ایک دن کشمیر ضرور آزاد ہوگا
  13  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
کشمیر کے حسن کی تعریف صدیوں سے ہورہی ہے۔ کشمیر جنّت نظیر۔ اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است ۔ وہمیں است۔ وہمیں است اگر زمین پر کوئی جنّت ہے۔ تو یہی ہے۔ یہی ہے۔ یہی ہے۔ ریڈیو آزاد کشمیر سے ایک عرصے سے یہ سنتے آرہے ہیں۔ اے وطن۔ تیری جنّت میں آئیں گے اک دن میں بھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں ۔ وہ دن کب آئے گا۔ آپ بھی اپنے دل سے سوال کرتے ہوں گے کہ وہ دن کب آئے گا۔ میں نے گزشتہ کالم میں امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر سے اقتباس آپ کے سامنے رکھا تھا۔ بہت سے دوستوں نے اس کو سراہا۔ ابرار احمد ضلع بھکر پل شیخ راؤ سے لکھتے ہیں: عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے لوگ اب کہاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جنّت میں اعلیٰ مقام دے۔ اگر ان جیسے مخلص لوگ آج ہوتے تو کشمیر کب کا آزاد ہوجاتا۔ ابرار صاحب آپ بالکل بجا کہتے ہیں۔شاہ جی کا اندازِ خطابت۔ قوم سے ان کا خلوص۔ اسلام سے ان کی دل بستگی آج کے لیڈروں میں تو کیا علماء میں بھی نہیں ہے۔ عاطف علی چوکی آزاد کشمیر سے کہتے ہیں: آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم کشمیری بھی یہی چاہتے ہیں ۔ لیکن پاکستان کے حکمران ہمارا اچھی طرح ساتھ نہیں دیتے ہیں یہ قائد اعظم کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ عدنان فاروق میرپور آزاد کشمیر سے : جناب کوئی شک نہیں کہ اس عظیم مقرر۔ دانشور اور دور اندیش ہستی نے جو کہا تھا وہ درست کہا تھا۔ ان جیسے اگر چند لوگ اور ہوتے تو یہ خون رائیگاں نہ جاتا۔ کاش اے کاش۔ چنیوٹ سے عصمت اللہ لکھتے ہیں: آپ کی تحریر بہت ہی اچھی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مسلم امت کی خدمت کا کام لے۔ آمین۔ عصمت اللہ صاحب۔ میں بھی آپ کی دُعا میں شریک ہوں۔ اللہ سے یہی التجا ہے کہ صحت اور عزت کے ساتھ۔ اس امت مظلوم کے لیے کچھ کرنے کی توفیق دے۔ تحریک آزادی جموں کشمیر چنیوٹ سے ثناء اللہ کا پیغام ہے: آپ کا کالم بہت زبردست ہے۔اللہ آپ کو جزا دے اور ہماری دُعا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک مسلسل آپ مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔ پروفیسر جویریہ یاسمین۔ محترم استاد ہیں۔ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ تحقیق کرتی ہیں۔ ممنون ہوں ان کا پیغام ملاحظہ کیجئے: آپ کے کالم کا جواب ہم کشمیریوں کے نزدیک یہ ہے کہ ہمیں تیسرا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔ یعنی خود مختار کشمیر اس یقین کے ساتھ کہ کشمیری پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ورنہ پاکستان اور ہندوستان کا ’شریکا‘ کبھی اس کو آزاد نہیں ہونے دے گا۔ آپ کی رائے انتہائی قابل قدر ہے۔ کیونکہ پاکستان اور کشمیر دونوں کے مسائل پر آپ کی گہری نظر ہے میں نے ان کالموں میں ایک بار اس فارمولے کا ذکر کیا تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان طے ہورہا تھا۔ صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کئی ملاقاتوں کے بعد کشمیر کے لیے ایک معاہدے کے نکات طے کرچکے تھے۔ اس وقت امریکہ یورپی یونین اور اسلامی دنیا کے لیڈروں کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔ پرویز مشرف اس وقت صدر بھی تھے اور آرمی چیف بھی۔ اس لیے بھارت کو بھی اور ساری دُنیا کو یہ اعتماد تھا کہ اس فارمولے میں پاکستان کے عوام اور فوج دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس فارمولے کے چند نکات کا میں نے حوالہ دیا تھا۔ یہ شاید 10اکتوبر 2016کی بات ہے ۔ اس وقت جتنے ’اوصاف خوانوں‘ اور درد مندوں کے فون آئے۔ پیغامات آئے۔ وہ زیادہ تر اس معاہدے کے حق میں تھے کہ کشمیر کا مسئلہ پُر امن طریقے سے اسی طرح حل ہوسکتا ہے۔ اس کا انکشاف بھی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے 2009اپریل میں ایک امریکی وفد کے سامنے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اور مشرف کشمیر کے مسئلے پر ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے اور مجھے معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان جانا تھا۔ لیکن پرویز مشرف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک میں پھنس گئے۔ اس لیے میں اس معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان نہیں جاسکا تھا۔ مجھے من موہن سنگھ کے اس انکشاف نے حیرت زدہ کردیا تھا۔ کیونکہ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں اس معاہدے کے لیے کوئی بات نہیں کی جارہی تھی۔ حالانکہ اس سے نہ صرف جنوبی ایشیا کے ایک ارب سے کہیں زیادہ انسانوں کو امن میسر آتا ۔یہاں کے سارے ممالک کو خوشحالی نصیب ہوتی ۔ ویسے ہم سب سیاستدان۔ میڈیا والے اٹھتے بیٹھتے دُنیا میں خطّے میں امن و سکون کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ پھر مجھے ایسا لگا کہ پرویز مشرف کے خلاف تحریک اسی لیے چلائی گئی تھی۔دُنیا میں۔بھارت میں پاکستان میں ایسی بہت سی طاقتیں ہیں ۔ حلقے ہیں جو کشمیر کا مسئلہ حل ہی نہیں ہونے دینا چاہتے کہ اس کے حل ہونے سے ان کی دکانداری بیٹھ جائے گی۔ سابق صدر پرویز مشرف ان دنوں کراچی میں تھے۔ ان سے وقت لے کر میں صرف اس معاہدے کے بارے میں بات کرنے گیا تھا۔ماہنامہ’ اطراف‘ اپریل 2015 میں انتہائی تفصیل سے میں نے اس معاہدے کے نکات بھی دیے تھے۔ اس معاہدے کے لیے پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ سطحی نمائندے دوبئی۔ لندن۔ بنکاک میں جو ملاقاتیں کرتے رہے۔ ان کی تفصیلات اور تاریخیں بھی دی تھیں۔ 2007میں اگر یہ دستخط ہوجاتے تو دونوں متحارب ملکوں نے یہ اتفاق کرلیا تھا کہ 15سال کے لیے بھارت مقبوضہ کشمیر سے اور پاکستان آزاد کشمیر سے اپنی فوجیں ہٹالیں گے۔ دونوں کشمیروں کے شہری آزادانہ ایک دوسرے کے علاقوں میں جائیں گے۔ دونوں کے لیے ایک سپریم کورٹ اور ایک الیکشن کمیشن ہوگا۔ امریکہ ۔یورپی یونین ۔اسلامی ممالک سب اس سے اتفاق کررہے تھے اس لیے کہ دونوں پاک بھارت اپنے اپنے موقف سے نہیں ہٹ سکتے۔ جویریہ صاحبہ نے اسے بجا طور پر شریکا کہا ہے۔ اس صورت میں یہ تجربہ ہی کارگر ہوسکتا ہے۔ میں نے پرویز مشرف صاحب سے پوچھا تھا کہ من موہن سنگھ کہتے ہیں کہ آپ تحریک میں پھنس گئے۔ اس لیے وہ نہیں آئے۔ پرویز مشرف صاحب نے اپنے مخصوص قطعی لہجے میں کہا تھا کہ نہیں۔ اسے آنا چاہئے تھا۔ ہم حکومت میں تھے۔ ہماری گرفت اسی طرح تھی۔ معاہدے کے مطابق من موہن سنگھ کو دستخط کرنے آنا چاہئے تھا۔ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہ فارمولا پوری دُنیا میں زیر بحث آیا تھا۔ لیکن اب پرویز مشرف صاحب کا کہنا تھا کہ ادھر مودی جیسا مسلمان دشمن وزیراعظم ہے اور ادھر کمزور حکومت۔ اب انہیں نہیں لگتا کہ یہ معاہدہ طے پاسکے گا۔ میرا خیال اب بھی یہ ہے کہ تاریخ میں ایسا ہوا ہے۔ ایسے معاہدے پھر ماہ و سال کی گرد ہٹاکر نکالے جاتے ہیں بعد میں آنے والے حکمران ان پر دستخط کرتے ہیں۔ اب بھی اس معاہدے کی شروعات پر تو عمل ہورہا ہے۔ دونوں کشمیروں میں بسیں چل رہی ہیں۔ ٹرک چل رہے ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی امن کی صبح طلوع ہوگی ۔مسئلہ کشمیر دونوں طرف کے کشمیریوں کی باہمی رضامندی سے حل ہوگا۔ ممکن ہے یہ تیسرا راستہ ہو۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved