عظیم ہیرو یا ڈاکو، لٹیرا۔۔۔؟
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کشمیر کے شہیدقومی ہیروز کو ڈاکو ، لٹیرا قرار دینا بھارت کا سرکاری موقف رہا ہے۔ بھارت نے شہید مقبول بٹ، افضل گورو سمیت لاکھوں شہداء کو چور ڈاکو، دہشت گرد قرار دے کر ہمیشہ ایک قوم کی توہین کی۔ انہوں نے اقتدار، کرسی، مراعات کے لئے جانیں نہیں دیں۔ انہوں نے اپنا آج ، کشمیر کے کل پر قربان کیا۔ اس پر وہ نادم نہیں ہوئے بلکہ فخر کیا۔ ان کے خاندان نے بھی ا کی شہادت پر فخر محسوس کیا۔ کشمیر کی نئی نسل نے یہ راستہ سوچ سمجھ کر چنا۔ کسی نے ان پر دبائو نہیں ڈالا، کسی نے انہیں بندوق کی نوک پر یہ کام نہیں کرایا۔ کسی لالچ،حرص نے انہیں اس جانب متوجہ نہیں کیا۔ کے ایچ خوشید ایک عظیم کشمیری تھے۔ پاکستان کو قائم کرنے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ قائداعظم نے خود اس کردار کو تسلیم کیا اور اس کا اعتراف بھی کیا۔ کئی مواقع پر قائد نے فرمایا کہ پاکستان قائم کرنے میں ان کے اسسٹنٹ(کے ایچ خورشید)اور ان کے ٹائپ رائٹر کا ہاتھ ہے۔ یہ ایک کشمیری کی قیام پاکستان میں خدمات اور کردار کا کھلا اعتراف ہے۔ لیکن کے ایچ خورشید کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ سازشیوں اور ضمیر فروشوں نے انہیں دلائی جیل میں ڈلوا دیا۔ وہ بڑے قومی ہیرو تھے۔ مگر تعصب اور بد تیتی نے انہیں بھی غدار قرار دلا دیا۔ مگر وہ بے داغ اور بڑے لیڈر تھے۔ ان کو رسوا کرنے والے خود ہی رسوا ہو گئے۔ قومی تحریکیںانا پرستی ،خود فریبی ،تعصب یازاتی مفاد کے حامل عناصر کی مرہون منت ہوں تو قیامت تک کامیابی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مخصوص نعروں سے ایک قوم کو گمراہ کرنا کتنا آسان ہے۔ مگر دوسری طرف اپنا خون، عصمت، پاکدامنی، مال و جان دے کر اپنی محبت و لگن کا اظہار کرنے والوں کو کس طرح مکھن سے بال کی طرح نکالنے کی کوشش کی گئی۔ یہی کے ایچ خورشید جب کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے کوچ کر گئے تو ان کی جیب میں چند روپے ، بیگم ثریا خورشید کے مطابق 32(بتیس) روپے تھے۔ زندگی بھر کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ آج بھی ان کی بیگم لاہور میں مقیم ہیں۔ 11 فروری مقبول بٹ شہید کا یوم شہادت تھا۔ اسی دن بھارت کی بدنام زمانہ جیل تہاڑ میں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ برطانیہ میں ایک بھارتی سفارتکار مہاترے کے قتل کا الزام مقبول بٹ پر ڈال دیا گیا۔ بغیر کسی ثبوت کے انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ بھارتی عدلیہ سرکاری الزامات کو درست قرار دے کر انصاف کی فراہمی میں شہرت رکھتی ہے۔ اسے ٹھوس شواہد اور حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبول بٹ کو ڈاکو ، لٹیرا بھارت قرار دیتا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں جب مقبول بٹ کا یوم شہادت منایا جا رہا تھا۔ آزاد کشمیر کے ایک سینئر سیاستدان، مسلم لیگ ن رکن اسمبلی، مشیر حکومت خان بہادر خان(کے بی خان)نے انہیں ڈاکو لٹیرا قرار دے دیا۔ یہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی موجودگی میں ہوا۔ خیال تھا کہ قومی ہیرو کے خلاف نا زیبا الفاظ بیان کرنے اور شہداء کی توہین کرنے پر مذکورہ مشیر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ایسا کچھ نہ ہوا۔ افسوس ہے بعض لوگ سستی شہرت کے لئے بلا وجہ قوم پرستی کو بدنام کرتے ہیں۔ مقبول بٹ صرف قوم پرستوں کے لیڈر نہ تھے بلکہ انھوں نے موجودہ تحریک کو جلا بخشی۔ نوجوانوں کو تحریک کی جانب راغب کیا۔ آزادی کا مفہوم سمجھایا۔ شہید ہو کر امر ہو گئے۔ کیوں کہ شہید زندہ ہیں۔ ان کا مشن زندہ ہے۔ سوال کسی الحاق یا خود مختاری کا ہر گز نہیں۔ اسلام میں کوئی سرحد نہیں۔ یہ سرحدیں انسانوں نے اپنی حکمرانی، ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجد کی تعمیر کے تناظر میں قائم کی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کو ایک ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ ایک دوست اور وکیل ہے ،دوسرا قابض اور جارحیت پسند دہشت گردہے ۔ جس نے کشمیریوں کے خون کے دریا بہا دیئے ہیں۔ ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ پاک فوج کشمیریوں کی دوست ہے۔ بھارتی فوج قاتل فوج ہے۔ یہ 1989سے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر چکی ہے۔ اس کی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ وہی لوگ اور ان کے ہی دوست احباب ہیں جنھوں نے کے ایچ خورشید مرحوم جیسے عظیم لیڈرز کو غدار قرار دلا کر دلائی جیل میں بند کرا دیا تھا۔اگر بیس کیمپ کا کوئی مشیر وزیر عمر رسیدہ ہو چکا ہے، اسے گالم گلوچ تک کا حوش نہیں۔ یا وہ اپنے حواس کھو چکا ہے، اسے معلوم نہیں ، وہ کیا گل کھلا رہا ہے تو اسے اس مظلوم قوم پر مسلط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا آزاد کشمیر کے وزیراعظم کشمیریوں کے شہید ہیروز کی توہین کرنے والے وزیروں مشیروں کو تحفظ دے کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید ایسا نہ ہو۔ مگر اقدام بولتے ہیں ۔ دیکھنا یہ کہ مقبول بٹ شہید کو گالیاں دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔ انہیں کیا سزا دی جائے گی۔ شہداء کے نام پر عیش و عشرت کرنے اور ان کے مقدس خون پر پلنے والے ہی اگر آزادی پسند قوم کی توہین اور تذلیل شروع کر دیں تو دیگر سے کیا شکایت یا گلہ کیا جا سکتا ہے۔باڑ ہی فصل کو کھانے لگے تو پھر انجام کیا ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved