دھرتی اتے کال او ربا دھرتی اتے کال کتے گواچیاں چنیاں ،تے کتے نہ دسن لا
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ٍ حضرت لعل شہباز کا دربار گزشتہ رات خون سے لال کر دیا گیا،قلندرانہ دھمال ڈالتے مستوں سے بھرا مزار مقتل بن گیا ۔حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش کا مزار پر انوار ہو، سخی سرور ، شاہ نورانی یا پھر پنج پیر کے آستانے ، بری امام، عبداللہ شاہ غازی یا لعل شہباز قلندر یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں دین اسلام کی ترویج کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو محبت اور امن کا درس دیتی رہیں اور اب بھی ان کے مزار لوگوں کے لئے باعث رشدو ہدائت ہیں۔پاکستانی جب بھی سکون کا سانس لینا شروع کرتے ہیں ، ملک میں امن اور ترقی کے کسی نئے دور کاآغاز ہوتا ہے تو اسے پھر دشمن کی نظر لگ جاتی ہے۔ حکومت دعویٰ کرنا شروع کرتی ہے کہ اس نے ملک میں امن قائم کردیا ہے تو دہشت گرد پھر سے کارروائیاں کرکے ان کے دعوں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ گزشتہ پانچ روز میں آٹھ دھماکے ہوچکے ہیں ، جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا تھا تو سیاہی پھر لہورنگ ہورہی ہے۔ ابھی ابھی سیہون شریف سے انتہائی اندوھناک خبرآئی ہے کہ حضرت لعل شہباز قلند کے دربار میں ان کی محبت میں جانے والے نہتے اور پرامن لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے ۔اپنے پیرو مرشد کی محبت سے سرشار لوگ صوفیانہ دھمال ڈال رہے تھے وہ کسی کا کیا بگاڑ رہے تھے۔ سانحہ مال روڈ کے بعد ملک میں ایک دفعہ پھر سے آواز اٹھنا شروع ہوگئی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا جا رہا ، پنجاب میں فوجی آپریشن کیوں نہیں کیا جارہا ؟ کیاوجہ ہے کہ کراچی میں امن قائم کرنے والی رینجرز پنجاب میں ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں فوری طورپر مزید سختی لانے اور اس جنگ کو منطقی انجام کی طرف لے جانے کے دوٹوک عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہاں بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ابھی بھی دہشت گردی کے خلاف مزید سختی کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ دوسری طرف شاید امن کے دشمنوں نے اپنی کارروائیاں سخت اور تیز کردی ہیں۔ ابھی وزیراعظم صاحب کا پیغام آیا ہے کہ ملک کے ایک شہری پر حملہ پورے ملک پر حملہ ہے انہیں یہ بھی کہنا چاہیے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب میں بلاتفریق فوجی ایکشن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا ۔دوسری طرف آرمی چیف نے بھی کور ہیڈ کوارٹر میں انتہائی اعلیٰ سطح کے سکیورٹی اجلاس کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں ان کے مالی مددگاروں ، منصوبہ سازوں اور باہر سے مدد دینے والوں کو ملک بھر میں تلاش کرکے نشانہ بنایا جائے گا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ان بیانات اور موجودہ اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب میں بھی انٹیلی جنس اداروں کی رہنمائی و معلومات کی روشنی میں رینجرز اور فوج بھرپور طریقے سے آپریشن کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک میں ساری جماعتوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔اسی سلسلے میں مالاکنڈ، سوات ، خیبر ایجنسی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے نو گو ایریا بننے والے علاقوں میں کئی بڑے آپریشن ہوچکے ہیں۔ بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوتے رہے ہیں۔ پاک فوج اور اس کے ذیلی اداروں نے جہاںجہاں آپریشن کیا وہاں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مگر کچھ ایسے امور بھی ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری کاوشوں کے درمیان کوئی ایسا رخنہ پایا جاتا ہے جہاں سے یہ دہشت گردفائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ نکتہ سب ہی کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ نائن الیون کے بعد جب اتحادی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو انہوں نے القاعدہ جنگجوؤں اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد کو پاکستان میں داخل ہونے کا موقع دیا جن کو طویل و پیچیدہ سرحد پر روکنا پاکستان کی کم وسائل کی حامل محدود نفری کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ بعد میں پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ اب پاک فوج بڑی حد تک دہشت گردوں کی بیخ کنی کرچکی ہے تو ایک طرف بھارت مختلف راستوں سے اپنے ایجنٹ پاکستان بھیج رہا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں ملا فضل اللہ جیسے لوگ اور ان کے بھیجے ہوئے خود کش بمباروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز لاہور میں رونما ہونے والے واقعہ کے جن ذمہ داروں کا سراغ لگا یا گیا اور گرفتاریاں ہوئیں ان میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ لہذا ایک جانب افغانستان سمیت پڑوسی ملکوں کے ساتھ ایسا نظام بنانا ضروری ہے جس سے دراندازی روکنے میں مدد ملے دوسری طرف نئی دہلی سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ اس کے دیرینہ مذموم ہتھکنڈوں سے چوکنا رہنے کی بھی ضرورت ہے ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد اسی طرح ہماری افواج کے سربراہ اور وزیر اعظم سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بیٹھ کر ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پہلی دفعہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک نیشنل ایکشن پلان بنایا جس پر ایک طرف فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں نے عملدرآمد کرنا تھا تو دوسری طرف وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ۔ آغاذ میں تو حکومت کی طرف سے چھوٹی موٹی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا جس میں کسی سی ڈی سٹور پر چھاپہ مار کراسے سیل کرنا یا کسی اجتماع میں نفرت انگیز تقریر کے خلاف کارروائی کرنے کا معاملہ تھا لیکن نیشنل ایکشن پلان کا سب سے اہم جزو یہ تھا کہ پنجاب میں عسکریت پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس کویقینی بنایا جائے۔ اس پر آج تک(باقی صفحہ5بقیہ نمبر2) عمل نہیں ہوسکا بلکہ بلوچستان، کے پی کے اور کراچی میں رینجرز اور آرمی کے آپریشن کے مثبت نتائج کے باوجود پنجاب میں ابھی تک نیشنل ایکشن پلان کو شائد سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ پورے ملک کی پولیس نے کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی قربانیاں دیں ہیں لاہورکی تاریخ کے پہلے خودکش دھماکے میںجی پی او کے مقام پر وکلاء کو سکیورٹی فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروںکو نشانہ بنایا گیا تھا اورمال روڈ پر ہی ہونے والے آخری دھماکے میں بھی پولیس کے جری افسران کو نشانہ بنایا گیا ۔ سلام ہے پولیس کے بہادر جوانوں کو جو اپنے مسمم ارادے کے باعث بے ساز و سامان اور پیشہ ورانہ مہارت ان دہشت گردوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو سیاست سے آزاد کیا جائے اور 2002کے پولیس آرڈر کو مکمل طور پر لاگو کیا جائے ۔پولیس کو وی آئی پی ڈیوٹیز سے آزاد کیا جائے رائیونڈ، ماڈل ٹاؤن سمیت دیگر محلات اور تمام رشتے داروں کی سکیورٹی سے پولیس کو نجات دلائی جائے لاہور کی تقریباً تمام ایلیٹ فورس تو حکمرانوں اور ان کے رشتے داروںکو سکیورٹی فراہم کرنے پر معمور ہے اسی طرح لاہور میں بہت سے نوگو ایریاز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔کیا صرف حکمرانوں کی جانیں ہی قیمتی ہیں؟ پنجاب میں کے پی کے کی طرز پر پولیس کی آزادی اس وقت بہت ضروری ہو چکی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کے پی کے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے لیکن اس کے باوجود پولیس کی سیاسی مداخلت سے آزادی کے بعد سکیورٹی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے اور وہاں پر بھی سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے لیکن کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے دامادوں اور بچوں کو علیحدہ علیحدہ سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے ۔پولیس کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے مقابلے میں قربانیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنی ایس او پیز پربھی عمل کرے۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر دہشت گردی پر مجھے معروف دانشور شائستہ نزہت کی ایک نظم یاد آ رہی ہے جس کا ایک شعر تو میں نے کالم کے عنوان کے طور پر دیا ہے ایک اور یہ ہے۔ دکھا ں دی اس کھیڈ دا تھاں تھاں ہویا راج سدھراں ہاڑا پاندیاں تے رو رو مارن واج کالم

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved