رچرڈ نکسن کی کتاب ( لیڈرز) سے چند اقتباسات
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) باقی افراد کی طرح لیڈر بھی اپنے معاصرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیںلیکن ان میں عموما یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ روزمرہ اور فوری نوعیت کے معاملات کے اوپر سے مشاہدہ کرتے ہیں گویا وہ پہاڑ پر بیٹھ کر واقعات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ حال میں زندہ ہوتے ہیں ماضی سے بے بہرہ اور مستقبل سے بے نیاز ہوتے ہیں کچھ ماضی میں پناہ لے لیتے ہیںبہت کم میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی مدد سے حال کی تعمیر یوں کرتے ہیں کہ مستقبل کے راستے نظر آنے لگتے ہیں۔ عظیم لیڈروں میں یہ عادت موجود ہوتی ہے۔ آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے لوگ لیڈروں کو (اصولوں کی پاسداری) کا سبق دیتے ہیں کہ وہ( سیاست دان بننے کی بجائے سٹیٹسمین )بنے اور کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔ لیکن اصل دنیا میں سیاست سمجھوتے کا نام ہے اور جمہوریت سیاست ہے جو کوئی بھی سٹیٹسمین بننا چاہتا ہے اسے پہلے کامیاب سیاست دان بننا ہوگا، کیونکہ کسی لیڈر کو عوام اور اقوام کے موجود سے نبھا کرنا ہوتا ہے ان سے متعلق نیک خیالات سے نہیں تیزی طراری خودنمائی پینترے بدلنا وغیرہ عام حالات میں غیر پر کشش صلاحیتیں ہو سکتی ہے لیکن ایک لیڈر کے لئے یہی صفات لازم ہے۔ یہ بھی لازم نہیں کہ (بڑا) لیڈر اچھا بھی ہو، ایڈ ولف ہٹلر نے ایک قوم میں بجلی دوڑا دی،جوزف سٹالن کو اختیار پر ملکہ حاصل تھاہوچی منہ اپنے ملک ویت نام سے باہر بھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن گیا ۔ لیڈر شپ بذات خود اخلاقی طور پر غیر جانبدار ہوتی ہے اسے اچھے برے دونوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح روس کا پیٹر اعظم ایک ظالم حاسد حکمران تھا جولئیس سیزر ، سکیندر اعظم اور نپولین اپنے سیاسی و ریاستی تدبر کیوجہ سے نہیں بلکہ اپنی فتوحات کی بناء پر نامور ہیں لیڈر کی مثال بالکل اس داستان جیسی ہے جس میں تین اندھے انسان ہاتھی کو اپنے اپنے تجربے کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہر کوئی کسی ایک عضو کو چھوتا ہے اور اسے ہی ہاتھی سمجھتا ہے اسی طرح لیڈر کا ہر ناقد ، ہر مبصر ، ہر دشمن ، ہر دوست اس کے کسی ایک پہلو سے آشنا ہوتا ہے اور دوسرے پہلووں کو فراموش کرتا ہے۔ منیجروں کا مقصد چیزوں کو صحیح رکھنا ہوتا ہے جبکہ قائدین کا مقصد صحیح چیزیں کرنا ہوتا ہے۔ایک طرح سے انتظام و انصرام نثر ہے اور قیادت شاعری ،عظیم قیادت میں عظیم بصیرت ہونی چاہیے ایسی کہ جو خود قائد کو تحریک دلائے اور اس قابل بنائے کہ وہ قوم کو متحرک کر سکے ۔ لوگ بڑے راہنماء سے نفرت و محبت دونوں کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوا ہے کہ وہ اس سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرے۔ ٹی وی کیوجہ سے عوام کی توجہ زیادہ اور دیکھنے کی عادات بدل چکی ہے ٹی وی حقائق کو مسخ کرتا ہے آج جو مختصر خبریں پیش کی جاتی ہے وہ اصل زندگی کی عکاس نہیں ہے یہ مسخ شدہ آئینے ہیں حقیقی زندگی میں نہ تو ابتدایئے دورانیے اور اختتام ہوتے ہیں اور نہ ہی واضح طور پر اچھے یا برے لوگ پائے جاتے ہیںلیڈر حضرات ہفتوں تک کسی ایک فیصلے پر پہنچنے کے لئے سر کھپاتے رہتے ہیں اور رات دن ایک کر دیتے ہیں لیکن ایک مبصر اسے محض بیس ثانیوں میں مسترد کردیتا ہے۔ٹی وی کیوجہ سے حقیقت اور افسانہ کے مابین خطوط دھندلاچکے ہیں اس سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور عوام اس دھندلاہٹ کو قبول کرتے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ (لیڈرز) سے چند اقتباسات شمس مومند رچرڈ نکسن نے ونسٹن چرچل کو اپنے عہد کا سب سے بڑا آدمی قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں اگر انکی قیادت نہ ہوتی تو شاید آج برطانیہ سرے سے موجود ہی نہ ہوتا شایدمغربی یورپ آزاد نہ ہوتا اور امریکہ ایک مخاصمانہ دنیا میں گھرا کوئی جنگ زدہ جزیرہ ہوتا۔ کہتے ہیں کہ ایک بار جوانی میں چرچل نے اپنے دوست سے باتیں کرتے ہوئے کہا ( ہم سب کیڑے ہیں میرا خیال ہے میں بھی۔ لیکن ہوں تو جگنو) آسٹریلیاں کے سابق وزیر اعظم سر رابرٹ منیزیز نے ایک بار اپنا مشاہدہ یوں بیان کیا، کہ چرچل کے جنگ کے دنوں کی تقریریں اس لئے دل میں گھر کر لیتی تھی، کیونکہ انھوں نے اس سچ کو پالیا تھا کہ دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے سے پہلے، مقرر یالیڈر کو خود ان سے متاثر ہونا ہے اس کے دماغ میں ہر بات بہت واضح ہونی چاہیے۔ ایک بار چرچل نے مانچسٹر میں اپنے حلقہ سیاست کے گلیوں میں سے گزرتے ہوئے اپنے معاون سے کہا۔ذرا ان گلیوں میں گزرنے والی زندگی کا سوچو،یہاں دیکھنے کو کچھ بھی خوبصورت نہیں، کھانے کو کچھ بھی کھبی بھی خوشبودار نہیں، اور کہنے کو کچھ بھی کھبی بھی دانشمندانہ نہیں۔ ایک کہاوت ہے کہ اچھی زندگی گزارنا انتقام کا ایک اچھا طریقہ ہے ونسٹن چرچل کا پسندیدہ جملہ تھا کہ ڈر کیوجہ سے گفت و شنید مت کرو، لیکن گفت وشنید کرنے سے بھی مت گھبراو۔ وہ آزاد دنیا سے اپنے حریفوں کے ساتھ مزاکرات پر زور دیتے کہ جہاں ممکن ہو تصادم کو کم کیا جائے۔ شکسپئیر نے لکھا تھا کچھ لوگ پیدائشا عظیم ہوتے ہیں کچھ محنت سے عظمت حاصل کرتے ہیں اور بعض پر عظمت رکھ دی جاتی ہے۔ اپنی طویل زندگی اور کیرئیر میں ونسٹن چرچل نے ان تینوں اقسام کی مثالیں پیش کیں۔ فرانس کے صدر چارلس ڈیگال اپنا ذاتی دوست اور عظیم رہنما قرار دیا ہے ان کے متعلق لکھتے ہیں۔ ڈیگال کا خیال تھا کہ محض اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے (کمزور) متفقہ قیادت کچھ قیادت نہیں ہوتی اور یہ کہ صدر یا وزیر اعظم کو پارلیمان کی قیادت کرنی ہے پیروی نہیں۔( یہ بہت قائدانہ جملہ لکھا ہے کہ لہڈر کو پارلیمنٹ کی قیادت کرنی چاہیے پیروی نہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں جدید پارلیمانی نظام میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہر کام اتفاق رائے سے ہو، اس پر میں دو ہفتے پہلے بھی انہی صفحات میں لکھ چکا ہوں کہ ہر کام کے لئے اتفاق رائے کا ہونا بالکل ضروری نہیں یہ ہمارے اپوزیشن کے سیاسی رہنماوں نے اپنی اہمیت بڑھانے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ورنہ جمہوری طور پر منتخب لیڈر کو اتفاق رائے کی بجائے اپنی قائدانہ صلاحیت کے مطابق اپنے منشور اور عوامی فلاح کو سامنیرکھ کر بروقت اور آزادانہ فیصلے کرنے چاہیے۔) مزید لکھتے ہیںنو آموز لڑکوں اور تجربہ کار مردوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ لڑکے بالے اپنے آپ کو کچھ ثابت کرنے لئے اعلی عہدے لینا چاہتے ہیں جبکہ تجربہ کار مرد کچھ کرنے کے لئے یہ عہدے قبول کرتے ہیں ڈیگال لکھتے ہیں کہ لاتعلقی کے ساتھ ساتھ لیڈر کو اسرار کی خاطر لفظوں ، انداز گفتگو اور طور طریقے کی درستگی درکار ہوتی ہے مزید کہتے ہیں کہ خاموشی سے بڑھکر کسی شے سے حاکمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ڈیگال دنیا کے دوسرے لیڈروں کو اگر کوئی مشورہ دیا کرتے تو یہی کہ آدمی میں پختگی خود انحصاری اور سب سے بڑھکر احساس آزادی ہونا چاہیے۔ اپنے ایک از حد مداح شاہ ایران سے انھوں نے کہا میں آپکو فقط ایک تجویز دوں گا لیکن یہ اہم ہے اپنی تمام توانائی آزاد رہنے پر صرف کردے۔ انیس سو اکسٹھ میں انھوں نے صدر کینیڈی کو وہی نصیحت کی جس پر خود ہمیشہ سے عمل کرتے چلے آرہے تھے۔ ( فقط اپنی آواز کو غور سے سنیے) رچرڈ نکسن لکھتے ہیں( امریکی سیاست میں اعلی عہدے کے خواہش مند حضرات سے میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خواہش کا دل میں ہونا اور شے ہے لیکن ہاتھوں میں خواہش کا ہونا کچھ اور۔لیڈر کے لئے پہلی حالت ضروری اور مخصوص ہے جبکہ دوسری غیر پر کشش اور قابل نفرت ہے، ( رچرڈ نکسن نے تو صرف امریکی سیاست دانوں کو نصیحت کی ہے لیکن کاش کہ اس نصیحت پر دنیا بھر کے سیاست دان سنجیدگی سے توجہ دے۔ کیونکہ ہمارے ہاں تو خواہشات دل اور ہاتھ سے زیادہ ان کی زبان پر ہوتے ہیں۔ اور موقع بے موقع انہی خواہشات کا اتنا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بجائے سننے والوں کو شرم محسوس ہوتی ہے) رچرڈ نکسن لکھتے ہیں برسوں میں مجھے پتہ چلا کہ عظیم راہنماء اپنے ملنے والوں کو بڑے بڑے دفاتر سے متاثر نہیں کرتے۔ سب رہنماوں کے اصول تقریبا ایک ہے کہ جتنا چھوٹا آدمی ہوگا وہ اتنے ہی بڑے دفتر کا مطالبہ کرے گا۔(میرے خیال میں یہ اصول اب صرف دفتر تک محدود نہیں بلکہ بڑی گاڑی ، زیادہ پروٹوکول اور جگہ جگہ خودنمائی کی کوشش بھی لیڈر کو جانچنے کے پیمانے ہو سکتے ہیں) نکسن مزید لکھتے ہیں ِ اگر تجربہ سے یہ حاصل نہیں ہوتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تو کم از کم اس سے یہ واضح ہدایات ضرور مل جاتی ہے کہ ہمیں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم بوڑھے اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ ہم کام کرنا چھوڑ دیتے ہیںہم اپنا آپ کھلا چھوڑدیتے ہیں اور بیٹھے رہتے ہیں وہ لوگ جو ہروقت چرچل آئزن ہاور اور میک آرتھر کی موت کی گھڑیوں کے منتظر رہتے تھے اچھی طرح یاد رکھتے ہیں کہ ان کے جسموں میں کیسا ضدی پن موجود تھا۔ جب ان کا آخری وقت آیا تب بھی وہ بے ہوشی کے عالم میں بھی آسانی سے مرنے کو تیار نہیں تھے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved