقت پر دھول ڈالتے ہوں، کرپشن کے حمام میں سب کے سب بے ستر ہوں، سیاست میں اخلاقیات کا روز جنازہ اٹھتا ہو۔ جہاں عدالت عظمی کا گھیراؤ کیا جاتا ہو، عدالتی فیصلوں کو ہوا میں اڑایا جاتا ہو بھلا وہاں انصاف پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں عدالتیں چیختی رہیں اورنج ٹرین منصوبے پر، ڈی ایچ اے اسکینڈل پر، لاڑکانہ میں ترقیاتی فنڈز میں خرد برد پر، تھر میں بچوں کی ہلاکتوں پر مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگے۔ کوئٹہ دھماکے کی رپورٹ جاری ہونے پر وزیر داخلہ برہم تو بہت ہوں مگر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب ان کے پاس بھی نہ ہوں، جہاں منصف کیے بیٹے اغوا ہو جاتے ہوں تو بھلا لاپتہ افراد کے سوال کا جواب کیونکر مل سکتا ہے۔ جہاں صحت، تعلیم اور غربت کو کاروبار سمجھا جاتا ہو، 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہوں، 1000 میں سے 86 بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے موت کا شکار بن جاتے ہوں۔ 1400 سے زائد افراد کیلئے ایک ڈاکٹر، 23 ہزار افراد کیلئے ایک ڈینٹل ڈاکٹر دستیاب ہو، 25 سے 30 فیصد افراد مناسب علاج کرانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ سالانہ 60 ہزار افراد تپ دق کے ہاتھوں جان سے جاتے ہوں۔ دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے باوجود پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو جن پر سفری پابندیاں عائد ہوں۔ ایسے ملک میں اعلی مراعات یافتہ طبقہ معمولی علاج کیلئے برطانیہ، امریکہ، جرمنی کے مہنگے اسپتالوں کو رخ کرتا ہوں۔ جہاں ڈھائی کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہوں۔ گزشتہ دہائی میں تعلیم کا بجٹ 2.6 فیصد سے کم ہو کر 2.3 فیصد پر آ گیا ہو اور عالمی تعلیمی درجہ بندیوں میں 120 ممالک میں ملک 113 کے درجے پر آتا ہو۔ ایسے ملک کا مقتدر اور طبقہ امرا آکسفورڈ، کیمبرج، ایم آئی ٹی اور دیگر عالمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتا ہو۔ جہاں عام انسان دن بدن غربت کی دلدل میں دھستا جا رہا ہو، ملک میں 5 کروڑ 90 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، 90 کی دہائی میں غربت کی شرح 26.1 فیصد تھی، 2000 میں یہ شرح 32.3 تک پہنچی اور 2016 میں تقریبا 34 فیصد ہو چکی ہے، ایسے ملک میں لندن کے عالیشان فلیٹس اور سرے محل جیسی جائیداد والے غریبوں کو ترقی کے سبز خواب دکھا دکھا کر اقتدار کا کاروبار کرتے ہوں، ایسی جمہوریت کو کیا کہا جائے؟ کیا آپ کو یقین آئیگا یہ وہی ملک ہے جو 60 کی دہائی میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز تھا، اسے مستقبل قریب میں ایشیا کا تجارتی مرکز قرار دیا جا رہا تھا۔ جس ملک نے ساٹھ کی دہائی میں جرمنی کو 12 کروڑ کا قرضہ دیا تھا، جس کے پنج سالہ منصوبے کو جنوبی کوریا نے اپنایا تھا۔ مگر آج اس جیسے قدرتی وسائل نہ ہونے کے باوجود ساتھ آزاد ہونیوالے ممالک کہیں آگے ہوں۔ ملائشیا کی فی کس آمدنی 26 ہزار ڈالر، انڈونیشیا کی 12 ہزار ڈالر، جنوبی کوریا 35 اور اسرائیل کی 34 ہزار ڈالر جبکہ پاکستان کی صرف ساڑھے 3 ہزار ڈالرہے۔ ذرا غور فرمائیں تو واضح ہو جائیگا کہ پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا مگر ہم قدر نہ کر سکے۔ جب تک عوام میں حلال و حرام کی تفریق قائم رہی، ترقی اور خوشحالی کا راج رہا مگر بعد میں راجہ گدھ کی ہوس سب نگل گئی۔ کہا جاتا ہے کہ حکمراں نا اہل اور بدعنوان ہو تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، اب ذرا اسے دوسرے تناظر میں بھی دیکھیئے رب کائنات سے بڑا منصف کوئی نہیں، تاریخ کھنگال ڈالیں خداوند عظیم نے کسی امین اور باکردار قوم پر خائن اور بدکردار حکمراں مسلط نہیں کیا۔ جب تک ہماری قوم ایماندار تھی تو قیادت بکھری ہونے کے باوجود خیانت اور بدکرداری کی جرات نہ کر سکی۔ اب جیسی پرجا ویسا راجہ، جب قومیں باکردار نہیں رہتیں تو گدھ ہی راج کرتے ہیں۔ چلتے چلتے ایک مودبانہ درخواست ہے کہ پاکستان کی برائی کرنے سے پہلے بس ایک بار اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں کہیں کوئی راجہ گدھ تو نہیں بیٹھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved