آہ! کی فریاد نے بربط کا جگر چیر دیا
  13  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جورو جفا کی نگری اور جبر و ریا کے دیس میں قلم کو جنبش دینے سے قبل خیال کی کلائی کو موچ آجاتی ہے۔ نگاہ کے زاویے ہراساں دکھائی دیتے ہیں۔ جب قدم قدم پر خدائے بزرگ و برتر کی فضیلت تڑپتی ہوئی دکھائی دے تو گمان ہونے لگتا ہے کہ اس جہان میں ایک اور فرعون نے آنکھ کھول لی ہے۔ جب خون سیاہی میں تبدیل ہو کر قرطاس ابیض کے سینے پر رقم ہونے لگے تو پروردہ قوانین کے ایوانوں سے بیڑیاں گُھورنے لگتی ہیں۔ زنجیریں صدائیں دیتی ہیں مگر دل کی بات نوکِ قلم پر آتے آتے زنجیروں کی صدائیں بے صوت اور بیڑیوں کی نظریں چندھیا جاتی ہیں۔ اہل قلم لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹ سکتا ہے تو نوکِ قلم سے بیڑیوں کی کڑیاں بھی کٹ سکتی ہیں اور غلامی کی زنجیریں بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر کے اہل قلم مسلمانوں نے کس طرح زورِ قلم سے غلامی کی زنجیریں ہمیشہ کیلئے کاٹ دیں۔ تب زنجیریں کاٹتے وقت اس بات کا عہد کیا گیا تھا کہ سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی کوئی شام اب اس خطۂ ارض پر ’’برپا‘‘ نہیں ہونے دی جائے گی۔ اب کوئی ’’قاتل‘‘ اس سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکے گا۔ کسی ’’سوداگر‘‘ کو ادھر کا رُخ نہیں کرنے دیا جائے گا‘ اس پاک سرزمین پر اب کسی جاگیر کے بدلے کوئی ’’بے چاری‘‘ فروخت ہوگی اور نہ ہی اس ارضِ پاک کی کوئی کیاری بیچی جائے گی۔ تب سے لیکر اب تک ’’درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی شامیں اس قوم کا مقدر بنتی چلی گئیں اور اُن شاموں کی آغوش میں سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان کانچ کی چوڑیوں سے بھی سستی ہو کر بِکنے لگی۔۔۔مٹی کی پہچان نیلام ہونے لگی۔۔۔سرمائے کے قحبہ خانوں میں ایمان ۔۔۔اقتدار کے قمار خانوں میں سلطان۔۔۔ بِکنے لگے ۔۔۔اور خرید و فروخت کا یہ سلسلہ اُس ہوشربا داستان کی طرح آج تلک ’’جاری ہے‘‘ جس داستان کا اختتام موت کے آخری ورق پر ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ وار داستان اب اپنی اُس قسط میں داخل ہوچکی ہے کہ تعمیر کے لباس میں ملبوس روشن خیالی کے چہرے پر تخریب کے بادل سایہ فگن دکھائی دے رہے ہیں۔ گلی گلی میں وحشتیں ناچ رہی ہیں۔ نگر نگر میں جنگل پھیل چکے ہیں۔ وہ نرم و نازک اور ملائم راہیں جن کی خاک نے قائداعظم ؒ کے پاؤں کے تلوے چاٹے تھے‘ آج انہی راہوں پر گوروں کے جُوتوں کی خراشیں پڑنے لگی ہیں اور آج قائداعظم کی روح سے 20کروڑ نفوس پر مشتمل یہ قوم مجبور ہو کر یہ سوال کرتی ہے کہ اے بانی پاکستان! ’’یہ کس کا پاکستان ہے؟‘‘ کیا یہ مغرب کے ’’مہذب‘‘ ملکوں کے عیار حاکموں کے اشاروں پر ناچنے والے ’’سیاست دانوں‘‘کی دھرتی ہے؟ یا یہ اٹھلاتے ہوئے مغروروں اور لہراتے ہوئے مدہوشوں کا وطن ہے؟ یہ جلوت میں پردہ داری اور خلوت میں برہنہ رقص کرنے والوں کا پاکستان ہے یا جبرِ مسلسل کرنے والوں کا وطن ہے؟ یہ اسلحہ بردار مُلاں کی سلطنت ہے یا محمدؐ عربی کے اسوۂ حسنہ پر چلنے والے تحمل مزاج اور بُرد بار مومنین کی آما جگاہ؟ یہ عدل کی کرسی پر بیٹھنے والے کسی عادل کی غیر منقولہ جاگیر ہے یا برس ہا برس سے انصاف کیلئے ترستے ہوئے مظلوموں کی پناہ گاہ؟ یہ ستم گروں کا پاکستان ہے یا ستم رسیدہ روحوں کا قبرستان؟ یہ عرش نشینوں کا وطن ہے یا خاک بسر انسانوں کی بستی؟ اے قائداعظم ؒ کی روح! اپنی روحانی آنکھیں کھول اور دیکھ کہ یہاں ’’انصاف‘‘ کو آگ لگی ہوئی ہے‘ جس کے شرارے اسلام آباد سے لیکر بے آباد بستیوں تک پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ اے بانئ وطن ! عالمِ برزخ کے پردے چاک کرکے اس سرزمین پر نظر دوڑا کہ تیرے اس پاک۔۔۔ستان۔۔۔ میں انسان کی قیمت گرنے لگی ہے۔۔۔اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگے ہیں۔۔۔کھلیانوں میں بھوک اُگنے لگی ہے۔۔۔ بازاروں میں دھول اُڑنے لگی ہے۔۔۔بستیوں پر اُداسی چھانے لگی ہے۔۔۔باسیوں پر مایوسی چھا چکی ہے۔ افلاس زدہ دہقانوں کے (جینے کی تمنا کے ہاتھوں) جینے کے سامان بِک رہے ہیں اور ستمگروں کے سیاسی قمار خانوں میں وہ ’’جسارتیں‘‘ جلوت میں جلوہ افروز ہو رہی ہیں جو خلوت میں بھی ممنوع قرار پاتی ہیں۔ اے چارہ گر! اپنے مرقد سے باہر نکل کر دیکھ کہ تیری قوم اتنی بے بس ہوگئی ہے کہ ضمیروں کے قاتل اسے خرید رہے ہیں۔ یہاں ہر جینے والے کی سانسوں میں چتائیں جل رہی ہیں۔ حقائق زاروں میں خوابوں کی تعبیریں۔۔۔شاخوں کی ردائیں۔۔۔پھولوں کی قبائیں۔۔۔ سوزِ تصورات میں تصویریں ۔۔۔اور بسمل کا رقص دیکھ کر شمشیریں جل رہی ہیں۔ اے قائدؒ ! تیرے پاکستان میں اب یہ عالم ہے کہ عصمتوں کی تجارت تو پسِ دیوار ہوتی ہے مگر ضمیروں کا سودا سر بازار ہوتا ہے۔ تیرے پاکستان میں حوادث رقص کر رہے ہیں۔۔۔قیامتیں مسکرا رہی ہیں۔۔۔کہیں پر پازیب کی چھن چھن میں مجبوریاں تڑپتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں مجبور تقدس کے سہارے ’’دیرو حرم‘‘ کے خداؤں سے سسکیاں لپٹ لپٹ کر رو رہی ہیں۔ نہ جانے یہ قوم کے شامتِ اعمال کا نتیجہ ہے یا پھر ابتلاؤں کی کٹھن گھڑیاں ۔۔۔کہ کبھی حالات ظالم ہوجاتے ہیں تو کبھی تدبیر سفاک دکھائی دیتی ہے۔ہم 20کروڑ نفوس40کروڑ ہونٹوں سے تجھے آگاہ کرتے ہیں کہ اب تیرے اس پاکستان سے کچھ ہونے والا ہے (خدا نہ کرے)کیونکہ آج یہاں یوسف کو خریداروں کے ساتھ اپنے ہی دام طے کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔۔۔اور یہ دیکھ کر آہ کی فریاد نے بربط کا جگر چیر دیا ہے۔ اے پونجا جناح کے لختِ جگر کی رُوح سُن! یہاں مسجدوں سے بغاوت کی صدائیں بلند ہونے لگی ہیں۔ آج یہاں ایک عالمِ دین کے ہاتھوں میں قرآن کے بجائے کلاشنکوف دیکھی گئی ہے۔ اب یہاں نہ چادرمحفوظ ہے نہ چاردیواری ۔۔۔اور دوسری طرف ساقئ قوم نے قوم سے فصلِ بہار کا جھوٹ بولا ہے جبکہ گلشن میں آگ کی انگڑائیاں تپتی ہوئی محسوس کی جارہی ہیں۔ اے قائدؒ ! یہاں گرانی کی زنجیر نے پوری قوم کے پاؤں جکڑ رکھے ہیں ۔۔۔اور وطن کا مقدر گھٹاؤں میں ہے۔ آج تیرے اس پاکستان میں پھر دو قومیں بن گئی ہیں۔ ایک قوم حاکم ہے تو دوسری محکوم۔۔۔ اور دونوں قومیں تجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ یہ کس کا پاکستان ہے؟ اے قائد! جواب دیجئے تاکہ کوئی فیصلہ ہوسکے کیونکہ اگر یہ صرف کرپٹ سیاستدانوں کا پاکستان ہے تو پھر خاک نشین یہاں سے ہجرت کر جائیں۔۔۔اگر یہ اسلحہ بردار مُلاں کا پاکستان ہے تو پھر نہتے مومنین کہیں اور کا رختِ سفر باندھ لیں۔۔۔اگر یہ صرف منصفوں کا ملک ہے تو پھر انصاف کے طلبگار یہاں سے کوچ کر جائیں کہ پاکستان میں سبھی کچھ ملتا ہے صرف انصاف نہیں ملتا۔۔۔ اور اگر یہ ستمگروں کا پاکستان ہے تو پھر ستم رسیدہ روحیں کوئی اور بستی آباد کرلیں اور اگر یہ اُن راہبروں کا پاکستان ہے جو ہر پڑاؤ پر اپنے ہی قافلے کو لوٹ لیتے ہیں تو پھرقافلے اپنی مسافتوں کا رُخ موڑ لیں یا اپنے رہبروں کا رُخ موڑ دیں۔ قائدؒ ! تجھے خبر ہو کہ تیرے پاکستان میں اب یہ تذکرے زبانِ زدِ عام ہیں کہ راہزن آدمی‘ راہنما آدمی بارہا بن چکا ہے‘ خدا آدمی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved