ڈانٹ ڈپٹ اور عملاً کچھ نہیں!!
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
مہذب جمہوری ممالک میں عدالتوں کا وجود انتظامیہ کی مطلق العنانی کے آگے بند باندھنے کیلئے ہوتا ہے تاکہ حکمران بادشاہ بننے سے گریز کریں۔ عدالتیں فیصلے دیتی ہیں اور حکمران سر جھکا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ پیش بندی کرتے ہوئے ججوں کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہیں اور عدالتی کمیشن کے فیصلے کو نہیں مانتے جب وہ ان کے خلاف ہو۔ بروز بدھ عدالت عظمیٰ میں پانامہ پیپرز کے مقدمے کی سماعت کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے دہشتگردی کے ایک مقدمے کی سماعت کی جس کے دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کہ وزارت داخلہ کوئی کام نہیں کر رہی' عدالت کا کہنا تھا کہ لاہور بم دھماکے میں وہی کالعدم تنظیم ملوث ہے جس کے بارے میں کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی۔ وزیر داخلہ نے رپورٹ کے بخیے ادھیڑنے میں جتنی توانائی صرف کی اگر وہ اس رپورٹ کی روشنی میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کے قلع قمع پر اس سے کم انرجی صرف کرلیتے تو شاید لاہور سانحہ سے بچا جاسکتا تھا۔کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ نے واضح الفاظ میں وزارت داخلہ کی ناقص کارکردگی کا کچا چٹھا بیان کیا لیکن وزیراعظم نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ حیرت انگیز طور پر حکومت نے اس رپورٹ کے خلاف عدالت عظمیٰ جانے کا عندیہ دیا۔ یہ مائنڈ سیٹ عجیب و غریب ہے ۔ قبل ازیں ہم جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کا حشر نشر دیکھ چکے ہیں۔ کرہ ارض نے کیا کیا حکمران نہ دیکھے ہونگے لیکن شریف برادراز جیسے حکمران اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ لوگ کسی واقعہ کی صاف شفاف تحقیقات کا برملا اعلان کرتے ہیں اور آئو دیکھا نہ تائو جھٹ سے جیوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ جب اپنے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ اپنے خلاف آجاتی ہے تو اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور ججوں کی ساکھ کی پرواہ کئے بغیر ان کے بارے میں ن لیگ کی قیادت کے کارندے اول فول باتیں کرتے ہیں۔ جسٹس باقر نجفی کے بارے میں رانا ثناء اللہ و دیگر ن لیگیوں نے جو کچھ کہا وہ سب ریکارڈ پر موجود ہے ۔ وزیر داخلہ نے جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر جس طرح اپنا ردعمل دیا وہ دنیا کے کسی مہذب ملک میں کیا دیا جاسکتا تھا؟ پانامہ پیپرز کے مقدمے میں وفاقی وزراء جو لب و لہجہ استعمال کر رہے ہیں اور جیسے معزز ججوں کی تضحیک و توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ ساری قوم کے سامنے ہے۔ ایک وفاقی وزیر جنہیں ان کی مہم جو طبعیت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مشرف دور میں پارٹی پوزیشن سے سائیڈ لائن کر دیا تھا اور جن پر یہ الزام لگا کر پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی کہ وہ متوازی پارٹی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے عدلیہ کے معزز جج صاحبان پر ایسے جملے کس رہے ہیں کہ جن سے تضحیک کا کھلم کھلا اظہار ہوتا ہے۔ عدالت کی آبزرویشن آئی کہ وزیراعظم صاحب کی زندگی کی کتاب میں سے چند صفحات غائب ہیں' اس پر صاحب ایسے سیخ پا ہوئے کہ جج صاحب کو اشارے کنائیے میں کھری کھری سنا دیں۔ کہا نواز شریف کی زندگی کی کتاب مکمل ہے آپ کو پڑھنا نہیں آتی تو اس میں نواز شریف کا کیا قصور ہے ن لیگ وضاحت کرتی رہی اور خود وفاقی وزیر بھی بعدازاں لفظوں کے گورکھ دھندے میں میڈیا کو الجھانے کی ناکام کوشش کرتے رہے لیکن معزز عدالت نے وفاقی وزیر کے بیان کا یہ کہہ کر نوٹس لیا کہ یہ الفاظ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں کہے گئے ہیں۔ خدا جانے مسلم لیگ (ن) اعلیٰ عدالتوں سے الجھنے کی اپنی روایت کب بدلے گی' ماض میں مسلم لیگ (ن) پر الزام لگا کہ اس نے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس الزام کا انکار کرتی آئی ہے لیکن امر واقعہ ہے کہ عدلیہ پر حملہ میں ملوث سمجھے جانے والے لیگی قائدین و کارکنان کی باز پرس ہوئی اور نہ ان کو پارٹی عہدوں سے ہٹایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا پارٹی آئین کہتا ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہ ہو۔ وہ پارٹی کا عہدیدار نہیں بن سکتا لیکن اس کے باوجود وہ لوگ شہر ضلع اور صوبے کے عہدیدار بنے بیٹھے رہے جو عدالت عظمیٰ حملے کے مقدمے میں نااہل ہوئے تھے۔ آج اگرچہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ان لوگوں کی اہلیت کا معاملہ طے پاچکا تاہم یہ عجیب سا لگتا ہے کہ پارسائی کی دعویدار مسلم لیگ (ن) ایسے افراد کو پارٹی عہدوں کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدوں سے بھی نوازے۔ جو لوگ سپریم کورٹ حملہ کیس میں نااہل ہوئے۔ ان میں سے ایک آج سینیٹر ہیں جبکہ دوسرے چیئرمین بن چکے ہیں۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی توقیر کو اس طرح کیا دھچکا نہیں لگتا؟ ایک قومی سطح کی جماعت جو اپنے تئیں خود کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتی ہے اگر وطن عزیز کے اعلیٰ اداروں کے احترام کو یوں پس پشت ڈالے گی اور اس کو ثانوی اہمیت دے گی تو پھر اناللہ و اناالیہ راجعون پڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved