ہم نے عزت' ذلت کا معیار بدل دیا ہے
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ''خدا تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرتا ہے جس کے خوف سے لوگ اس کی عزت کرتے ہیں'' قرآن مجید کے مطابق عزت کا معیار اس سے مختلف ہے جو ہمارے معاشرے میں مروجہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں معاشرے کا عزت دار شخص وہ ہے کہ جس کے پاس شاندار بنگلہ ہے' بڑی گاڑی ہے' کئی مربع زمینوں کا مالک ہے یا کوئی بڑا عہدے کا حامل ہے جبکہ اسلام اس کی نفی کرتاہے بلکہ اس بارے میں وعید سناتا ہے اور بالخصوص لوگوں کے دلوں میں اپنی دولت او ر عہدے کا رعب ڈال کر خودساختہ معزز کہلوانے والوںکے بارے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسلام کا معیار تقویٰ ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے ''تم میں سے عزت دار وہ ہے جو تم میں سے زیادہ صاحب تقویٰ ہے۔'' اس آیت میں قرآن نے کہیں بھی لفظ امیر یا غریب استعمال نہیںکیا۔ متقی ہونا شرط ہے ' متقی شخص کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ امیر بھی اور غریب اور نادار شخص بھی۔ مگر ہمارے ہاں بالخصوص مالدار' دنیا دار کو فوقیت ملتی ہے و ہ جس محفل میں جائیں' استقبال کرنے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ وہ اگر ظلم اور زیادتی کریں تو معاشرے کے محروم اور غریب طبقے کو ان کا ظلم سہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ وہ اگر جھوٹ بھی بولیں تو سچ مانا جاتا ہے وہ اگر کسی کے ساتھ زیادتی کریں تو عین عدل قرار پاتا ہے۔ کسی کا حق چھین لیں تو جواب طلبی نہیں ہوتی۔ اس کی بے عزتی کر ڈالیں تو اسے امیر طبقے کے مزاح کا نام دیا جاتا ہے مگر اس کے مقابلے میں کسی بھی معاشرے کے محروم ' غریب' نادار' مزدور اور چھوٹے طبقے کے لوگوں کو احترام دینے کا تصور بھی ختم ہوچکا ہے۔ معاشرے کے نیک اور متقی لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ معاشرے کا یہ محروم طبقہ بھی قسمت کا لکھ سمجھ کر اسے قبول کرچکا ہے کہ ہماری کوئی عزت نہیں ' عزت دار تو محض مخصوص لوگ ہیں جو صاحب ثروت اور صاحب اقتدار ہیں۔ دراصل ہمارا پورا معاشرہ اس گمراہی میں غرق ہوچکا ہے۔ ہر صاحب ثروت خود کو پیدائشی معزز سمجھتا ہے اور حق سمجھتا ہے کہ میری عزتکی جائے جبکہ غریب اور معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ان نام نہاد معززین کی عزت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ آپ معاشرے پر نگاہ دوڑائیں آپ کو جابجا اس کے مظاہرے ملیں گے۔ بڑی گاڑی والا' چھوٹی گاڑی والے کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے۔ چھوٹی گاڑی والا ' موٹر سائیکل والے کو اور موٹر سائیکل والا سائیکل والے یا پید ل چلنے والوں کو' اسی طرح صاحب اقتدار ایک عام کونسلر سے ایم این اے تک اور ایم این اے سے وزیراعظم تک ہر ایک اپنے تئیں فرعون کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپنے سے کم مرتبہ یا عام شہری کو ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کرتے اور اسی امید پر رہتے ہیں کہ میری عزت کی جائے اور اگر کسی کے بارے میں گمان ہو کہ اس نے میرا احترام اس انداز میںنہیں کیا جس میں حق رکھتا ہوں تو سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی حال دفتروں خصوصاً سرکاری دفاتر کا ہے۔ ان دفاتر میں آپ کو ہر کمرے میں فرعون کی نمائندگی کرنے والا ملے گا جس کے پاس ذرا برابراختیار ہوگا وہ اپنے اسی اختیار کو ہر حال میں استعمال کرنے کی خواہش رکھتا ہوگا۔ چپڑاسی سے سیکرٹری تک ہر ایک اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرتے ہوئے سائیلین کے ساتھ بدمزاجی اور غیر دوستانہ رویہ رکھے گا۔ بعض افسران اس لئے اپنے ماتحت عملے کے ساتھ بدمزاجی اور برا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کی خام خیالی ہے کہ اس طرح عملہ اس کی عزت کرے گا۔ وہ گالیاں بکتے ہیں' بدمزاجی سے پیش آتے ہیں۔ بظاہر وہ اپنے اس خام خیالی کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں یعنی لوگ ان کے شر سے بچنے کے لئے ان کی عزت کرتے ہیں۔ احترام دیتے ہیں۔ وہ جہاں سے گزرتے ہیں راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہر ایک گزرتے ہوئے افسر کو سیلوٹ کرتا ہے مگر درحقیقت ایسے صاحبان اقتدار کے لئے اللہ تعالیٰ کی لعنت برس رہی ہوتی ہے اور جیسے ہی یہ فرعون صفت افسران اپنے عہدے یا کرسی سے علیحدہ ہوتے ہیں وہی ملازمین انہیں عزت و احترام دینے کی بجائے انہیں سرعام برا بھلا کہتے ہیں۔ مگر یہ فرعون صفت افسران اور معاشرے کے طبقہ امراء اس بات کو نہیں سمجھتا حالانکہ اگر یہی لوگ اپنے ماتحت عملہ کو محبت دیں' ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں' خوش مزاجی سے پیش آئیں تو ادارے کی کارکردگی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے افسران کی عزت واحترام میں دوام اور خلوص بھی ہوگا۔ جب ہم مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے حقیقی معیار کو الٹ دیا ہے معززین کو ذلیل اور پست صفات کے حامل طبقہ کو معزز اور صاحب عزت کا درجہ دے دیا ہے تو گویا ہم نے خود ہی ذلیل و رسوا ہونے کا فیصلہ کرلیاہے اب معاشرے کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص معاشرے کا ''معزز'' شہری بننے کے چکر میں ہے۔ ہر ایک راتوں رات امیر بننے کی دوڑ میں شامل ہوچکا ہے۔ شارٹ کٹ کی تلاش میں ہر شہری برے سے برے راستے کو اختیار کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میرے پاس دولت کی ریل پیل ہو' بڑی شاندار گاڑی ہو' خوبصورت بارعب بنگلہ ہو تاکہ اس کا شمار معززین شہر میں ہوسکے۔ مگر کوئی بھی متقی نہیں بننا چاہتا۔ ہم نے اسلام کے دیئے ہوئے عزت کے معیار کو پلٹا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بدعنوان' کرپٹ' مال و دولت کے پجاری ہوا' ہوس کا شکار ''اشرافیہ'' ہم پر حکمران ہے اور معاشرے میں بدامنی' بے سکونی' راہزنی' چوری' قتل و غارت اور نجانے کیسے کیسے جرائم کارواج عام ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved