سانحہ لاہوراور پھر پشاور
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
گورا چٹا،دراز قدجوان مشینی انداز میں مہمانوں کا استقبال کر رہا تھا ،ہر مہمان سے حال چال پوچھتا ،مصافحہ کرتا اور اسے نشست پر بٹھاکر اگلے مہمان کی طرف بجلی کے کوندے کی طرح لپکتا ،یوں لگ رہا تھا جیسے اُس کے اندر بجلیاں بھری ہوئی ہوں،میںمسلم لیگ ن گلف کے صدر چوہدری نورالحسن تنویر کے ساتھ پولیس کی پروٹوکول گاڑی کے پیچھے رواں مرسڈیز میں بیٹھا عجیب محسوس کر رہا تھا کہ ایک سرکاری افسرکے گھر پُر تکلف دعوت میں جا رہا ہوں ،لیکن اُس خوبرو میزبان پر نظر پڑتے ہی سب احساسات زائل ہوگئے اور میں خود کو ہشاش بشاش محسوس کرنے لگا ،اُس کے نفیس مخروطی انگلیوں والے ہاتھ میں ہاتھ ڈالکر قطعاََ یہ احساس نہیں ہو ا کہ سخت گیر پولیس افسر ہے۔ اُس نے اپنے گھر پُرتکلف بُفہ دعوت کا اہتمام کیا تھا،وہ چاہتا تو کسی بھی چار یا پانچ ستارہ ہوٹل پر اِس سے بڑھ کر انتظامات کرا سکتا تھا ،مگر وہ جانتا تھا ایسا کرنے سے کیا تاثر ابھرے گا ،ہوٹل انتظامیہ بھی کچھ اور امیدیں وابستہ کرلیتی اور ایک نیا کھاتا کھلتا ،مگر اُس نظر شناس و زمانہ ساز پولیس افسر نے کوئی ایسا تاثر نہیں دیا،ہر ایک کو بتا رہا تھا ''میںنے اپنی نگرانی میں ڈشیں تیار کروائی ہیں ،ایک ایک ڈش پر لے جاکر ذائقے کی لذّت دریافت کرتا اور ایک مسرت کی لہر اُس کے رگ وپے میں سرایت کرتی ہوئی صاف نظر آرہی ہوتی،اُس لمحے وہ ایک معصوم بچہ سا محسوس ہو رہا ہوتاجب کوئی مہمان کھانے سے متعلق تعریفی کلمات ادا کر رہا ہوتا۔ بسیار خور ٹوٹے پڑے ہی تھے،پر جو مخصوص اور محدود کھانے والے تھے وہ بھی جی بھر کے کھا لینے میں تامل سے کام نہیں لے رہے تھے۔ یہ ڈی ۔آئی۔جی کپٹن مبین احمد کی دعوت تھی جس کا اہتمام اُس نے اپنے گھر پر کیا تھا ،گلاب چہرا شخص کس محبت اور خلوص کے ساتھ چہکتا، مہکتا دکھائی دے رہا تھا،پھر چوہدری نورالحسن تنویر نے حسبِ عادت لطائف کی پٹاری کھولی تو کپٹن مبین نے بھی اپنی زنبیل سے ڈھیروں پھل جھڑیاں مہمانوں کی حسِ لطافت کی نذر کیں۔ وہ ایک پُر مغز اور معلومات افز ا آدمی تھا،اپنے شعبے کے حوالے سے بات کرتا تو جز اور کل عیاں کرکے رکھ دیتا ۔ اگلے روز ایک ایم پی اے کے گھر پر ناشتہ تھا ،سیاست پربات چل نکلی تو جمہوریت کے حق میں دلائل کے انبارلگا دیئے،فوج سے متعلق بات ہوئی تو پانسہ ہی پلٹ لیا ،کوئی ایسی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ تھاجس میں فوج کی ذرا برابر برائی کا پہلو نکلتا ہو، اُس کا رواں رواں وطن کی محبت سے سرشار تھا،مشرقی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے سخت رائے رکھتا تھا۔ میری اس سے دو ہی بھر پور ملاقاتیں تھیںاور دونوں ایسی کہ جیسے برسوں کی شناسائی ہو،اپنائیت اتنی کہ گھائل کر دینے والی،پھر فون پر دو چار بار گفتگو ہوئی ،وہی چاہت ،وہی دل لگی،صدیوں کا سفر چند گھنٹوں میں سمیٹ لینے والے خوبصورت و دلکش آدمی نے زندگی کا سفر بھی چند ساعت میں طے کر لیا۔چیرنگ کراس پر کھڑی موت نے کس بے رحمی سے اس پر جھپٹا مارا اور پَل میں اچک کر لے گئی۔ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور قرنوں تک دلوں میں دھڑکتے ہیں ۔ حادثاتِ زمانہ کو کون روک سکتا ہے ،ہاں مگر یہ حادثہ ایسا نہیں جسے ملکی صورتِ حال کے معمول کا واقعہ قرار دیکر بھلا دیا جائے ،پنجاب سرکار کو کئی روز پہلے الرٹ کر دیا گیا تھاکہ کچھ ہونے کے آثار نظر آتے ہیں مگر خادم اعلیٰ نے تو جیسے یہ تصور کر لیا ہو کہ اپنی راج دھانی کے گر د آہنی دیوار کھڑی کر لی ہے اور یہاں کچھ نہیں ہونے والا،کامرہ پولیس سنٹر پر حملہ کی فائل کس اندھیر ے کونے کی نذر ہوئی،چلیں بلوچستان،کے پی کے،سندھ اور گلگت بلتستان میں پولیس والوں پر گرنے والے موت کے پہاڑآپ کا مسئلہ نہ سہی پنجاب تو آپ کا اپنا ہے پھر اِس کے ساتھ اتنی بے نیازی کیوں ؟ پی ایس ایل کافائنل لاہور میں کرانے کی اتنی بڑی قیمت ! ہمیں ایسا خونی کھیل نہیں چاہیئے جو ہم سے ہمارے پیارے چھین لے ،ہمارے گھروں کے اُجالے سلب کر لے، ہمارے بچوں کو یتیم کر دے، ہماری بیٹیوں کے سروں کے سائبان اُڑا لے جائے،فاطمہ جو گھر سے اپنی شادی کا سامان لینے کے لئے گئی تھی وہ قبر کی دلہن جا بنی اور بلال امجد جو اپنی شادی کے کارڈ تقسیم کرنے کے لئے گھر سے رونہ ہوا تھا اس کے خوشیوں والے آنگن سے منہدی کے گیتوں کی بجائے نوحوں کی سدائیں آرہی ہیں ،ایکشن پلان پر انگلیاں نہ اٹھیںتو اور کیا ہو ،آخری دہشت گرد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا دعویٰ کرنے والے لگتا ہے ابھی پہلے دہشت تک بھی پوری رسائی حاصل نہیں کر سکے ایسا ہوتا تو اربوں روپے خرچ کر دینے کے باوجود مائوں کی گودیں کیوں اُجڑتیں ،سہاگنوں کے سہاگ کیوں لٹتے،بہنوں کے ویر کیوں بچھڑتے۔ مبین احمد اپنے بچوں سے ٹوٹ کر محبت کرتا تھا اس کی زبان ہر وقت اپنی بیٹیوں اور بیٹے کے ذکر سے سرشار رہتی ،کیا بنے گا اُن بچوں کا اس کی محبت کرنے والی بیوہ کا،ایس ایس پی زاہد گوندل کے بچوں کا کیا بنے گا،شاید حکومت انہیں اتنا دے دے کہ ان کا معاشی مسئلہ کوئی نہ رہے مگر باپ کی شفقت کہاں سے لائیں گے،ساری عمر ماںکے کندھے پر سر رکھ کر خود بھی روئیں گے ،ماں کو بھی رولائیں گے۔ ابھی سانحہ لاہور کا نوحہ مکمل نہیں ہوا،ابھی چیرنگ کراس پر پڑا شہیدوں کا لہو خشک نہیں ہوا کہ پشاور کے درو دیوار میں کہرام مچ گیا ہے ایک اور نوحہ لکھنے کا وقت آیا ہے مگر میں کیسے لکھوں کہ تجھ کو کتنوں کا لہو چاہئے اے ارضِ وطن جو ترے عارضِ گل رنگ کو گل نار کرے کتنی آہوں سے کلیجہ تیرا ٹھنڈا ہو گا ؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved